تا تریاق از عراق آوردہ شود…………

تا تریاق از عراق آوردہ شود…………

  

اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا کی مہلک اور خطرناک مرض نے پوری دُنیا کو بُری طرح متاثر کیا ہے اور دُنیا بھر کی معیشت اس نظر نہ آنے والے ذرے کے ہزارویں حصہ سے کم جسامت کے وائرس نے تمام نام نہاد ترقی یافتہ اور سپر پاورز کو ناک آؤٹ کر دیا ہے۔ اسلامی یا غیر اسلامی ممالک میں اس مرض کی تباہ کاریوں میں کوئی فرق نہیں رہا۔

تاہم پوری دُنیا میں احتیاتی تدابیر کی ہدایات یکساں ہیں جن میں سب سے پہلے اپنے ہاتھوں کو صابن اور صاف پانی سے بار بار دھونا،ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا اور بغل گیر ہونے سے سخت منع کیا جا رہا ہے اور ایک دوسرے سے ملاقات کے دوران چھ فٹ کا فاصلہ رکھنے کی تلقین کی جا رہی ہے! البتہ اسلامی ممالک میں عصر حاضر کے مفتیان کے فتویٰ کے مطابق مساجد میں نماز اور جمعہ ادا کرنے پر پابندی کی ہدایات پر عمل درآمد کرایا جا رہا ہے، جبکہ ایک مکتب فکر کا خیال ہے کہ حرم پاک مسجد ِ نبویؐ میں اس عذابِ خداوندی کے وقت مساجد کو آباد کر کے، آہ و زاری کر کے اللہ سے توبہ کی ضرورت ہے اور ہم مساجد کو بے آباد کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں!سائنس دانوں اور ڈاکٹر حضرات کی ہدایت کے مطابق حکمرانوں کے یہ اقدام درست ہیں یا نہیں ہم جیسے ناقص علم لوگ رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں، مفتی حضرات جانیں اور مذکورہ ردعمل ظاہر کرنے والے علما جانیں! تاہم پوری دُنیا میں ”لاک ڈاؤن“ کا مجرب نسخہ کامیاب ترین قرار دیا جا رہا ہے، لوگ گھروں میں رہیں اور عافیت پائیں! حکومتوں نے بجا طور پر تفریح گاہوں، پارکوں اور غم غلط کرنے والے صحت افزا مقامات پر پابندی عائد کر دی ہے، سینما گھروں اور شادی ہال اور مارکی بند ہیں! اچھے اقدامات ہیں، کاش! قوم اسراف کے اِن غیر ضروری اخراجات کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایات کی روشنی میں ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں۔

پوری دُنیا میں لاک ڈاؤن کے دور ان عوام الناس کو پریشانی سے بچانے کے لئے تمام افراد کو ذرائع آمدنی مفقود ہونے کے بعد اُن کی تنخواہیں اور پنشن گھروں میں پہنچائی جا رہی ہے،کھانے پینے کا سامان، ضرورت کے مطابق ادویہ مہیا کرنے کے لئے حکومت نے اہتمام کیا ہے، بجلی کے بل، گیس اور پانی وغیرہ کے بل تین ماہ کے لئے معاف کر دیئے ہیں، سکول کالج بند ہونے کی وجہ سے فیس وصول نہیں کی جا رہی، اٹلی، سپین، بلجیم، آسٹریا، جرمنی، امریکہ، برطانیہ تمام ممالک سے مصدقہ اطلا عات پہنچیں۔

