ٹرانسپورٹ کی بحالی، پنجاب، خیبر پختونخوا تیار، سندھ کا انکار،مزید لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے، ایس اوپیز کے تحت تمام کاروبار کھولیں گے: عمران خان

    ٹرانسپورٹ کی بحالی، پنجاب، خیبر پختونخوا تیار، سندھ کا انکار،مزید لاک ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ سٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) کے تحت ملک میں بند تمام کاروبار کو کھولا جائے گا۔پاکستان میں کورونا وائرس کی وبائی صورتحال اور لاک ڈاؤن کے بارے عوام کو بریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری حکومت کو پوری طرح سے لوگوں کی مشکلات کا احساس ہے۔ ہمیں ایک طرف کورونا کو جبکہ دوسری طرف اس کے معاشرے پر اثرات کو بھی دیکھنا ہے۔ ایس او پیز کے تحت تمام کاروبار کھولیں گے۔ دکاندار حضرات حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج میں طبی عملے سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں، انھیں فکر تھی کہ اگر لاک ڈاؤن کھولا گیا تو ہسپتالوں پر پریشر بڑھے گا۔ لیکن کیا لاک ڈاؤن سے وائرس ختم ہو جائے گا۔ دنیا بھر کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس سال کوئی ویکسین نہیں آ سکتی۔ ہمیں اس وائرس کیساتھ رہنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں جہاں جہاں لاک ڈاؤن کیا گیا وہاں دوبارہ سے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔ چینی شہر ووہان، سنگاپور اور کوریا اس کی مثالیں ہیں۔ میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ ہم چین، امریکا اور یورپ کی طرح لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن یا کاروبار کیسے بند کر سکتے ہیں؟ ہماری لیبر فورس کے مطابق اڑھائی کروڑ مزدور صرف اپنے دن یا ہفتے کی تنخواہ پر اکتفا کرتے ہیں، یہی اڑھائی کروڑ لوگ لاک ڈاؤن سے متاثر ہوئے اور ان لوگوں کے متاثر ہونے سے ملک کے دیگر 15 کروڑ عوام متاثر ہوئے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اگر لوگوں کو روزگار نہ دیا تو کورونا سے زیادہ لوگ بھوک سے مریں گے۔ میں بطور وزیراعظم سوچتا ہوں سفید پوش کیسے گزاراکر رہے ہونگے؟عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ 14 مئی تک 92 ہزار 695 کیسز ہونگے لیکن حکومتی اقدامت کی وجہ سے ملکی حالات کنٹرول میں ہیں۔ تاہم ابھی کیسوں میں اضافہ ہونا ہے، ہم اس کیلئے ذہنی طور پر مکمل تیار ہیں۔ ہو سکتا ہے جہاں کیسز بڑھیں، ان علاقوں کو لاک ڈاؤن کرنا پڑے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب تک ویکسین نہیں آجاتی اْس وقت تک وائرس کنٹرول نہیں ہوگا، اب ہمیں اس وائرس کے ساتھ رہنا ہے اور ہم مزید لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پہلے ہی 2 مہینے کا لاک ڈاؤن ہوچکا ہے، کیا ہم لاک ڈاؤن کے مزید متحمل ہوسکتے ہیں دیکھنا ہوگا؟ پاکستان میں مشکل سے 8 ارب ڈالر کا ریلیف پیکج دیا اور امریکا نے 2 ہزار ارب ڈالر کا پیکج دیا ہے، کیا ہم لاک ڈاؤن کرکے بزنس بند کرسکتے ہیں؟ ہم وہ لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے جو یورپ، امریکا اور چین نے کیا، ان ملکوں میں وہ غربت نہیں جو پاکستان میں ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ پبلک ٹرانسپورٹ کھول دیں، امریکا اور یورپ میں ہلاکتوں کے باوجود ٹرانسپورٹ اور ائیرٹریفک بند نہیں کی تو ہم نے کیوں کی ہوئی ہے؟ ہمارے لوگ بیروزگار ہوئے ہیں، ویب سائٹ پر بیروزگار ہونے کا بتانے والوں کو پرائم منسٹر ریلیف فنڈ سے پیر سے پیسے ٹرانسفر کریں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و کورونا وائرس کے حوالے سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول ا?پریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ میڈیا کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ کورونا آگاہی میں زبردست کردار ادا کیا اور عوام میں کورونا سے متعلق مؤثر پیغام پہنچایا، ہم ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے چل رہے ہیں اور ہم ٹیسٹنگ کی صلاحیت کو بھی بتدریج بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این سی او سی کے اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور ہم اگلے 6 ہفتوں کا بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے فیصلوں سے ایسی صورتحال نہیں پیدا ہوگی کہ اسپتالوں کا نظام مفلوج ہوتا نظر آئے۔