چین کی کامیابی؟

چین کی کامیابی؟
چین کی کامیابی؟

  

چین سے کرونا ایک عالمی وبا کی صورت میں پو ری دنیا میں پھیلااوردیکھتے ہی دیکھتے اس وبا نے ترقی یا فتہ ممالک کو بھی بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا مگر وہیں دوسری طرف کرونا جس ملک سے پو ری دنیا میں پھیلا اب اسی ملک یعنی چین نے مکمل طور پر نہیں تو کافی حد تک اس وبا پر قابو پا لیا ہے۔ چین نے جس تیز ی سے اس دبا پر اپنے ملک میں قابو پا یا اس پر ایک دنیا حیران ہوئی۔اور اسی کے ساتھ دنیا اور خاص طور پر مغربی میڈیا میں ایک مرتبہ پھر ”چینی ما ڈل“ کو لیکر بحث کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔پا کستان کی با ت کریں تو یہاں پر بھی عمران خان اور پی ٹی آئی کے کئی وزرا اپنی تقر یروں اور بیا نا ت میں چین کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے ”چینی ما ڈل“ کا ذکر کرتے ہیں اور پا کستان کے مسائل کے حل کیلئے”چینی ما ڈل“ کو اختیار کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اس کالم میں دنیا کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہم صرف پا کستان کو ہی اپنے سامنے رکھتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا پا کستان میں ”چینی ماڈل“ کو نا فذ کیا جا سکتا ہے؟

۔”چینی ما ڈل“ کا ذکردنیا کے مختلف ممالک کے حکمران ہی نہیں کر تے بلکہ اب تو ”چینی ما ڈل“ پر مغرب میں بھی علمی اور فکری تحقیق شروع ہو گئی ہے۔ اس کا ایک ثبو ت ہمیں The Fourth Revolution“ نام کی کتاب سے بھی ملتا ہے۔برطا نوی جر یدے دی اکانومسٹ کے دو انتہا ئی معروف صحافیوں جان میکلیتھ ویٹ اور ایڈریان ولڈریج کی جا نب سے 2014 میں کتاب ”The Fourth Revolution“ کے نام سے منظر عام پر آئی کہ جس میں ثا بت کیا گیا کہ موجودہ دور میں مغربی ریا ستیں استعداد کا ر پر مبنی گورننس فراہم کر نے میں نا کام ہو تی جا رہی ہیں۔بجٹ خساروں، اور جمہوریت کے نا م پر اپنے حامیوں کوریا ستی ذرائع سے نوازنے جیسے عوامل مغر بی ریا ستوں کی اہلیت کو بری طرح سے متا ثر کرنا شروع ہو گئے ہیں۔اس کتا ب میں اس تا ثر کی مکمل طور پر نفی کر دی گئی ہے کہ ا ب مستقبل قریب میں بھی مغربی سیا سی نظر یا ت ہی ریا ستوں اور حکومتوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر یں گے کیونکہ اب خود مشرق میں بھی ایسے سیاسی ما ڈلز ابھر رہے ہیں کہ جو نہ صرف مغر بی جمہو ریت سے مختلف ہیں بلکہ ان ایشیا ئی ما ڈلز کی استعدادکا ر پر مبنی حکو متی نظاموں سے مغر ب کو بھی بہت کچھ سیکھنا پڑے گا۔”The Fourth Revolution“کتاب کے مطا بق اس وقت ئچین میں جس طرح لیڈر شپ اور سول بیو ر کر یسی کو تربیت فراہم کی جا تی ہے اس کی کو ئی مثال اس وقت مغرب کے کسی بڑے ملک میں موجود نہیں۔استعداد کار پر مبنی حکومت کے حوالے سے چین وہ سب کچھ تیزی سے حا صل کر رہا ہے کہ جس کو حا صل کر نے میں مغرب کو کئی صدیاں لگی ہیں۔کتاب کے مصنفین کے مطا بق چین کی حیران کن ترقی کی بڑی وجو ہا ت میں ریا ستی ہدا یا ت کے مطا بق کی جانے ولی سرما یہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی ہے۔چین کا ابھار اور اس کی سما جی ترقی ہی وہ بڑے عوامل ہیں کہ جو”چینی ما ڈل“ میں کشش پیدا کر رہے ہیں۔ چین میں لیڈر شپ کو با قا عدہ تربیت دینے کے بعد حکو مت کرنے کا ایسا طویل عرصہ دیا جا تا ہے کہ جس میں سیا سی عدم استحکا م کی گنجا ئش انتہائی کم ہو تی ہے۔ یو ں چین کی لیڈر شپ معاشی اور سما جی ترقی کے اہداف حاصل کر نے پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھتی ہے

