’میری عمر 90 سال ہے اور میں 50 سال سے اسرائیل میں رہ رہی ہوں، اس دوران میں نے دیکھا ہے کہ۔۔۔‘ 90 سالہ یہودی خاتون نے ہی اسرائیل کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا، ایسی حقیقت بتادی کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی

’میری عمر 90 سال ہے اور میں 50 سال سے اسرائیل میں رہ رہی ہوں، اس دوران میں نے ...
’میری عمر 90 سال ہے اور میں 50 سال سے اسرائیل میں رہ رہی ہوں، اس دوران میں نے دیکھا ہے کہ۔۔۔‘ 90 سالہ یہودی خاتون نے ہی اسرائیل کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا، ایسی حقیقت بتادی کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی

  

تل ابیب(نیوز ڈیسک) کیسی دردناک بات ہے کہ فلسطین کے نہتے عوام پر اسرائیل کے مظالم پر مسلم ممالک نے تو گویا چپ سادھ لی ہے مگر یہ ظلم اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ اب اسرائیل کے اندر سے بھی اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ نوے سال کی ضعیف اسرائیلی سماجی کارکن بھی ایک ایسی ہی مثال ہے، جو خود کمزور و ناتواں ضرور ہے مگر اہل فلسطین کے حق میں اس کی آواز بہت توانا ہے۔

دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق یہ اسرائیلی خاتون گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی ہی حکومت کے خلاف غیر معمولی ہمت سے لڑ رہی ہے اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف عملی جدوجہد کر رہی ہے۔ اپنی اس شاندار جدوجہد کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس خاتون نے بتایا ”جب 1967ءکی جنگ ہوئی تو میرے خاوند فوج میں تھے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد ہم نے اسرائیل میں ہی قیام کیا جو اس وقت ایک نوزائیدہ ریاست تھی۔ اس وقت ہر کوئی فتح پر خوش تھا اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آنے والا دور کیسا ہوگا۔ ان دنوں فلسطینیوں کی زمین پر قبضے کی بات سنائی نہیں دیتی تھی، نہ کہیں دیواریں نظر آتی تھیں اور نہ کہیں چیک پوسٹیں ہوتی تھیں۔

لبنان کی پہلی جنگ کے دوران میرے تین بیٹے فوج میں تھے اور ان کی زبانی پہلی بار مجھے صورتحال کا صحیح طور پر کچھ اندازہ ہونا شروع ہوا۔ آہستہ آہستہ میں اصل حالات سے آگاہ ہوتی چلی گئی اور یہ 2001ءکی بات ہے کہ جب پہلی بار میں نے محسوس کیا کہ حقیقت میں حالات کیا ہیں۔ میرے لئے یہ حیران کن تھا کہ میرا ملک کس پیمانے پر فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کرچکا تھا اور میں اس پر شدید غصے میں تھی۔ پہلے تو میں نے چیک پوسٹوں پر جانا شروع کیا جہاںمیں دیکھتی تھی کہ اسرائیلی کیا کررہے ہیں۔ یہاں سے پہلی بار میں نے دوسری جانب دیکھا اور اس جانب کا منظر دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا۔

جب میں مغربی کنارے کے دیہاتوں میں گئی تو وہاں فلسطینیوں کی حالت زار دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا۔ وہ بتاتے تھے کہ اسرائیل نے ان کی زمینوں پر قبضہ کرلیا ہے اور انہیں اپنے ہی کھیتوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ان پر تشدد بھی کیا جاتا تھا اور انہیں اپنے ہی گھروں میں قید بھی کیا جاتا تھا۔ ان کے حالات دیکھ کر میں نے سوچا کہ اسرائیلی قبضے کے خلاف آواز اٹھانا کافی نہیں بلکہ کچھ اس سے بڑھ کر بھی کرنا ہوگا۔

ہم چند خواتین تھیں جنہوں نے ’یش ڈین‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ یہ ان چند غیر سرکاری فلاحی تنظیموں میں سے ایک تھی جو ہماری اسرائیلی حکومت کے غیر قانونی اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جواب طلب کرتی تھی۔ شروع میں ہم نے ابراہیم نامی ایک فلسطینی کی مدد کے لئے مہم چلائی اور بالآخر طویل کوشش کے بعد اسے اس کی زمین واپس دلانے میں کامیاب ہوئے۔ پھر ہمیں ایک بیوہ خاتون کے بارے میں پتہ چلا جس کی زمین پر یہودی آبادکاروں نے قبضہ کرلیا تھا۔ ہم نے اس کے لئے بھی قانونی جنگ لڑی اور اسے بھی اس کا گھر واپس دلایا۔

گزشتہ تین سال کے دوران ہم نے فلسطینیوں کے حقوق کے لئے 1122 شکایات درج کروائی ہیں۔ اسرائیلی سپریم کورٹ میں ہم نے 64 فلسطینیوں کا کیس لڑا ہے۔ میں یہ جنگ جاری رکھوں گی کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جب تک فلسطینیوں کی زمین پر اسرائیل کا قبضہ ہے تب تک امن نہیں آسکتا، نہ ہی فلسطینیوں کے لئے اور نہ ہی اسرائیل کے لئے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی