حکومت کا آرڈیننس کے ذریعے مسابقتی کمیشن ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ

    حکومت کا آرڈیننس کے ذریعے مسابقتی کمیشن ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے مسابقتی کمیشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وزارت خزانہ نے آرڈیننس کا مسودہ کابینہ کو ارسال کردیا ہے جس کے مطابق حکومت ترمیم کے ذریعے صنعتوں سے 27 ارب روپے جرمانہ وصول کرے گی۔ذرائع کے مطابق ترمیمی آرڈیننس کے تحت اپیلیٹ ٹربیونل کے چیئرپرسن کیلئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج یا سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترمیم کے بعد ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج یا جج بننے کا اہل کوئی بھی وکیل اپیلیٹ ٹربیونل کا چیئرپرسن تعینات ہو سکے گا۔اس کے علاوہ ترمیمی آرڈیننس میں اپیلیٹ ٹربیونل کے 2 ممبران کی تعیناتی کیلئے اہلیت بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ممبران کیلئے6 شعبوں میں کم ازکم 10 سال کا تجربہ لازم ہوگا اور ممبران کیلئے کامرس کی ڈگری بھی اہلیت میں شامل ہوگی۔ذرائع کے مطابق مسابقتی کمیشن نے فرٹیلائزر، سیمنٹ سمیت مختلف کمپنیز پر 27 ارب روپے جرمانہ کیا تھا تاہم 10سال گزرنے کے باوجود جرمانے کی یہ رقم وصول نہیں ہوسکی۔

ترمیم فیصلہ

مزید :

صفحہ آخر -