دریں اثناوزیراعظم عمران خان سے اسپیکر خیبر پختونخواہ صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی نے اسلام آباد میں ملاقات کی مشتاق احمد غنی نے ابراہیمی ٹرسٹ پشاور کی جانب سے 50 لاکھ روپے کا چیک وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کے لئے وزیراعظم کو پیش کیا۔۔اسپیکر خیبر پختونخواہ نے وزیراعظم کو صوبہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سالانہ آڈٹ رپورٹ اور کارکردگی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف محکموں سے آڈٹ پیراز کی مد میں 5 ارب روپے کی ریکوری ڈالی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے مالی سال کے دوران کفایت شعاری مہم کے ذریعے تقریبا 12 کڑوڑ روپے کی بچت کی گئی۔ وزیراعظم نے ابراہیمی ٹرسٹ کی جانب سے کورونا ریلیف فنڈ میں حصہ ڈالنے کو سراہا اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں سرکاری خزانے کی بچت کے حوالے سے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہانے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف ہم باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ چل رہے ہیں، ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں 27 گنا اضافہ ہوچکا ہے، وائرس کے ٹیسٹ کے لیے 2 لیبارٹریز تھیں اور آج 70 لیبارٹریز ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے سرجیکل ماسک کی سپلائی میں زبردست کام کیا اور اس میں قلت نہیں ہے۔اسد عمر نے کہا کہ ہمارے فیصلوں کی روشنی میں آئندہ 6 ماہ میں ہسپتالوں کا نظام 6 ماہ میں مفلوج ہوتا دکھائی نہیں دے رہا لیکن اس کی شرط ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قرنطینہ کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور ڈیٹا ٹیکنالوجی کے ذریعے 500 سے زائد مقامات پر گلیوں اور گھروں کو لاک ڈاؤن کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے ان کی مدد کرنے کے لیے ملک میں کمیونٹی موبلائزیشن کی سب سے بڑی تنظیموں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے جو ہزاروں یونین کونسلز تک یہ پیغام پہنچائیں گی۔اسد عمر نے کہا کہ عوام کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ حکومت سچ بول رہی ہے اور کہیں ایسا ہوا کہ اندازے درست ثابت نہ ہوئے تو وہ بھی بتادیا جائے گا۔وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ عالمی وبا کورونا کی وجہ سے ملک میں تپ دق(ٹی بی)اور پولیو سمیت دیگر بیماریوں سے توجہ ہٹ رہی ہے۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اسٹاپ ٹی وی کی ماڈلنگ کے مطابق 3 ماہ کے لاک ڈاؤنز کے باعث اگلے 5 سال میں دنیا بھر میں اضافی 63 لاکھ افراد ٹی بی کا شکار ہوں گے اور 14 لاکھ اضافی اموات ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام تعطل کا شکار ہوگئے اور انسداد پولیو کی 2 مہمات بھی نہیں ہوسکی اور ان کے کیا اثرات آسکتے ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت کسی محاذ پر ہارنا نہیں چاہتی۔ان کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کورونا وائرس کے دوران دیگر بیماریوں کے اعداد و شمار خوفناک ہیں، ہمارے یہاں بیماری اور غربت کا آپس میں بہت تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ جب لاک ڈاؤن اور اس کے اثرات کی بات کرتے ہیں تو ان بیماریوں کا بھی غریب پر زیادہ اثر پڑے گا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فرنٹ لائن ورکرز کی مدد ہماری ترجیحات میں اولین رہی ہیں اور اب ہم نے این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام مرتب کیا ہے کہ ذاتی تحفظ کے سامان (پی پی ایز)کو براہ راست 400 سے زیادہ ہسپتالوں میں پہنچایا جارہا ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ہسپتالوں میں ان پی پی ایز کا استعمال صحیح نہیں ہورہا اور ایسا دیکھا گیا کہ جنہیں استعمال کرنا چاہیے انہیں کئی مرتبہ یہ دستیاب نہیں ہوتے اور جنہیں اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے وہ ان پی پی ایز کو پہنے ہوتے ہیں۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے تمام صوبائی وزرائے صحت کے ساتھ، پاکستان میڈیکل بورڈ مل کر قومی سطح پر ایک پروگرام تشکیل دیا ہے، جس کا نام 'وی کیئر' یعنی ہمیں آپ کا خیال ہے رکھا گیا ہے۔معاون خصوصی نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ہم نے ایک لاکھ فرنٹ لائن ورکرز کی تربیت کا فیصلہ کیا ہے جو یہ بتائی گی کہ کس ورکرز کو کونسا سامان استعمال کرنا چاہیے۔

