یہ جو لاہور سے محبت ہے!

یہ جو لاہور سے محبت ہے!
یہ جو لاہور سے محبت ہے!

  

اس سال جنوری میں حمزہ حسن آسٹریلیا سے چھٹیاں گزارنے ہمارے پاس تھے کہ ایک رات بالاصرار بولے" آپ دونوں نے میرے پاس آسٹریلیا میں سیٹل ہونا ہے "۔ ماں نے تو فرط محبت میں فوراً کہاانشااللہ، لیکن میں بول نہ سکا کہ بچوں کی بے بدل محبت کے باوجود میں پاکستان میں ہی جینا چاہتا ہوں۔ نوکری کا متعین عرصہ پورے ہوتے ہی لاہور منتقل ہونا میرا خواب ہے۔ عمر کے اس حصے میں اب کسی اور ملک کو اپنا وطن بنانے کی صلاحیت سے میں خود کویکسر محروم پاتا ہوں۔اب تو جی چاہتا ہے کہ نگر نگر مسافت اور خانہ بدوشی کے بعد تھکا ماندہ مسافر بس وہیںڈیرا ڈال دے جہاں سے چار عشروں قبل سفر کا آغاز کیا تھا، اورجہاں میرا جگر حامد رضا بھی آباد ہے ۔ امید رکھتا ہوں کہ وہاں عمران خالد بھی سیالکوٹ سے آتا جاتارہے گا۔ کہیں بیٹھ کر انفنٹری سکول کوئٹہ کے یو بلاک سے ہوتے ہوئے اے ایس سی سکول نوشہرہ میں گھڑ سواری کورس کے دوران لکھی گئی داستانوں کو چھیڑتے ہوئے ملائشیا میں گزرے ان سات دنوں کے قصے بار بار سنیں اور بار بار سنائیں گے۔

لاہور سے لڑکپن کی کھٹی میٹھی ےادیں وابستہ ہیں۔ نازیہ حسن کے گیت، اور گرمیوں کی نا ختم ہونے والی دوپہریں۔ بشن سنگھ بیدی کی ٹیم کی اٹھارا سال بعد پاکستان آمد اور پھر کرکٹ کا نا اترنے والا بخار۔میں اور میرا خالہ زاد بھائی شکیب ساجد کرکٹ کے دیوانے اور عمران خان کے پرستار تھے ۔بخاری مارکیٹ کی سڑکوں پر کرکٹ کھیلنا ہمارا محبوب مشغلہ تھا۔ ان دنوں لاہور میں کوئی ٹیسٹ میچ چل رہا ہوتا تو اکثر اوقات ہم سہ پہر کے وقت قرب میں واقع قذافی سٹیڈیم چلے جاتے۔ سکیورٹی خدشات کا چونکہ اس زمانے میں کوئی تصورہی نہیں تھا، لہٰذا ٹیسٹ میچوں میں چائے کے وقفے کے بعد سٹیڈیم کے گیٹ بلا ٹکٹ داخلے کی اجازت کے ساتھ کھول دئیے جاتے تھے۔ میں اور شکیب سٹیڈیم کے باہر چنے اور پٹھورے کھاکرجنرل انکلوژر کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آخری گھنٹے کے کھیل سے مفت میں لطف اندوز ہوتے۔ایک مرتبہ ہمیں پیولین اینڈ سے موجودہ عمران خان انکلیوژر میں بیٹھ کر کھیل دیکھنے کا موقع مل گیا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم فیلڈنگ اور عبدالقادر آخری وکٹ کی بیٹنگ کر رہے تھے۔ سب کو ان کے آﺅٹ ہونے کا انتظار تھا کہ پھر عمران باﺅلنگ کےلئے آتے۔ عبدالقادر نے مگراس دن آﺅٹ ہونے سے انکار کر دیا۔ کم ہی لوگوں نے اپنی وکٹ بچا کر عوام سے اتنی صلواتیں سنی ہوں گی۔اس دوران اچانک میری نظر پیولین کی بالائی کھڑکی میں بیٹھے میچ دیکھنے میں مگن عمران خان پر پڑی جو عبدالقادر کی بیٹنگ سے محظوظ ہو رہے تھے۔کچھ ہی عرصہ بعد ایک بار پھرعمران خان ہمیںلارنس گارڈن کے کرکٹ گراؤنڈ میں نظر آئے۔