ہمارے محبوب حکمرانوں نے بھی مغرب کی تقلید میں لاک ڈاؤن کیا ہے، ایک اچھا اور قابل ِ تعریف اور قدرے بروقت قدم ہے،اس کی اطاعت ہم پر فرض ہے!تاہم باقی معاملات میں معاملہ بلکل برعکس ہے، چند پنشنر کو پنشن بذریعہ ڈاک خانہ گھروں میں دی گئی ہے، جو قابل ِ تعریف ہے۔ سرکاری ملازم اور نیم سرکاری ادارے کے ملازمین بھی اس صورتِ حال میں جس میں کام کئے بغیر تنخواہ ملے، بڑے خوش ہیں، وہ طالب علم جن کی زندگی میں چھٹی کا تصور نہیں تھا، وہ نمازی جو مسجد کا رُخ نہیں کرتے تھے وہ تو کورونا زندہ باد کا نعرہ بھی لگانے کو تیار ہیں،مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں لاک ڈاؤن تو ہے،لیکن لاک ڈاؤن کا سامنا کرنے کے لئے وسائل بے شک محدود ہیں،لیکن اسی کام کے لئے وسائل سے زیادہ نیک نیتی، خلوص اور قومی درد کے جذبہ کی ضرورت ہے، جو حکومت اور اپوزیشن دونوں میں نہیں، ملک کی60فیصد سے زیادہ آبادی مزدور، کسان، دیہاڑی دار اور پرائیویٹ سیکٹر میں ملازم پیشہ یا معمولی کاروبار سے روزی کمانے والی ہے اور لاک ڈاؤن نے اُن کو بالکل ڈاؤن کر دیا ہے۔

اِن حالات میں قابل ِ تحسین ہے الخدمت فاؤنڈیشن جو بے لوث غربا اور مستحق لوگوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہے۔ موجودہ حکومت جو عوام کی خدمات کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آئی تھی، جس کا دعویٰ کرپشن کا خاتمہ تھا،جس نے بیرونِ ملک سے روزگار تلاش کرنے کے لئے پاکستان کے ویزہ کے لئے بیرونِ ملک سے لوگوں کے آنے کی لن ترانی کا سہارا لیا تھا،ناکام ترین حکومت کا ثبوت دے رہی ہے، یوٹیلیٹی بل تین ماہ بعد ادا کرنے کی عنایت خسرو انہ کا اعلان کیا گیا ہے، فیسوں میں 20فیصد کم کا حکم صادر ہوا ہے جس کو پرائیویٹ اداروں نے سننے سے انکار کر دیا ہے، تین ماہ کے بعد کے عرصہ کے دوران مزید تین تین ماہ کے بل وصول ہو چکے ہوں گے، وہ کون ادا کرے گا؟ لوگ بل نہیں دیں گے تو گیس اور بجلی، ٹیلی فون کے کنکشن کاٹ دیئے جائیں گے، لمبی دوڑ، رشوت اور منت سماجت کے بعد کنکشن بحال کون کرائے گا؟

حکومت کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنے والے وزاء از خود وزیراعظم لوگوں کے گھروں تک کھانا پہنچانے کے شاندار کارنامہ کو انجام دینے کے لئے ٹائیگر فورس کی تیاری میں ہیں، اُن کی رجسٹریشن ہو رہی ہے، وردیاں بن رہی ہیں، عوام بھوکوں مر رہے ہیں اور یہاں کشمیر فتح کرنے کے لئے ٹائیگر فورس کی تیاری جاری ہے! روم جل رہا ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے۔یہ شاندار اور مثالی دورِ حکومت لاک ڈاؤن کے دوران عوام کی خدمت کے لئے روزانہ اجلاس کر رہی ہے، کیا یہ کم ہے؟ وزیراعظم کو قوم کی حالت کی خبر ہے! ہماری منصوبہ بندی تا تریاق از عراق آوردہ شود، مارگزیدہ مردہ بود کی آئینہ داری ہے۔ حکمران اپنے ہی ساتھیوں کی گذشتہ سال کے دوران آٹے اور چینی کی ”حلال کمائی“ کے طوفان سے نبرد آزما ہیں۔ وزارتوں کی بندر بانٹ جاری ہے، مختصر سے عرصہ میں چار مرتبہ وزراء کے قلمدان بدلے گئے ہیں، نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات!

غالب نے شاید ایسی ہی شانداری کارکردگی، غریبوں کی ہمدردی، اور شاہی خزانے کے منہ کھلنے کے بارے میں کہا تھا

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک!

بیرونِ ملک سے ملنے والی امداد ہی اگر خرچ کر دی جائے تو فاقے ختم ہو سکتے ہیں!مگر کون اعتبار کرے گا؟ انتظار کیجئے۔

مزید :

رائے -کالم -