عمران خان

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ سندھ حکومت نے فی الحال ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ۔پنجاب میں پیر سے شاپنگ مالز، آٹو موبائل انڈسٹری کے پیداواری یونٹسبھی کھولنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی کھولنے کی منظوری وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے دی۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کے زیر صدارت پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کے لیے پنجاب کے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ اجلاس ہوا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد رحمان گیلانی، سیکریٹری پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی محمد اقبال، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر راجہ بشارت نے کہا کہ حکومت کو کورونا سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹرز اور دیگر کاروباری طبقے کا بھی خیال ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اسی لیے مشروط طور پر پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے ٹرانسپورٹ پر واضح کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بہت کم ہوئی ہیں، اس کا فائدہ کرایوں میں کمی کی صورت میں عوام کو پہنچنا چاہیے۔ کرایوں میں کمی یا نظر ثانی کے لیے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مل کر نئے کرایے طے کریں گے۔لوکل ٹرانسپورٹ کے لیے جاری ایس او پیز میں کہا گیا ہے کہ دو سیٹوں پر ایک سواری، سوار ہوتے وقت مسافروں کے درمیان 3 فٹ کا فاصلہ، اے سی بند اور کھڑکیاں کھلی ہوں گی۔ٹرانسپورٹرز ہر چکر کے بعد بس کی ڈس انفیکشن اور ہر ٹرمینل پرسینی ٹائزر کی دستیابی یقینی بنائیں گے۔ مسافر اگلے دروازے سے سوار اور پچھلے دروازے سے اتریں گے۔ اس کے علاوہ بخار یا کھانسی کے حامل مسافر بس میں سوار نہیں ہو سکیں گے۔حکومتی کمیٹی پبلک ٹرانسپورٹ جلد چلانے کے لیے اپنی حتمی سفارشات وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی اور وہی آخری فیصلہ کریں گے۔ حکومت ٹرانسپورٹرز کیساتھ ایس او پیز طے کرے گی ان پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔صوبائی وزیر صنعت وتجارت پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پیر سے شاپنگ مالز اور آٹو موبائل انڈسٹری کو کھولنے کی اجازت دیدی جائے گی۔ متعلقہ شعبوں کے ساتھ مل کر ایس او پیز کو حتمی شکل دے دی۔حکومت کی جانب سے شاپنگ مالز کے اوقات کار کا بھی تعین کر دیا گیا۔ تاہم ایس او پیز کا سختی سے نفاذ ہوگا۔ تھرمل گن سے چیکنگ، ہینڈ سینٹی ٹائزر اور ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے گا۔ا?ٹو موبائل انڈسٹری پیداواری یونٹس کو ہفتے میں سات دن کام کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، شو رومز ہفتے میں چار دن کھلیں گے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے کہا ہے کہ عوامی سہولت کے لیے پیر18 مئی سے تمام پبلک ٹرانسپورٹ ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو ایس او پیز کے تحت کھولا جائے گا۔ کمشنرز،ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ٹراسپورٹز کے ساتھ مل کر ایس او پیز تشکیل دیں گے۔ تیل کی نئی قیمتوں کے مطابق نظرثانی شدہ کرایہ وصول کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کمشنر حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے ڈویڑن کے اندر انفرادی روٹ کھولنے کا فیصلہ کریں گے۔ایک ضلع کے اندرون یا ایک ضلع سے دوسرے ضلع کے روٹ کا فیصلہ بھی کمشنرز کریں گے۔ایسے روٹ جو مختلف ڈویڑنوں کی حدود میں ہوں، انکے کھولنے کا فیصلہ صوبائی سطح پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ وفاق کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔ پٹرول پمپ 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔ اس کے علاوہ حجام کی دکانیں ایس او پیز کے ساتھ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو 4 بجے تک کھلی رہ سکیں گی۔سندھ حکومت نے وزیراعظم کی جانب سے صوبوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی اپیل مسترد کردی ہے۔ وزیرا عظم کی گفتگو پر ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کے حکم کا احترام مگر پبلک ٹرانسپورٹ نہیں کھول سکتے کیوں کہ روزانہ کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں خود اعتراف کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے لوگ ایس او پی پر عمل نہیں کررہے۔انہوں نے کہا کہ تاجرون سے بار بار اپیل کی کے ایس او پی پر عمل کروائیں،اس کا نتیجہ بھی سب نے دیکھ لیا۔ایس او پی طے ہونے کہ بعدجب فیکٹری مالکان کو اجازت دی تو انہوں نے بھی ان پر عمل نہیں کیا۔ اس لیے صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں کھول سکتے۔ وزیراعظم صاحب سے اپیل ہے کہ آئیں مل کر کام کریں اس وقت صوبوں کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔دوسری طرف حکومت نے عید سے قبل محدود ٹرین آپریشن شروع کرنیکا فیصلہ کرلیا، ریلوے نے سفر کے ایس او پیز تیار کرلیے ہیں، ٹکٹ کی صرف آن لائن بکنگ ہوگی۔، پہلے مرحلے میں 24 ٹرینوں کوآپریشن کی اجازت دی جائے گی، ریلوے نیسفر کے ایس او پیز تیار کرلیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹکٹ کی صرف آن لائن بکنگ ہوگی، ٹکٹ گھراوربکنگ آفس بندرہیں گے، ٹرین روانگی سے24 گھنٹے قبل آن لائن بکنگ بند ہوجائیگی، صرف بکنگ والے مسافر ہی اسٹیشن میں داخل ہوسکیں گے،مسافر اپنیماسک اور دستانے کے بغیر ٹرین پرسفر نہ کر سکیں گے، اسٹیشن پرٹی اسٹال بند ہوں گے، مسافروں کو کھانے کا انتظام خود کرنا ہوگا،ہر بوگی میں 78 کی بجائے60مسافر سفر کرسکیں گے جبکہ ٹرین کی بزنس کلاس کیبن میں 6 کی بجائے4 افرادسفرکریں گے، بوگی کیدروازے صرف ریلوے اسٹیشن پر کھلیں گے، مسافر اپنے موبائل میں سیٹکٹ والا پیغام خود دکھائے گا، ریلوے اہلکار موبائل فون کوہاتھ نہیں لگائیگا، اسٹیشن یاٹرین پرکوروناٹیسٹ مثبت آنے پر مسافر کو قرنطینہ منتقل کردیاجائے گا۔پنجاب حکومت نے 20 بڑی مارکیٹوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا، پیر کے روز سے جو مارکیٹ ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کرے گی، اسے فوری بند کرایا جائے گاوزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے تمام بڑی مارکیٹوں کی سخت مانیٹرنگ کے احکامات جاری کردیئے، بڑی تاجرتنظیموں اور دکانداروں کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے حوالے سے دوبارہ آگاہ کردیا گیا، سب سے پہلے 20 بڑی مارکیٹوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی، جن میں شاہ عالم مارکیٹ، ہال روڈ، مال روڈ، اعظم کلاتھ مارکیٹ، اچھرہ بازار، انار کلی بازار اوراس سے ملحقہ مارکیٹیں شامل ہیں۔ رنگ محل، کشمیری بازار، دہلی دروازہ، شو مارکیٹ، باغبانپور بازار، چاہ میراں بازار، دھرم پورہ بازار اور ٹاؤن شپ مارکیٹ میں بھی سخت مانیٹرنگ اور خلاف وزری پر مارکیٹ بند کرا دی جائے گی، ادھر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے (آج) ہفتہ سے اندرون ملک 5 شہروں کے درمیان پروازیں چلانے کا اعلان کر دیا۔سول ایوی ایشن کے شیڈول کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان پروازیں شروع کی جائیں گی۔ سول ایوی ایشن کے شیڈول میں بتایا گیا ہے کہ لاہور سے 32، پشاور سے 4 اورکوئٹہ سے 6 پروازیں چلائی جا ئیں گی جبکہ یہ پروازیں اب ہفتے میں ایک دن چھوڑ کرچلائی جائیں گی۔ کراچی سے ملک کے دیگر شہروں کیلئے ہفتہ وار 369 پروازیں چلائی جاتی تھیں لیکن کورونا کی صورت حال کے پیش نظر اب صرف 68 پروازیں جبکہ اسلام آباد سے 228 کے بجائے 32 پروازیں چلائی جائیں گی۔۔سول ایوی ایشن ڈویڑن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مسافروں کے درمیان کم ازکم ایک سیٹ خالی رکھی جائیگی۔ دوران پرواز مسافروں کیلئے ماسک پہننا اور ہینڈ سینٹائزر کا استعمال لازمی ہوگا۔جہاز میں عملے کیلئے مشتبہ مریض سے نمٹنے کیلئے کورونا کٹ موجود ہونا ضروری ہوگا۔ ہر مسافر کیلئے جہاز میں بیٹھنے سے قبل ہیلتھ فارم پْر کرنا لازمی ہوگا۔ائیرپورٹ ہر مسافر کا تھرمل سکینر سے ٹمپریچر چیک کیا جائیگا۔ کورونا کی علامات والے مسافر کو وہیں سے ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا جائیگا۔ مسافر کو چھوڑنے یا لینے کیلئے آنیوالے ڈرائیوروں کو ائیرپورٹ پارکنگ میں ہی رکھنا ہوگا۔ انھیں ہوائی اڈے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔جہاز میں لوڈنگ سے قبل مسافروں کے سامان کو جراثیم سے پاک کیا جائیگا۔ ایس او پی 30 مئی تک نافذ العمل رہے گا اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائیگا۔

پبلک ٹرانسپورٹ

مزید :

صفحہ اول -