درجن بھر کھلاڑی جن میں مجھے اب صرف شعیب محمد ہی یاد ہیں، نیٹ پریکٹس میں مصروف تھے کہ اسی اثناءمیں لارنس روڈ سے متصل گیٹ کی جانب سے طویل قامت درختوں کے گھنے جھنڈ سے دیو مالائی کرداروں سے مشاہبت رکھتا ایک نوجوان بھاگتا ہوا نمودار ہوا۔بھاگتے بھاگتے بالنگ کےلئے تیار کھلاڑی کے ہاتھ سے گیند پکڑی اور اسی ردہم میں اپنے مخصوص انداز میں ارد گرد سے بے نیاز باﺅلنگ میں مگن ہو گیا۔ کم و بیش لگاتار دو اوور کروانے کے بعد عمران خان جدھر سے نمودار ہوئے تھے ،بھاگتے ہوئے اسی جھنڈ میں دوبارہ گم ہو گئے۔کرکٹ گراؤنڈ میں موجود ہجوم سراسیمگی کے عالم میں کافی دیر تک قدیم درختوں کے جھنڈ کوتکتا رہا۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ خدا نے عمران خان کو ایک انتہائی کرشماتی شخصیت سے نوازا ہے ۔

اسی کے عشرے کے اوائل میں پاک آرمی میں سلیکشن کے بعد میں پی ایم اے کاکول چلا آیا۔ وہ دن اور آج کا دن لاہور میں طویل قیام پھر نصیب نہیں ہوا۔آج عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں۔پاکستان کی سیاست سے چمٹے کئی’ عبدالقادر ‘پویلین کو لوٹ چکے۔ گیند اب عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ ہم جیسے لاکھوں پاکستانی مڈل کلاسیئے اب بھی عمران خان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ ان تمام وکٹوں کو جن کا کہ انہوں نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے، اڑانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا کہ اس بار بھی ایک دو اوور پھینک کر، ایک بار پھر ہجو م کو مبہوت چھوڑ کر درختوں کے کسی قدیم جھنڈ میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ملک کی معیشت شدید دباؤمیں ہے۔

قرضوں میں جکڑے ملک کوسود کی ادائیگی کےلئے بھی وسائل دستیاب نہیں۔ بیرونی اور اندرونی گدھ سانس روکے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ کے بعد میڈیا کے شورمیں کانوں پڑی آوازسنائی نہیں دے رہی ۔الا مان الحفیظ کہ مہنگائی کا ایک طوفان آنے والا ہے۔ شور مچانے والوں میں وہ سب سے آگے ہیں کہ جن کے ہاتھوں ہماری یہ درگت بنی۔ستر سال سے ہم اپنا گوشت خود کاٹ کاٹ کر کھاتے چلے آرہے ہیں ، مگرآنے والی نسلوں کی توہڈیاں تک بیچ ڈالیں۔ سب کی نظر مگر آج پر ہے، مستقبل کے لئے پیٹ کاٹنے کو کوئی تیار نہیں۔بال کاٹتے ہوئے حجام کو فکر کھائے جا رہی ہے کہ ملک آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ دیا گیا ہے ۔ یہ ہے تبدیلی سر؟سستے بازار میں کھڑا شخص کیمروں کے سامنے سرکاری ملازم پر برس رہا ہے کہ چینی صرف ایک کلو کیوں دی۔ بانٹ کر کھانے کو کوئی تیار نہیں۔کیا کیا جائے مگر کہ پاکستانی ڈسے ہوئے دکھی لوگ ہیں۔ اس سے قبل کسی نے ان سے کہا تھا قرض اتارو ملک سنوارو۔ پاکستانیوں نے اپنے زیور تک اتار کر حکمرانوں کے حوالے کر دئیے۔ یہ وہی سال تھا کہ حکمران اور ان کے نوخیز بچے الحمدللہ ارب پتی ہونا شروع ہوئے تھے۔

عید کے فوراً بعد عوام کو سڑکوں پر لانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ سنہری دس سالوں کے بعد، چینی میں پچاس پیسے فی کلو اضافہ پر بپھری عوام نے صدر ایوب کو نکال باہر کیا، مگر بدلے میں قوم کو کیا ملا، بالترتیب یحیی، سقوط ڈھاکہ، بھٹو اور معاشی زوال کا لامتناہی سلسلہ!اب بھی کیا ملے گا؟احتجاج نہیں، اپنے حصہ کا ٹیکس دینے سے ہی کچھ ملے گا۔

لاہور سے مجھے محبت ہے ۔مگر لاہور میں میری سکونت کا انحصار بہت حد تک عمران خان کی حکومت کی معاشی کامیابی پر ہے ۔ کیونکہ عمران خان کی ناکامی کی صورت میں اگر انہی خاندانوں کی ہی اگلی نسلوں کو ہم پر مسلط ہو نا ہے، جو ہمیں اس حال تک گھسیٹ کر لائے ہیں ، تو پھرہم جیسے ازکاررفتہ ، دل شکستہ ، بے بسوںکو ہجرت اور مسافت کے سوا کیا چارہ ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