کرونا وائرس وباکے دوران کرنسی نوٹوں کا استعمال

کرونا وائرس وباکے دوران کرنسی نوٹوں کا استعمال

  

ہم روز مرہ زندگی میں لین دین کے لئے کرنسی نوٹوں کا استعمال کرتے ہیں اور ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ نوٹ جراثیموں سے کتنے آلودہ ہوتے ہیں۔امیر ہو یا غریب بزرگ، نوجوان، بچے سب روزمرہ زندگی میں نوٹوں کو استعمال کرتے اور چھوتے ہیں۔اس وقت چین سے شروع ہونے والے کرونا وائرس نے امریکا،اٹلی، فرانس،جرمنی،ایران، انگلینڈسمیت دنیا کے دیگر بہت سے ممالک میں تباہی مچا دی ہے، ان ممالک میں روزانہ ہزاروں افراد کرونا وائرس سے ہلاک اور متاثر ہو رہے ہیں،پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ اور شدت یورپ اور امریکا کی طرح نہیں ہے،لیکن اب پاکستان میں بھی روزبروز کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، دنیا بھرمیں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اوریہ وائرس انسانوں سے ایک سے دوسرے میں ہاتھ ملانے چھونے سے، ایک دوسرے کی استعمال کی گئی چیزوں کے ذریعے، ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہو رہا ہے،ان حالات میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ہمیں جہاں عوامی مقامات پر جانے، ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے گلے ملنے اور ایک دوسرے کی چیزوں کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیئے، وہاں کرنسی نوٹوں کے استعمال میں بھی ہمیں ہر صورت احتیاط برتنا ہوگی،ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کرنسی نوٹوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک فعال رہ سکتا ہے،ہمارے ہاں اکثر لوگ کرنسی نوٹوں کو انگلی کے ذریعے تھوک لگا کر گننے کے عادی ہیں۔اس عادت کی وجہ سے وائرس نوٹوں کی خاص طور پر کھردری سطح سے ڈائریکٹ زبان پر آسانی سے منتقل ہو سکتا ہے۔

ہمارے ہاں چونکہ روزمرہ زندگی میں لین دین کے سب کام کرنسی نوٹ کے ذریعے ہوتے ہیں اور ڈیجیٹل کرنسی، کریڈٹ کارڈ ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کا استعمال ملک میں نہ ہونے کے برابر ہے، اس وجہ سے ہم سب کی جیب میں کرنسی نوٹ لازمی موجود ہوتے ہیں،خریداری سے پہلے ہم نوٹ گن کر دیتے ہیں اور بقایا کی صورت میں بھی نوٹ تسلی سے گن کر جیب میں رکھتے ہیں ۔پاکستان میں زیرگردش زیادہ تر کرنسی نوٹ پرانے اور بوسیدہ ہوتے ہیں جو سینکڑوں ہزاروں ہاتھوں اور تُھوک والی انگلیوں سے ہو کرگزرتے ہوئے ایک سے دوسرے تک پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں تو اے ٹی ایم مشینوں میں بھی پرانے استعمال شدہ کرنسی نوٹ ڈالے جاتے ہیں۔اور ہم اپنی اے ٹی ایم ٹرانزیکشن کے ذریعے اے ٹی ایم سے بھی پرانے نوٹ وصول کرتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال بڑھ رہا ہے، ان ممالک میں زیادہ تر ادائیگیاں کارڈ ز اور آن لا ئن ایپلی کیشنز کے ذریعے ہی ہوتی ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر لوگوں کی جیب میں موبائل فون کے ساتھ چھوٹے سے پلاسٹک کور میں چند پلاسٹک کارڈزکریڈٹ و ڈیبٹ کارڈز وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔حالیہ کرونا وائرس وبا کی وجہ سے اب ہمیں بھی ڈیجیٹل کرنسی کی طرف آنا چاہیئے اس کے علاوہ ا پنی عادات و اطوار سمیت بہت کچھ بدلناپڑے گا،کرونا وبا کے خاتمے پر دنیا میں بیشتر ممالک کی صحت سے متعلق پالیسیاں و بجٹ سمیت بہت کچھ بدلنے والاہے،پاکستان میں ہر بینک نے اپنے اپنے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ متعارف کروا رکھے ہیں،لیکن ان کارڈز کا استعمال بہت کم ہے،اورصرف چندبڑی دکانوں اور شاپنگ مالز تک ہی محدودہے، بلکہ وہاں بھی ان کارڈز کا استعمال کم ہی ہوتاہے،پاکستان میں موجود ان بڑے بڑے شاپنگ مالز میں بھی زیادہ تر کرنسی نوٹ ہی استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ عام دکان داروں کے پاس کریڈٹ کارڈ مشینیں ہی دستیاب نہیں ہوتیں، کاروباری حصرات ٹیکس نیٹ اور ایف بی آر سے بچنے کے لئے بھی لین دین ڈیجیٹل کارڈز،کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈکی بجائے کرنسی نوٹوں کے ذریعے کرتے ہیں۔

