رمضان المبارک! رحمتیں ،برکتیں اور نیکیاں سمیٹنے کا مہینہ 

رمضان المبارک! رحمتیں ،برکتیں اور نیکیاں سمیٹنے کا مہینہ 

رمضان المبار ک کا چاند نظر آ نے کا سرکاری اعلان ہونے کے ساتھ ہی مسلمانوں کے چہروں پر خوشیاں بکھر گئیں ہیں جبکہ ایک دوسرے کو رمضان کی مبارکبادیں دینے کا سلسلہ بھی چل نکلا ہے دوسری طرف مساجد میں نماز تراویح کا بھی اہتمام شروع ہو گیا ہے ۔ اس مبارک مہینے کے بے شمار فضائل قرآن و حدیث سے  ثابت ہیں جبکہ خود رسولِ رحمت ﷺ اس مبارک مہینہ کا بہت ہی زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ’’ جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘۔ایک اور روایت حضرت ابو ہریرہؓ نے نقل فرمائی کہ ’’ جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں کو قیام(تراویح) کیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’صیام وقیام لازم وملزوم ہیں‘‘ جبکہ روز قیامت یہی دونوں (روزہ اور قرآن)بندے کی شفاعت اور سفارش کریں گے اور ان کی سفارش قبول بھی ہو گی ۔

قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جائے تو رمضان المبارک کی غرض و غایت کا یہی پتا چلتا ہے کہ رمضان کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا ہی نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کو اس ماہ مقدس میں تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اس ایک ماہ میں اپنی ’’ زبان، آنکھ ،کان ،ہاتھ ،پاؤں اور دل کو ہر طرح کی برائیوں سے محفوظ رکھا جائے اور غرض کہ ہر قسم کی لغویات سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے پورے سال کے لئے اپنے آپ کو تیار کیا جائے ۔ اس ایک ماہ کے روزوں  اور اس میں کی جانے والی عبادات کو آپ پورا سال گناہوں سے دور رہنے کا ’’تربیتی سیشن ‘‘ بھی قرار دے  سکتے ہیں ۔ روزے اور تراویح کا رمضان کے دنوں اور راتوں میں اہتمام کرنا ہی بنیادی طور پر اس مبارک مہینہ کا حق ہے۔یہ وہ ماہِ مقدس ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بارش کی طرح برستی ہے ، اس ماہِ مقدس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بخشش فرماتے ہیں اور اس مغفرت کیلئے رمضان المبارک سے بہتر کوئی اور زمانہ نہیں ہے چنانچہ اس شخص کی بدبختی اورشقاوت میں کوئی شک نہیں جسے رمضان کا مہینہ ملا اور اس نے اس میں اپنی مغفرت اور بخشش نہ کروائی ہو۔تمام تر عبادات میں سے ’’روزہ ‘‘ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس کے اجر کواللہ تعالیٰ نے صرف  اپنی ذات کے ساتھ خاص فرمایا ہے ’’ بخاری ومسلم ‘‘کی روایت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ’’ اللہ نے فرمایا روزہ میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کی جزادوں گا‘‘۔ایک اور حدیث پاک میں نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ ’’ رسوا ہوجائے وہ شخص جس پر رمضان آیا اور گزرگیا اور اس نے اس میں اپنی مغفرت نہ کرائی۔ ‘‘

ایک اور حدیث میں نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ’’ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ رمضان کیا چیز ہے؟ تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی ہوجائے‘‘۔رمضان المبارک کے روزوں کا خصوصاً بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے،ان میں کسی قسم کی کوتاہی بڑی محرومی ہوگی،گرمی ،مشقت وصعوبت بھی ہو تو اسے ہمت کرکے برداشت کرنا چاہئے۔حدیث پاک کامفہوم ہے کہ ’’ جو شخص (قصداً) بلا کسی شرعی عذر کے ایک دن بھی رمضان کے روزہ کو افطار کردے تو چاہے تمام عمر کے روزے رکھے اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔‘‘علما ء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ’’ اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے رمضان کا روزہ رکھا ہی نہیں تو ایک روزہ کے بدلے ایک روزہ رکھنے سے اس کی قضاء ہوجائیگی اور اگر روزہ رکھ کر توڑدیا تو قضاء کے ایک روزے کے علاوہ 2مہینہ کے روزے کفارہ کے ادا کرنے سے فرض ذمہ سے ساقط ہوجاتاہے البتہ وہ برکت اور فضیلت جو رمضان المبارک کی ہے وہ ہاتھ نہیں آسکتی ‘‘۔

حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک موقع پر نبی رحمتﷺ  نے شعبان کے آخری دنوں میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہاکہ ’’ تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہاہے جو بہت بڑا مہینہ ہے،بہت مبارک مہینہ ہے ،اس میں ایک رات ہے (شب قدر) جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے کو فرض فرمایا اوراس کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے۔جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض اداکیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو اداکرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں 70 فرض اداکرے۔یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیاجاتاہے۔ جو شخص کسی روزے دار کا روزہ افطار کرائے اس کیلئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہوگا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہوگا مگر اس روزے دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ !ہم میں سے ہر شخص تواتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں ) اللہ تعالیٰ تو یہ ثواب تو ایک کھجور سے کوئی افطار کرادے یا ایک گھونٹ پانی پلادے یا ایک گھونٹ لسی پلادے اس پر بھی مرحمت فرمادیتے ہیں۔‘‘

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس ماہ مقدس کی تمام برکتیں ،سعادتیں اوررحمتیں سمیٹنے کی سعادت عطا فرمائے،ہم اپنے قرب و جوار میں رہنے والے اپنے غریب بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریں ،اس مبارک مہینے میں اللہ کے راستے میں فراخ دلی کے ساتھ خرچ کریں اور ہمیں اس ماہ مقدس میں ان تمام برائیوں اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جن سے اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے (آمین ) 

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...