عوامی مقامام پر حفاظتی ماسک پہننا لازمی قرار، کورونا علاج کیلئے مؤثر دوا چند ہفتوں تک پاکستان میں بننا شروع ہو جائیگی: ظفر مرزا

  عوامی مقامام پر حفاظتی ماسک پہننا لازمی قرار، کورونا علاج کیلئے مؤثر دوا ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،این این آئی)وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کی وبائی صورتحال کے پیش نظر عوامی مقامات پر چہرے کو ڈھانپنے والے ماسک کو پہننا لازمی قرار دیدیا۔معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے حکومتی فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر فیس ماسک پہننا ضروری ہے، اس سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کرینگے، ماسک پر پابندی کے حوالے سے سختی کی جائے گی۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ کورونا وائرس کے خلاف امریکی کمپنی کی دوا‘’رمِڈزویئر”موثر ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان بھی اسے بنائے گا اور دنیا کے 127 ممالک کو ایکسپورٹ کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ تمام صوبائی وزائے صحت سے مل کر ایک قومی پروگرام وی کیئر تشکیل دے کر ایک لاکھ سے زائد ہیلتھ ورکرز کی ٹریننگ کا بندوبست کیا ہے۔ پاکستان کی پانچ صف اول کی میڈیکل جامعات کے ذریعے اس ٹریننگ کا پہلا مرحلہ مکمل کرینگے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے علاج میں مؤثر دوا ’رمڈیسیویر‘ کی تیاری پاکستان میں چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گی جس کی قیمت کم سے کم رکھنے کی کوشش کریں گے۔امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ہنگامی بنیادوں پر گیلیڈ سائنسز کی ایبولا وائرس کے لیے تیار کی گئی دوا 'رمڈیسیویر' کورونا کے مریضوں کو دینے کی اجازت دی تھی جس کو بنانے کے لیے امریکی کمپنی گیلیڈ سے پاکستان نے دو روز قبل معاہدہ کیا ہے۔اس متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کورونا وائرس کی ابھی نہ ویکسین ہے نہ کوئی مستند علاج مگر امریکا کی دوا ساز کمپنی نے ’رمڈیسیویر‘ دوا بنا کر کہا ہے کہ یہ کورونا کی موثر دوا ہے جو انجیکشن کی صورت میں ہے، اس کے استعمال سے مرض کی شدت میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ اس دوا کو بنانے کے لیے دنیا میں پانچ کمپنیوں کو لائسنس دیا گیا ہے جس میں سے ایک کمپنی پاکستان کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے 7 مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے دوا ساز کمپنی کے حکام سے میٹنگ بھی کی ہے اور چند ہفتوں میں ہی پاکستان میں اس دوا کی تیاری شروع ہو جائے گی۔معاون خصوصی نے بتایا کہ دوا کی رجسٹریشن 5 ہفتوں میں ہوگی جب کہ 8 ہفتوں کے دوران اس کی پیداوار شروع ہو جائے گی جس کے بعد پاکستان سے یہ دوا 127 ممالک کو ایکسپورٹ بھی کی جا سکے گی۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے اسی لیے ہماری کوشش ہے کہ یہ دوا کم سے کم قیمت میں یقینی بنائی جائے۔طبی عملے اور ڈاکٹرز کی حفاظت سے متعلق معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے خلاف صف اول میں لڑنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس کا تحفظ ناگزیر ہے اسی لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے وزارت صحت اور ماہرین سے رہنمائی لی اور ضابطہ کار تیار کیے گئے جو شعبہ صحت سے وابستہ تمام افراد کے لیے مختلف جگہوں پر آویزاں کیے گئے ہیں کیونکہ انفرادی حفاظتی سامان پر مکمل آگہی اور درست استعمال صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ صرف طبی عملہ ہی نہیں بلکہ کورونا کے خلاف فرض نبھانے والے ہر اول دستے کے ہر عظیم مجاہد تک رہنما اصول و ضوابط پہنچائے گئے ہیں۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ان رہنما اصولوں اور ضابطہ کار سے فوائد کے حقیقی حصول کے لیے ایک دستاویزی فلم بھی تیار کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کب، کس وقت، کن حالات میں کونسا انفرادی حفاظتی سامان استعمال کرنا ہے، ساتھ ہی اس فلم میں انفرادی حفاظتی سامان اور آلات کے استعمال کا مکمل طریقہ کار بھی واضح ہے۔انہوں نے کہا کہ دستاویزی فلم ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس، شعبہ صحت سے وابستہ دیگر افراد کے لیے بہترین بصری مدد ہے اس سے ڈاکٹرز کی معاونت، انفرادی حفاظتی سامان اور وسائل کے بہتر استعمال میں مدد مل سکے گی۔ڈاکٹر ظفرمرزا کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے انفرادی حفاظتی سامان اور آلات کے غیر ضروری استعمال کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی اور یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ حفاظتی سامان طبی مراکز، مریضوں کے پاس، آؤٹ پیشنٹ اور لیبارٹری پر ضروری ہے۔

ظفر مرزا

مزید :

صفحہ اول -