کارڈز کے ذریعے ادائیگیوں سے نہ صرف انسان دوسروں کے استعمال شدہ نوٹوں کو ہاتھ لگانے،گننے اور اپنے پاس جیب میں رکھنے سے بچ سکتا ہے،بلکہ چوری اور ٖفراڈ کے عمل سے بھی بچ سکتا ہے۔ حالیہ کرونا وائرس وبا سے بچاؤ اور اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو کرنسی نوٹوں سے متعلق بینکوں کو موثر احکامات جاری کرنے چاہئیں تا کہ کرنسی نوٹوں کے ذریعے وائرس لوگوں میں منتقل نہ ہو سکے،جو پرانے نوٹ بینکوں تک پہنچیں ان نوٹوں کوچند روز قرنطینہ میں رکھنے کے بعد سینٹائز کرنے کے بعد عوام کو جاری کئے جائیں،اس کے علاوہ جب تک کرونا وائرس کی وبا موجود ہے ہمیں کرنسی نوٹوں کے استعمال میں خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔کرونا وائرس نے انسانی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے اور آنے والے دنوں میں ہمیں اپنے رہن سہن اور اطوار میں بہت ساری تبدیلیاں کرنا پڑیں گی،ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی طرح ڈیجیٹل کرنسی کا سسٹم اپنانا چاہیے اور کرنسی نوٹوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے لیکن چونکہ ڈیجیٹل کرنسی کا سسٹم ابھی ہمارے لئے بہت دور کی بات ہے اس لئے موجودہ کرونا وائرس وباکے دنوں میں خاص طور پر کرنسی نوٹوں کے استعمال پر ہمیں کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں تاکہ کرونا وائرس کرنسی نوٹوں کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان تک نہ پہنچے،جو لوگ انگلی سے تُھوک لگا کر نوٹ گننے کے عادی ہیں وہ ہر صورت اس عادت کو ترک کردیں،کرنسی نوٹوں کو استری کر کے بھی جراثیموں سے پاک کیا جا سکتا ہے،کرنسی نوٹوں کو گننے یا چھونے سے پہلے ہاتھوں پر سینیٹائزر یا ڈیٹول لگا لیں،کرنسی نوٹ استعمال کرتے وقت ہاتھوں پر دستانے بھی پہنے جاسکتے ہیں،ماہرین کے مطابق کرونا وائرس عام طور پر ناک یا منہ کے راستے جسم میں داخل ہوتا ہے،کرنسی نوٹوں کے گننے یا چھونے کے بعد منہ ناک اور چہرے کو ہاتھ نہ لگائیں، کرنسی نوٹ گننے یاچھونے کے بعد اگر ہم ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھو لیں تو بھی ہم کرو نا وائرس و دیگر جراثیموں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -