سستا سودا

سستا سودا

  

میرے اردگرد ہرے بھرے درخت تھے اور درختوں پر خوب صورت پرندے اپنی اپنی بولیاں بول رہے تھے۔پرندوں کے غول کے غول آتے،کچھ دیر درختوں پر بسیرا کرتے پھر پھر سے اْڑ جاتے۔ہوا سے سر سبز درختوں کے سر سبز پتے لہلہاتے تو ایک سرور کی سی کیفیت پیداہوجاتی۔

نہر کنارے مسافر درختوں کے نیچے بیٹھ کر سستارہے تھے۔دوپہر کی شدید دھوپ سے سبھی نڈھال تھے۔ٹانگے سے جوبھی اْترتا،کندھے پر رکھے رومال سے اپنا پسینا پونچھ کر درختوں کی چھاؤں میں ہو جاتا۔ایک عمر رسیدہ شخص ایک گھنے برگدتلے چار پائی ڈالے بیٹھا تھا۔چارپائی کے ساتھ مٹی کا ایک برا سا مٹکا پڑا تھا۔جب بھی کوئی مسافروہاں آتا، وہ اْسے مٹکے سے پانی کا ایک پیالہ نکال کر پلاتا۔آج کے بچے تو اس بات کو شاید انوکھی بات خیال کریں،مٹکے کے ٹھنڈے پانی کا فریج کے ٹھنڈے پانی سے بھلا کیا مقابلہ۔

مسافر مٹکے کا ٹھنڈا پانی پی کر خوب دعائیں دیتا۔جب مسافر کچھ پیسے دینے کی کوشش کرتا تو عمر رسیدہ شخص مسکراکر کہتا:”بس دعا کردو،اللہ تعالیٰ میری نیکی کو قبول کرلے۔“پھر مسافر کے لبوں پر دعائیں ہی دعائیں ہوتیں۔

میرا گزراکثر وہیں سے ہوتا۔یہ منظر اب تک میری آنکھوں میں محفوظ ہے۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ منظر میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔برگد کا درخت جب سڑک بنانے کے لیے کاٹا گیا تو لوگوں نے احتجاج کیا۔خوب شورمچایا۔نعرے بازی کی:”مرجائیں گے،برگد کو بچائیں گے۔“ ”درختوں سے دوستی نبھائیں گے....برگد کو بچائیں گے.....برگد کو بچائیں گے۔“

ان نعروں کی گونج میں برگد کو قتل کر دیا گیا۔برگد کیا کٹا،عمر رسیدہ شخص اس صدمے کو برداشت نہ کر سکا۔برگد کا تنا جب زمین پر گرا،بوڑھا بھی وہیں پر گر گیا۔وہ دوبارہ نہ اْٹھا۔برگد کی جدائی اْس سے برداشت نہ ہوئی تھی۔لوگ کچھ دن برگد کو یاد کرتے رہے۔وقت نے برگد کی یاد کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔اب نہ برگد تھا اور نہ برگد کو یاد کرنے والے۔نہر کنارے بڑی سڑک کا آغاز ہوا تو ایک دو نہیں،سینکڑوں درخت کاٹ دیے گئے۔میں اس وقت اسکول میں تھا۔ اسکول سے واپسی پر میں اپنے جگری دوست شوکت کے ساتھ پیدل گاڑی کی طرف آرہا تھا تو نہر کنارے بہت سے درخت اوندھے منہ پڑے تھے۔صبح تو سارے لہلہارہے تھے۔یہ چار پانچ گھنٹوں میں ان پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی۔

درختوں پر پتے تو اب بھی تھے،مگر صبح کی طرح لہلہانہیں رہے تھے۔دو تین ماہ بعد درختوں کی جگہ یہ لمبی لمبی سڑکیں بنادی گئیں۔جس سے گاڑیوں کی آمد ورفت میں اضافہ ہو گیا۔شہر سے آنے والی سڑک کو اس سڑک سے ملا دیا گیا تھا۔سڑک بنتے ہی درختوں کو بھی بھلا دیا گیا۔