یہاں پر یہ بنیا دی سوال ابھرتا ہے کہ آخر چین کی ترقی کے پیچھے حقیقی وجوہات کیا ہیں۔چین میں ما وزے تنگ کی قیادت میں کئی سالوں پر محیط لانگ مارچ کے نتیجے میں 1949میں انقلاب بر پا کیا گیا۔اس انقلاب نے جاگیر داری نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔صنعتی اداروں کوریا ستی تحویل میں لے لیا گیا۔1949سے1978تک چینی معیشت کی اوسط شرح 9.2فیصد رہی جو دنیا میں سرفہرست تھی۔معیشت میں ترقی کے ساتھ ساتھ بیو روکریٹک گرفت بھی مضبوط ہونے لگی ایسے میں حکمران کمو نسٹ پا رٹی کے اندر ایک دھڑے نے منڈی کھولنے اور معیشت کو آزادکرنے کی حمایت کرنا شروع کر دی۔”ڈینگ ژا وئپنگ“اس دھڑے کی نمائندگی کر رہا تھا۔ ما وزے تنگ اور چو این لائی نیڈینگ ژا وئپنگ کے اس دھڑے کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور معیشت پر ریاست کی گرفت کو مضبوط رکھا۔۔ تاہم ما ؤ اور چو این لائی کی وفات کے بعد1978میں ”ڈینگ ژا وئپنگ“ کا دھڑااقتدار میں آگیا۔اور معیشت پر سے ریاست کی شدیدگرفت کو کم کیا جانے لگا۔یوں چین میں آج حکمران کمو نسٹ پا رٹی کی شدید سیاسی گرفت کے ساتھ منڈی کی معیشت اپنے تقاضوں کے ساتھ چل رہی ہے۔ پورے ملک میں کمونسٹ پا رٹی کی آمریت اور اس کے تحت چلنے والی آزاد منڈی کی معیشت ”چینی ما ڈل“ کی اہم خصوصیات ہیں۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ پا کستان میں 1947سے کیا صورت حال رہی۔ 1947 میں آزادی کے وقت موجودہ پا کستان کا 59فیصد علاقہ براہ راست جا گیرداری نظام کے زیر نگیں تھا اور چونکہ ان علاقوں میں مسلم لیگ کے بہت سے اراکین کا تعلق ماضی میں یونینسٹ پارٹی سے رہا تھا جو سراسر جا گیر داروں کے مفادات کی نما ئندہ جما عت تھی اسلئے قیا م پاکستان کے بعد اس نظام کو ختم کرنے کی کو ئی عملی کوشش نہیں کی گئی جاگیردارسیاستدانوں کی اکثریت کسی بھی طرح کے سیاسی اصول یا نظریہ سے بالاتر ہوکر ہر حکمران کے ہاتھ پر بیعت کرتی رہی چاہے وہ فوجی حکمران ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں کسی بھی فوجی حکمران نے شعوری طور پر سرما یہ داری نظام لانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنی حکمرانی کیلئے جا گیر داروں پر ہی انحصا ر کیا۔ اگر1959میں ملک میں عام انتخابات ہو جا تے تو ممکن تھا کہ اسکے نتیجہ میں وجود میں آنے والی حکومت سر ما یہ داری ا نقلاب کی راہ ہموار کرتی۔ لیکن اس سے پہلے ہی مارشل لاء نا فذ کر دیاگیا۔1965کے انتخابات میں بھی جا گیر داروں کی واضح اکثریت نے ایوبی آمریت کی چھتری تلے پنا ہ لی۔جنرل ضیاء کا دور تو اس حوالے سے یادگار رہے گا کہ انہوں نے جا گیر داری نظام کو بھی ایک طرح سے”اسلامک“بنا دیا۔

اور1981میں شر یعت کو رٹ نے فیصلہ دیا کہ”جا گیر داری خدا کی عطا کر دہ ہے کسی حکمران کے شایان شان نہیں کہ وہ خدائی کام میں مداخلت کرے“۔اسلئے زمین کے اصلاحاتی 1977کے قانون کو کا لعدم قرار دے دیا گیا۔12اکتوبر 1999کو جنرل مشرف کی آمد کے بعد کئی سادہ لوح دانشوروں نے جا گیر داری نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا یہ وہ دانشور تھے کہ جو اس حقیقت سے نا واقف تھے کہ اسی نظام کے باعث فوجی آمروں کو منتخب حکومتوں پر شب خون مارنے کا موقع ملتا رہا ہے؟۔خود عمران خان اور انکی جما عت تحریک انصاف سے بڑھ کر اس حقیقت کو کون جان سکتا ہے کہ پا کستان کے سیاسی نظام کا ڈھانچہ ہی اس طرح کا ہے کہ یہاں پر انتخابات میں کامیابی حاصل کر نے کیلئے جا گیر داروں، وڈیروں، برادریوں کے سرداروں کی مدد لینا پڑتی ہے۔ تحریک انصاف نے1996سے اپنا سیا سی سفر شروع کیا مسلسل نا کامیوں کے بعد تحریک انصاف کو اس وقت اکثریت ملی کہ جب اس جما عت میں جا گیر داروں،پیروں اور ارب پتی افراد کو شامل کیا گیا۔ اب یہاں پر بنیا دی سوال یہی ہے کہ پا کستان کے سیاسی نظام کے”تقاضوں“ کو پورا کرنے کے بعد اگر کوئی فرد حکمران بنے گا تو وہ پا کستان میں ”چینی ما ڈل“ کیسے متعارف کر وا سکتا ہے؟ہما را سیاسی نظام قطعی طور پر کسی انقلاب کی پیدا وار نہیں ہے بلکہ بر طا نوی سامراج کی وراثت میں حاصل کیا گیا نظام ہے، دوسرا تحر یک انصاف بھی کو ئی خالص انقلابی پا رٹی نہیں ہے کہ جو اقتدار ملنے کے بعد ایسی اصلا حات متعارف کر واپائے کہ جس سے اس جما عت میں شامل اشر افیہ کے اپنے مفا دات پر ضرب پڑنی شروع ہو جائے۔اس سارے معروض میں اب آپ خود ہی سوچیں کہ پا کستان میں ”چینی ما ڈل“ کیسے اختیار کیا جا سکتا ہے؟

مزید :

رائے -کالم -