پنجاب حکومت کے عدلیہ سے وعدوں کی تکمیل میں بیورو کریسی رکاوٹ بن گئی

      پنجاب حکومت کے عدلیہ سے وعدوں کی تکمیل میں بیورو کریسی رکاوٹ بن گئی

  

لاہور(سعید چودھری)پنجاب کی بیوروکریسی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے عدلیہ سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بن گئی،عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کے تنازع کے حوالے سے چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو آگاہ کردیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق سابق چیف جسٹس مامون رشید شیخ کے دور میں سیکرٹری قانون پنجاب نذیر احمد گجانہ نے لاہورہائی کورٹ کے رجسٹراراور دیگر متعلقہ حکام کی وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کا اہتمام کیا،اس ملاقات کے دوران لاہورہائی کورٹ کے رجسٹرار کی طرف سے وزیراعلیٰ کو عدلیہ کے مختلف مسائل سے آگاہ کیا گیا،ملاقات میں ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ، ماتحت عدلیہ کے ججوں اور ملازمین کے یوٹیلٹی الاؤنس میں اضافے کا معاملہ بھی وزیراعلیٰ کے سامنے رکھاگیا،وزیراعلیٰ نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو یوٹیلٹی الاؤنس سمیت متعدد مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی،بعد میں ان معاملات میں صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت بھی شامل ہوگئے،وزیراعلیٰ سے ملاقات کے دوران طے پانے والے معاملات کی روشنی میں لاہورہائی کورٹ نے 8فروری 2020ء کو لاہور ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ اورپنجاب کی ماتحت عدالتوں کے ججوں و عملے کے یوٹیلٹی الاؤنس میں 3ہزار سے 22ہزار روپے تک کاماہانہ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جس کا اطلاق یکم دسمبر2019ء سے ہوناتھا،دو ہفتے بعد ہی محکمہ خزانہ پنجاب نے عدلیہ کے افسروں اور ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس بڑھانے کے لاہورہائی کورٹ کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کرنے سے انکار کردیااوراس سلسلے میں اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب،ڈی جی آڈٹ اورتمام ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسرز کو ہائیکورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کا مراسلہ بھجوادیا،ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے عدلیہ کے وفد سے جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کرنے کی راہ میں محکمہ خزانہ رکاوٹ بنا ہواہے،وزیراعلیٰ سے طے پانے والے معاملات سے متعلق طلب کی گئی دوسری رپورٹ میں بھی انتظامیہ نے عدلیہ کے موقف کی مخالفت کردی، ذرائع کے مطابق اب لاہورہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کی ہدایت پر چیف سیکرٹری پنجاب کو تمام معاملے سے آگاہ کردیاگیاہے،جنہوں نے اس مسئلہ کے حل کے لئے کردار اداکرنے کی یقین دہانی کروائی ہے،ذرائع کے مطابق لاہورہائی کورٹ کا موقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل175(3)،سپریم کورٹ کے 1994ء کے فیصلے اور پنجاب ڈیلیگیشن آف فنانشل پاورز رولز 2016ء کی روشنی میں عدلیہ کو یوٹیلٹی الاؤنس میں اضافہ سمیت متعدد مالی اختیارات حاصل ہیں،دوسری طرف محکمہ خزانہ کا موقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 115، 119، 208 اور 240 کے تحت صرف مجاز حکام کوہی عدلیہ کے ملازمین اور افسروں کا یوٹیلیٹی الاؤنس بڑھانے کا اختیار حاصل ہے، عدلیہ یہ اختیارات استعمال نہیں کرسکتی اور نہ ہی چیف جسٹس ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت کر سکتے ہیں، اختیارات کی تقسیم کی ڈاکٹرائن کے تحت ایگزیکٹو کے اختیار کو کوئی دوسرااستعمال نہیں کرسکتا،عدلیہ پبلک پالیسی بنانے والا ادارہ نہیں ہے،مقننہ،عدلیہ اور انتظامیہ ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کااختیار نہیں رکھتے، عدلیہ آئین کے مذکورہ آرٹیکلزکے تحت مجاز انتظامی حکام کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی، ہائیکورٹ کے براہ راست احکامات سے صوبائی کنسالیڈیٹ فنڈ متاثر ہوتا ہے، محکمہ فنانس سے کنسلٹ کئے بغیر عدلیہ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں اضافہ کیاگیا،ایسے نوٹیفکیشنز پر عمل درآمد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عدلیہ کے ملازمین کے لئے بجٹ کو منظور کرنے کے اختیار کو تسلیم کرنا اورانہیں خزانہ کے اختیارات دینے کے مترادف ہو گا۔

بیورو کریسی/ رکاوٹ

مزید :

صفحہ اول -