میں اسکول سے کالج پہنچا تو ایک خبر سنائی دی کہ اب چونکہ ٹریفک کا بہاؤ زیادہ ہو گیا ہے اس لیے نہر پر ایک پل بنایا جائے گا۔ پْل بنانے کا واضح مطلب یہ تھا کہ اس مرتبہ بھی درختوں کو قربان کیا جائے گا۔پل بنانے کے لیے ایسا ہی کیا گیا۔درختوں کی لمبی قطار کوایک جھٹکے میں کاٹ دیا گیا۔نہر پر پل بن گیا۔نیچے پانی،اوپر پل،کہیں کہیں درخت۔

مجھے یہ منظر بھی اب تک یاد ہے۔انٹر کے بعد سعودی عرب کی ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی۔چچا جان پہلے سے وہاں ملازم تھے۔سعودی عرب میں شدید گرمی نے میرا استقبال کیا۔درخت نام کی کوئی چیز وہاں دکھائی نہ دی۔اپنی نہر،درخت اورا ن پر بسیرا کرنے والے پرندے بے اختیار یاد آجاتے۔پہلی بار دو سال کے بعد وطن واپس آیا تو نہر کا منظر بہت بدل گیا تھا۔ہر طرف کوٹھیاں ہی کوٹھیاں نظر آرہی تھیں۔میں نے حیرت کا اظہار کیا تو بڑے بھائی ظہیر نے کہا:”یہ زمین تو اب سونے کے بھاؤ بک رہی ہے،اپنی زمین بھی ایک ہاؤسنگ اسکیم میں آگئی ہے۔“

”ہاؤسنگ اسکیم۔“میں نے دہرایا۔

”ہاں ہاؤسنگ اسکیم،خوب رقم ملے گی،شہر میں ایک بڑا سا گھر بنائیں گے۔“ظہیر بھائی نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔

ہماری زرعی زمین بک گئی۔سر سبز کھیت اور سر سبز درخت ماضی کا قصہ بن گئے۔

نہر کنارے کے درختوں کا منظر ذہن سے محو ہو گیا۔زندگی گو یا بدل کررہ گئی۔سعودی عرب سے ملازمت چھوڑ کر میں نے پنکھوں کی ایک چھوٹی سی فیکٹری کا آغاز کر دیا۔چند سال ہی میں میرے کاروبار نے خوب ترقی کی۔میں نے شہر سے دوچارکنال جگہ لے کر فیکٹری بنائی،جہاں میں نے نئی فیکٹری کی بنیاد رکھی وہاں درخت ہی درخت تھے۔

فیکٹری بنانے کے لیے درخت کاٹے گئے تو ایک درخت کے زمین پر گرتے ہی اْس کی شاخ پر بنا گھونسلا میری آنکھوں کے سامنے برباد ہو گیا۔

چڑیا کے دو ننھے ننھے بچے”چوں چوں“کرتے دکھائی دیے۔میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایک چیل نہ جانے کہاں سے آئی اور چڑیا کے بچے کولے کر اْڑ گئی۔اس سے قبل کہ میں آگے بڑھتا۔دوسری چیل دوسرا بچے بھی لے اْڑی۔چڑیا کی چوں چوں میں عجیب سا کرب تھا۔میں اس کیفیت میں بے چین تو ہوا،مگر چڑیا کے لیے کچھ کر نہ سکا۔چڑیا بے چین ہو کر ادھر ادھر اڑتی رہی۔آخر کب تک،اندھیرا چھایا تو چڑیا بھی آنسو بہا کر وہاں سے چلی گئی۔

اگلے دن مزدور آئے۔تعمیر کا کام شروع ہوا۔ چڑیا کی چوں چوں کی باز گشت میرے کانوں میں کافی عرصے تک گونجتی رہی۔میں نے نئی فیکٹری کا افتتاح ایک معروف سیاسی شخصیت سے کروایا۔اب میرا شمار بڑے لوگوں میں ہونے لگا تھا۔اب دنیا کی ہر نعمت مجھے میسر تھی۔بڑا گھر،بڑی گاڑی،پیسہ ہی پیسہ سب کچھ تو میسر تھا مجھے۔ایک دن شدید گرم موسم تھا۔میں اپنے دفتر کے ٹھنڈے ماحول میں فائلوں پر جھکا ہوا تھا کہ میرے سیکریٹری نے انٹرکا م پر مجھے اطلاع دی کہ ایک شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے۔میں نے ملاقاتی کو دفتر میں بلا لیا۔آنے والے شخص نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا:”میرا نام شہزاد ہے۔میں دس روپے لینے آپ کے پاس آیا ہوں۔“

