ہمالیہ والا نظریہ یا این آراو والا نظریہ،کس کے قدم بھاری

ہمالیہ والا نظریہ یا این آراو والا نظریہ،کس کے قدم بھاری

 

پاکستان میں دو سازشی  نظرئیے بڑے معروف ہیں ۔ایک ہمالیہ والا دوسرا این آر او والا ۔دونوں میں سے کسی ایک کو جیتنا ہوتا ہے تبھی جیو اور جینے کی سبیل پیدا ہوپاتی ہے ۔ ان دونوں نظریات کے پیچھے مفروضیاتی سیاست ،سازشوں،ہرزہ سرائی کا بڑا اہم رول نظر آتا ہے ۔ بھٹو کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا جارہا تھا تو اس وقت  ہمالیہ والا نعرہ لگایا گیا ۔۔۔کہ قائد عوام کو پھانسی دی گئی تو پورے پاکستان میں اتنا گرم احتجاج ہوگا کہ اسکی تپش سے ہمالیہ پگل جائے گا ۔بھٹو پھانسی پر چڑھا دئے  گئے اور سڑکوں پر ایسی کوئی گرمی پیدا نہ کی جاسکی ۔یہ ایسا تجربہ تھا جس کے بعد کچھ قوتوں نے طے کرلیا کہ اگر کسی بھی مقبول عام وزیر اعظم کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا یا غدار کہہ کراسکی شخصیت کو مسخ کردیا جائے گا تو عوام اور اس رہ نما کی جماعت بھی اسی بے حسی کا مظاہرہ کرے گی جیسا بھٹو کے معاملے میں ہوا۔ایسے کئی تجربات اور بھی ہوچکے ہیں جو سیاسی جماعتوں کے پیمانے ماپنے کے لئے استعمال کئے گئے اور ان پر ہنوز عمل کیا جارہا ہے ۔قیاس ہے  یہی فارمولا میاں نواز شریف پر بھی آزمایا جارہا ہے ۔جواب میں میاں نواز شریف نااہل قرار دئے جانے کے باوجود عدلیہ اور”خلائی مخلوق “کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کرنے پر اتر آئے ہیں جس کے بعد یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ قوم عدلیہ اور بین السطور میں فوج کے خلاف انکے تنقیدی اور سوالیہ ردعمل کو پسند نہیں کررہی لہذا جب میاں نواز شریف کا ہر طرح سے ناطقہ بند کرکے انہیں بند گلی اور بند گلی سے کال کوٹھری تک پہنچا دیا جائے گا تو خود انکی جماعت بھی کسی قسم کی احتجاجی تحریک شروع نہیں کرے گی ۔ممکن ہے گھر کو آگ لگ جائے گھر کے چراغ سے ۔لیکن یہ بھی ممکن ہے ایسا نہ ہوسکے ، یہ بھی گمان قائم کیا جاسکتا ہے کہ نتائج اسکے الٹ بھی برآمد ہوجائیں ۔اگر ہمالیہ پگلنے کے اسباب پیدا ہوگئے تو کیا ہوگا ۔کیا ہمالیہ کو آگ کی تپش سے بچانے کے لئے کوئی انتظام کیا جاچکا ہے ؟ امکان ہے کہ ”خلائی مخلوق “ اپنی اساطیری قوتوں سے ایسے جارح سیاستدانوں کواس آگ سے صرف ہاتھ سینکنے پر ہی مجبور کردے۔

معروف دو سازشی نظریات کی بنیاد پر پاکستان میں جو سیاست کی جارہی ہے ان میں سے ایک بڑے  نظریہ پر میاں نوازشریف بھی کھیل رہے ہیں۔وہ ہمالیہ کو پگلانے میں ہر سو اپنے بیانئےے سے بارودی سرنگیں لگا رہے ہیں  تاکہ این آر او کا راستہ کھولا جاسکے۔دراصل سیاسی قائدین نے بھی یہ بات پلے باندھ رکھی ہے کہ جو آپ کی مٹی پلید کرتا ہے جواباً آپ بھی اسکو گندہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں ۔ان کی کمزوریوں کو کیش کرائیں تاکہ ان کو دبایا جاسکے ۔جو اس نظریہ پر عمل کرتا ہے ،اسکو ایمنسٹی یا این آراو مل جانے کا امکان ہوتا ہے۔میاں نواز شریف نے ڈان کو دئے متنازعہ اور حساس انٹرویو میں قومی سلامتی کے اداروں پر انتہائی خوفناک حملہ کیا ہے ۔ جس پر انہیں غدار بھی کہا جانے لگا ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم عباسی اپنے قائد کی صفائی پیش کررہے ہیں کہ میاں نواز شریف کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے مگر یہ نہایت کمزور دفاع کی علامت ہے کیونکہ میاں نواز شریف اسکے برعکس فوج سے ایسے سوال کرتے آرہے ہیں جو سابق وزیر اعظم کی حیثیت میں قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت انہیں نہیں کرنے چاہئیں تھے۔وہ خود یہ کہتے ہیں کہ ” اگر میں یہ سوال کرتا ہوں تو بتائیں کیا غلط کرتا ہوں “ اپنی عوامی عدالتوں میں وہ قومی سلامتی اور عدلیہ کا مقدمہ لے جاکر ایسے شعلہ بار اور نفرت انگیز بیانات دئے جارہے ہیں جن کی بازگشت انڈیا سے امریکہ تک جارہی ہے ۔ان کا یہ بیانیہ اتفاقیہ نہیں ،سوچا سمجھا ہے ۔پوری دنیا عین اس وقت جب پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالے جانے کا وقت قریب آرہا ہے ، تین بار وزیر اعظم رہنے والے ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی قائد کے بیانئے کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور ہوجائے گی ۔ظاہر ہے عالمی طور پر پاکستان دباومیں آئے گا اور سب جانتے ہیں کہ یہ دباو پاکستان کی سلامتی کے اداروں پر ڈالا جائے گا ۔یہ وہ سیاسی ہتھکنڈہ ہے جو پاکستان کی کرپٹ سیاسی اشرافیہ کے دماغوں سے ناسور کی پھوٹتا ہے ۔ان کا نظریہ ہے کہ انکے خلاف کئے جانے والے بدعنوانی کے تمام مقدمات کا حل یہ ہے کہ ”فوج “ پر عالمی دباو ڈال دیا جائے تاکہ وہ کسی این آر او کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں ۔این آر او آسانی سے حاصل نہیں ہوتا، نہ قومی سلامتی کے اداروں کی منشا کے بغیر اسکی شروعات ہوتی ہیں۔دیکھنا یہ ہوگا کیا ہمالیہ والے نظرئیے اور این آر او والے نظریئے کی جنگ میں کون کامیاب ہوتا ہے ؟

،،

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...