آئی جی پنجاب کی پولیس افسروں کو عوامی شکایات فوری حل کرنے کی ہدایت

آئی جی پنجاب کی پولیس افسروں کو عوامی شکایات فوری حل کرنے کی ہدایت

  

لاہور(کر ائم رپو رٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے کہاہے کہ پرائم منسٹر پورٹل اور8787کمپلینٹ سیل سمیت ہر فورم پر موصول ہونے والی شکایات بالخصوص انویسٹی گیشن سے متعلقہ عوامی شکایات کا بروقت اور فی الفور ازالہ اولین ترجیحات میں شامل ہے لہذا ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب ان تمام فورمز پر موصول ہونے والی شکایات کی خود مانیٹرنگ کریں اور درخواستوں کے فی الفو ر ازالے کیلئے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ شہریوں کودرپیش مسائل کے حل کا عمل مزید تیز ہوسکے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ انویسٹی گیشن کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے اور سنگین جرائم کی روک تھام کے حوالے سے ایڈیشنل آئی جی کیس اسٹڈیز کا بغور جائزہ لینے کے بعد ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات اور تجاویز پیش کریں جن کی روشنی میں تفتیشی افسران کو مزید گائیڈلائنز اورا یس اوپیز جاری کئے جاسکیں۔

 انہوں نے مزیدکہاکہ تفتیشی افسران کی استعداد کار میں اضافے کیلئے جدید ٹریننگ ماڈیولز اور انویسٹی گیشن سکلز پر مبنی ریفریشر کورسز اور ورکشاپس کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ افسران کی کارکردگی مزید بہتر ہو اور وہ کیسز کو جلد از جلد حل کرکے شہریوں کو انصاف کی فراہم کرسکیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کرائم اور انویسٹی گیشن سے متعلقہ تمام ریکارڈ اور ڈیٹا سسٹم میں بروقت فیڈ کیا جائے اور اس سلسلے میں انویسٹی گیشن اور آئی ٹی برانچز آپس میں کلوز کوارڈی نیشن رکھیں تاکہ ریکارڈ کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ مجرمان کی بیخ کنی کا عمل تیز تر ہوسکے۔ یہ ہدایات آئی جی پنجاب نے آج انویسٹی گیشن ونگ پنجاب کی ورکنگ اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔دوران اجلاس ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن فیاض احمد دیو نے مختلف پراجیکٹس اور محکمانہ امور سے متعلق بریفنگ دی دوران بریفنگ آئی جی پنجاب نے ہدایات دیتے ہوئے کہاکہ پولیسنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانے کیلئے انویسٹی گیشن اور کنوکشن ریٹ(Conviction Rate) میں اضافہ نہایت ضروری ہے لہذا تمام فیلڈافسران ذاتی توجہ، لگن اور محنت سے تمام کیسز کے بروقت حل کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں جدیدٹیکنالوجی اور فرانزک سائنس سے بھرپور استفاد ہ کیا جائے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں جرائم پیشہ افراد کے ڈیٹا کی بروقت انٹری کو یقینی بنایا جائے اور اگر کوئی شہری انویسٹی گیشن میں تبدیلی کیلئے درخواست دے تواسے ملحوظ خاطر رکھاجائے جبکہ انویسٹی گیشن میں غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف ڈسپلن میٹرکس کے مطابق کاروائی کی جائے۔

مزید :

علاقائی -