”واہ،بہت خوب،ماڈرن فقیرمانگنے کا یہ انداز خوب رہا۔“میں نے شہزاد کو داد دیتے ہوئے کہا۔”میں بھکاری نہیں ہوں۔“شہزاد فوراً بولا۔

”تو پھر تم کیا ہو؟ذرا سے اچھے کپڑے پہن لینے سے تم امیر تو نہیں کہلاؤ گے،رہو گے تو فقیر کے فقیر ہی۔“میرا لہجہ طنز یہ تھا۔

”صرف دس روپے کا سوال ہے۔“

میں اب اپنا وقت مزید برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔اس لیے کوئی بات کے بغیرمیں نے دس روپے کا نوٹ شہزاد نامی شخص کی طرف بڑھا دیا۔وہ دس روپے کا نوٹ پکڑتے ہوئے بولا:”بہت شکریہ! آپ کے یہ دس روپے ضائع نہیں جائیں گے،ایک دن اس کا اجر آپ کو اسی دنیا میں ملے گا۔“

میں خاموش رہا۔میں جانتا تھا،فقیر بھیک ملنے کے بعد ایسی ہی دعائیں دیتے ہیں۔میں شہزاد کو بھول گیا۔ایک سال بعد اچانک وہ دوبارہ میرے دفتر آگیا۔پھر وہی دس روپے کا سوال۔میں نے پھر دس روپے اسے دے دیے۔وقت گزرتا رہا۔چار سال بعد شہزاد پھر میرے سامنے بیٹھا تھا۔اس کے سر کے بال اْڑگئے تھے۔اس سے قبل کہ وہ دس روپے کا تقاضا کرتا میں نے سوروپے اس کی طرف بڑھا دیے۔اس نے سوروپے لینے سے انکار کیا تو مجھے تعجب ہوا۔ میں نے سوچا جدید دور کا فقیر ہے اس کا ریٹ بھی یقینا بڑھ گیا ہو گا۔میں نے پانچ سوروپے کا ایک نیا نوٹ اس کے سامنے رکھ دیا:”لوپانچ سوروپے اْٹھا ؤ اور یہاں سے چلتے بنو۔“میرا لہجہ ذرا سا تلخ تھا۔مجھے شہزاد کا آنا اچھا نہیں لگا تھا۔

”میں پیسے لینے نہیں،کچھ دینے آیا ہوں۔“

”میں کچھ سمجھا نہیں۔“میں نے شہزاد کی طرف دیکھا۔

”میں یہ دو تصویریں آپ کو دینے آیا ہوں۔“یہ کہہ کر شہزاد نے ایک لفافے سے دو تصویریں نکال کر میرے سامنے رکھ دیں۔میں نے دیکھا دونوں تصویروں میں ہرے بھرے دوتناور درخت دکھائی دے رہے تھے۔

اب ان تصویروں کے پیسے مانگو گے۔“میں نے شہزاد کو گھورا۔

”ایسا نہیں ہے،میں ان تصویروں کے پیسے آپ سے نہیں لوں گا،کیا آپ ان درختوں کا پھل بیچنا پسند کریں گے؟“شہزاد کے سوال پر میں چونکا۔

”عجیب پاگل آدمی ہو،درخت،پھل بھئی یہ درخت میرے نہیں ہیں۔جب یہ درخت میرے نہیں ہیں تو میں ان کا پھل کیسے بیچ سکتا ہوں۔جاؤ یہاں سے۔“شہزاد کی بات پر مجھے غصہ آگیا۔

”آپ غصہ مت کیجیے،آپ ان درختوں کے مالک ہیں،ان درختوں پر لگے پھل کے بھی آپ ہی مالک ہیں۔“شہزاد اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔میرے صبر کا پیمانہ لبر یز ہوتا جارہا تھا۔

”تم یہاں سے جاتے ہو یا؟؟؟“

کسی کو بلانے کی ضرورت نہیں،آپ ان درختوں کے مالک ہیں، غور سے دیکھئے،درختوں پر آپ کے نام کی پلیٹ دکھائی دے رہی ہے۔آپ نے غور نہیں کیا۔“شہزاد نے تصویروں پر ایک جگہ اْنگلی رکھتے ہوئے کہا۔

میں نے دوبارہ غور سے درختوں کو دیکھا تو واقعی میرے نام کی پلیٹ نظر آرہی تھی۔اپنے نام کی پلیٹ کو دیکھ کر میرا غصہ قدرے کم ہو گیا۔میں معاملہ حل کرنا چاہتا تھا۔

”بھئی خود ہی بتاؤ آخر معاملہ کیا ہے؟“

میری بات سن کر شہزاد بولا:”ایک درخواست ہے آپ سے۔“

”کہو کیا درخواست ہے؟“میں ہر صورت معاملے کی تہ تک پہنچنا چاہتا تھا۔

”آپ کے دو تین گھنٹے درکار ہیں، پھر آپ پر ہر بات واضح ہو جائے گی۔انکار مت کیجیے۔“شہزاد کا لہجہ ایسا تھاکہ مجھ سے انکار نہ ہو سکا۔عجیب پر اسرار آدمی تھا۔ میں نے اسے دو تین گھنٹے دینے کا اقرارکیا تو اس کے چہرے پر خوشی دکھائی دینے لگی۔میں اس کے ساتھ فیکٹری سے باہر آیا۔مجھے حیرت ہوئی کہ باہر اس کی گاڑی کھڑی تھی۔اس کے اصرار پر میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔اس نے سسپنس کی فضا ابھی تک

بر قرار رکھی ہوئی تھی۔گاڑی مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی شہر سے باہر نکل گئی۔اب سڑکوں کے دونوں جانب ہرے بھرے کھیت نظر آرہے تھے۔دائیں طرف سے ایک کچے راستے سے گزر کر ہم درختوں کے درمیان آپہنچے تھے۔

”ہماری منزل آگئی ہے۔“یہ اعلان کرتے ہوئے شہزاد گاڑی سے اْتر گیا۔پھر وہ مجھے بائیں طرف لے گیا۔”یہ دونوں پھل دار درخت آپ کے ہیں۔“

”یہ درخت میرے کس طرح ہو سکتے ہیں!“میں ابھی تک کچھ نہیں سمجھ پایا تھا۔

”آپ کو یاد ہو گا،میں جب پہلی بار آپ کے دفتر آیا تو دس روپے آپ سے لے کر گیا تھا، ایک سال بعد دوبارہ آنے پر بھی دس روپے آپ نے دیے تھے۔“

شہزاد کی بات سن کرمیں نے کہا:’مجھے اچھی طرح یاد ہے۔“میں نے جواب دیا۔

”یہ ان بیس روپوں سے لگائے ہوئے درخت ہیں،ہر درخت کی لاگت صرف دس روپے ہے۔“اب میں سجھ گیا تھا کہ،میں ان درختوں کا مالک کیسے ہوں۔شہزاد نے بتایا کہ وہ لوگوں میں ”درخت بچاؤ،درخت لگاؤ“کا شعور پیدا کرنے کے لیے یہ کام کررہا ہے۔

”لوگ مجھے بھکاری سمجھتے ہیں،شاید آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔“

”میں بھی ایسا ہی سمجھتا تھا،مگر اب ہر بات واضح ہو گئی ہے۔“میں نے لفظ”تھا“پر زور دیتے ہو ئے کہا۔”ان درختوں کے پھل کا کیا کروں؟“شہزادنے درختوں پر لگے پھل کی طرف اشارہ کرکے سوال کیا۔

یہ بیچ کر رقم فلاحی اداروں میں تقسیم کردو اور کچھ رقم سے مزید درخت لگاؤ۔یہ تو بہت سستا سودا ہے،سرمایہ کم لگے اور ثواب زیادہ ملے۔“میں نے دس روپے کا نیا نوٹ شہزاد کی طرف بڑھایا تو اس نے شکریہ کے ساتھ اسے قبول کر لیا۔

شہزاد نے میری طرح اور بہت سے لوگوں سے دس دس روپے لیے تھے۔سب درختوں پر ان کے نام لکھے تھے۔یہ درخت ماحول کو صاف رکھنے میں مدد بھی دے رہے تھے اور ان کے پھلوں کی آمدنی سے غریبوں کی مدد بھی ہورہی تھی اور یہ صدقہ جاریہ بھی تھا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -