کرونا پر سنگاپور یونیورسٹی کی تحقیق

کرونا پر سنگاپور یونیورسٹی کی تحقیق
کرونا پر سنگاپور یونیورسٹی کی تحقیق

  

سنگاپور کی ایک یونیورسٹی نے پیش گوئی کی ہے کہ کورونا وائرس کا زور رواں سال جون میں ٹوٹ جائے گا یعنی اب سے تقریباً مہینہ سوا مہینہ بعد۔ اللہ کرے ایسا ہو جائے اور نسلِ انسانی کو ایک اذیت ناک صورتحال سے نجات مل جائے‘ جس میں نہ صرف اس کی معاشرت خراب ہو رہی ہے بلکہ معیشت پر بھی بے حد منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہ مکمل طور پر زوال پذیر ہو چکی ہے۔ بہرحال یہ تو واضح ہے کہ کرونا وائرس کا زور ٹوٹ بھی گیا تو یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو گا‘ البتہ یہ جو وبا کی سی صورتحال ہے‘ اس کا خاصی حد تک خاتمہ ہو جائے گا۔ پاکستان اور دنیا بھر کے عوام یقیناً ایسی ہی خوش خبری سننے کے منتظر تھے۔ یونیورسٹی کا نام ہے سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن ہے اور اس نے پاکستان سمیت تمام ممالک میں وبا کے پھیلنے کے انداز کا جائزہ لینے کے لئے ”سسیپٹبل انفیکٹڈ ریکورڈ“ ماڈل (susceptible-infected-recovered (SIR) deterministic compartmental model) استعمال کیا ہے۔ ایس آئی آر ماڈل کسی مخصوص علاقے میں بیماری کے پھیلنے کی رفتار اور مرض کے دور ہو جانے کی شرح کا اندازہ لگانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ماڈل میں ایس کا لفظ susceptible یعنی مشتبہ کیسز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ آئی سے مراد ہے Number of infectious یعنی مرض میں مبتلا افراد کی تعداد‘ اور آر سے مراد ہے Number of recovered or deceased (or immune) individuals یعنی ان افراد کی تعداد جو اس مخصوص بیماری سے مر جاتے ہیں یا صحت یاب ہو جاتے ہیں یا امیون ہو جاتے ہیں یعنی ان میں اس بیماری کے جراثیم یا وائرس کے پیدا کردہ اثرات کے خلاف لڑنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے‘ جس بیماری پر تحقیق کی جا رہی ہوتی ہے۔

ان اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ کسی بیماری کے پھیلنے کی رفتار کیا ہے اور اس کا خاتمہ کب تک ممکن ہو سکتا ہے۔ اس ماڈل کے تحت ماضی میں کی گئی جمع تفریق کافی حد تک ٹھیک ثابت ہوئی ہے‘ چنانچہ اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہو جائے تو نہ صرف عالمی سطح پر انسانی معاملات جلد ہی معمول پر آ جائیں گے بلکہ اب تک کرونا وائرس کی وبا کے باعث عالمی معیشت کو جو نقصان پہنچ چکا ہے‘ اس کا بھی جلد ازالہ ممکن ہو سکے گا کیونکہ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، 90 فیصد کورونا وائرس جون تک دنیا بھر سے ختم ہو جائے گا۔ مخصوص ملکوں کے حوالے سے وائرس کے خاتمے کا وقت معمولی حد تک مختلف ہے اور ان میں چند دن سے لے کر چند ماہ تک کا فرق ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پیش گوئی بھی سچ ثابت ہو جائے گی کہ کورونا وبا جس تیزی سے پھیلے گی‘ اتنی ہی تیزی سے ختم بھی ہو جائے گی۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق، وائرس دنیا بھر سے مکمل طور پر دسمبر 2020ء تک ختم ہو گا۔ ظاہر ہے کہ معاملہ اتنا سادہ اور آسان نہیں ہے۔ فرض کیا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ اگلے ایک دو ماہ میں رک جاتا ہے اور اس سے ہونے والے مرض میں مبتلا افراد کی زیادہ تر تعداد ٹھیک بھی ہو جاتی ہے تو یہ بات پورے وثوق کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ اگلے سال یا اس سے اگلے سال کورونا بالکل نہیں پھیلے گا۔

بظاہر اس تحقیق میں خیال پیش کیا گیا ہے کہ جو لوگ وائرس کے مرض سے صحت یاب (ریکور) ہو چکے ہوں گے ان میں دوبارہ علامات ظاہر نہیں ہوں گی اور اسی لئے ایسے لوگوں کو ”خطرے سے باہر ہونے“ یا امیونٹی کی سند دی گئی ہے لیکن یہ بھی واضح ہے کہ اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔ کورونا وائرس نے پوری دنیا کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔ سائنسدان اسے سمجھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، کئی باتیں اب بھی معلوم نہیں۔ جب تک پوری بات پتہ نہیں چل جاتی اس وقت تک صرف قیاس آرائیاں ہی کی جا سکتی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بھی یہی بات کہی ہے کہ اس بات کے شواہد نہیں کہ جو لوگ وائرس سے ریکور ہو چکے ہیں اور ان میں وائرس سے بچاؤ کی اینٹی باڈیز موجود ہیں، وہ دوسری مرتبہ متاثر نہیں ہوں گے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آبادی کی جانب سے حفاظتی اقدامات اور رویے کا جائزہ نہیں لیا گیا تاکہ وائرس کی دوسری لہر کو آنے سے روکا جا سکے‘ چنانچہ سوال یہ ہے کہ اگلے مرحلے میں آیا ایسی کوئی تحقیق کی جا سکے گی یا نہیں؟

اس وبا کے پھیلنے کے باوجود بہت سے یورپی ملک محتاط انداز میں کاروبار اور بازاروں کو کھولنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ بہت سے ممالک نے تو بازار اور ادارے کھول بھی دیئے ہیں‘ چنانچہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہو گی کہ اس کے باوجود سنگا پور یونیورسٹی کے تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کی وبا کو جلد ختم کیا جا سکے گا؟ جو کچھ اتنی محنت سے حاصل کیا گیا ہے‘ یعنی وائرس کے خلاف اب تک جو کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں انہیں ضائع کرنے کا جوا کھیلا جا سکتا ہے؟ اگر اس کے نتیجے میں حالات مزید خراب ہو گئے تو یہ نسلِ انسانی کے لئے ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہو گا۔ فی الوقت متاثرین کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی ہے اور کچھ لوگ اس کمی کے حوالے سے شدید گرمی (ہیٹ ویو) کو ان عوامل میں شامل کر رہے ہیں‘ جو کورونا وائرس کو ختم کر سکتے ہیں لیکن اس کے ابھی تک مصدقہ شواہد سامنے نہیں آئے۔ بہرحال اس تحقیق کے سامنے آنے کے باوجود احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور وہ سارے اقدامات مسلسل کئے جانے چاہئیں جن کے کرنے کی عالمی ادارہ صحت نے ہدایت کی ہے کیونکہ تحقیق بہرحال ایک اندازہ ہی ہے‘ اصل صورتحال تو وہی ہے جو ہمارے سامنے ہے اور وہ یہ ہے کہ کرونا وائرس کا دائرہ تمام تر انسانی کوششوں کے باوجود پھیلتا جا رہا ہے اور اس دائرے کو محدود رکھنا خود انسان ہی کے ہاتھوں میں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -