قومی اسمبلی، حکومتی و اپوزیشن ارکان میں تلخی، کورونا سے متعلق اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر

  قومی اسمبلی، حکومتی و اپوزیشن ارکان میں تلخی، کورونا سے متعلق اجلاس ہنگامہ ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کے اجلاس میں کورونا سے لڑنے کیلئے آنے والے حکومتی و اپوزیشن ارکان آپس میں لڑتے رہے۔ شازیہ مری کا مائیک بند کرنے پر اپوزیشن کا احتجاج،غلام سرور خان اور لیگی رکن کھیل داس کوہستانی میں جھڑپ ہوئی، کرونا کی صورتحال پر پورا ہفتہ جاری رہنے والا قومی اسمبلی کا اجلاس حکومت اور اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کی آپس میں توں تکار اور شور شرابے کے دوران غیر معینہ مدت تک ختم ہوگیا۔ قومی اسمبلی اجلاس جمعہ کے روز ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہواتو مسلم لیگ ن کے رکن احسن اقبال نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا شاہد خاقان عباسی کے بعد میں بھی مطالبہ کررہا ہوں حکومت کے پاس کورونا پالیسی کا ایک بھی پیپر ہے تو ایوان میں پیش کرے داخلہ خارجہ معاشی صحت دفاع کوئی پالیسی ہی نہیں ہے وزیر اعظم انا کے کوہ ہمالیہ پر چڑھے بیٹھے ہیں۔ این ایف سی اور اٹھارہویں ترمیم پر بلاضرورت بحث شروع کروادی گئی۔ شازیہ مری نے کہا سندھ کو بھی وفاق کا یونٹ مان لیں اور اس پر حملے بند کردیں اٹھارہویں ترمیم کسی صورت واپس نہیں ہوگی۔ شازیہ مری کا مائیک بند کرنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہ وباء کو قابو پانے کیلئے وفاقی حکومت نے وہ اقدامات نہیں کئے جو کرنا چاہیے تھے، 22ماہ میں حکومت کسی شعبہ میں بھی پالیسی دینے میں ناکام رہی، کرونا وباء سے نمٹنے کیلئے جو ریلیف فنڈز حکومت کو ملا ہے اس کا حساب ایوان میں پیش کرے، ریاستی اداروں سے لوگ لا کر حکومت چلائی جا رہی ہے، کورونا وائرس کے حوالے سے کام کی مانیٹرنگ کیلئے پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائی جائے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 50روپے کی جائے، حکومت وباء کو سنجیدگی سے لے، سندھ اب بمبئی ریذیڈنسی کا حصہ نہیں وفاق کی اہم اکائی ہے،سول حکومت کے کام فوج سے کرائے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہامیں اپنے آپکو اور اپنے خاندان کو احتساب کے لئے پیش کرتا ہوں مگر 1985سے اقتدار کے مزے لینے والوں کو بھی احتساب کا سامنا کرنا ہوگا۔ غلام سرور خان کی تقریر پر مسلم لیگ ن کے رکن کھیل داس کوہستانی بھڑک اٹھے بولے حکومت کو نوازشریف فوبیا ہوگیا ہے میرے قائد کے خلاف بات کروگے تو بات نہیں کرنے دوں گا۔ غلام سرور خان اور کھیل داس کوہستانی میں خاصی توں تکار ہوئی جس کے بعد ڈاکٹر بابر اعوان بولے کسی کی خواہش پر احتساب بند نہیں کیا جاسکتا مگر مناسب ترامیم پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وزیر ہوابازی غلام سرور خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا ہے کہ کوونا وائرس کی وباء ضرور بڑھ گئی ہے لیکن ہمارے قابو سے باہر نہیں ہے، صحت کے نظام کی استعداد کار میں اضافہ کر رہے ہیں، جب تک عوام حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے رہیں گے تباہی نہیں پھیلے گی، پاکستان میں وباء پر قابو پانے کیلئے عالمی معیار کے ماہرین موجود ہیں ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہترین کو آرڈینیشن سے کام کررہے ہیں، وباء نے پھیلنا ہے اس کے ساتھ اب ہم نے چلنا ہے، لوگوں کو معاشی بدحالی سے بچائیں گے، وفاقی حکومت کے کسی ٹیبل پر 18ویں ترمیم میں مزید ترمیم کے حوالے سے کوئی فائل موجود نہیں،کسی کی خواہش رپ احتساب کا عمل بند نہیں کیا جا سکتا، جائز ترامیم پر بات چیت کیلئے دروازے کھلے ہیں، اب تک ایک لاکھ بیرون ملک میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لیا ہے، نیب کو احتساب کیلئے خوش آمدید کہتے ہیں، حکومتی بینچوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، اپوزیشن کی طرح چیخ و پکار نہیں کریں گے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -