18ویں ترمیم پر پاک بھارت ایسی دشمنی

18ویں ترمیم پر پاک بھارت ایسی دشمنی
18ویں ترمیم پر پاک بھارت ایسی دشمنی

  

ملک میں خالی حکومت کو نہیں، اپوزیشن کو بھی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری قومی اسمبلی کے اجلاس سے اسی لئے عوام کوکچھ حاصل نہیں ہوا ہے اور وہاں بھی وہی پرانی بک بک سننے کو ملی جو پاکستانی سیاست کا وطیرہ بن چکی ہے۔ حکومت کی کیا ذمہ داری ہے، اپوزیشن کا کیا فرض ہے، سیاسی قیادت کو کیا کرنا چاہئے، اداروں کا طرز عمل کیا ہونا چاہئے.... اس حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس سے کچھ بھی پلے نہیں پڑتا، بس ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ میری اپنی عزت ہے نہیں اور تمھاری رہنے نہیں دینی!

ایسا کیوں ہے؟ ہمارے ملک میں سیاست بے توقیر کیوں ہوگئی، وکالت بے توقیر کیوں ہوگئی، صحافت بے توقیر کیوں ہو گئی، تجارت بے توقیر کیوں ہوگئی؟ یہ ملک بے توقیر کیوں ہوگیا؟ ایک ایک کرکے ریاست پاکستان کا ہر سٹیک ہولڈر اپنی وقعت کھو بیٹھا ہے اور اب سارے راستے ایک ہی منزل کی طرف جاتے ہیں، سب عقدے ایک ہی حل سے کھلتے ہیں، کیا ملک اس طرح چل سکے گا؟ کیا ہم ترقی کر سکیں گے؟ کیا ہماری آئندہ نسلیں ہم پر فخر کر سکیں گی؟

کہا جاتا تھا کہ عمران خان آئے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ اگر اوپر ایماندار آجاتا ہے تو نیچے سب کچھ خودبخود ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ عمران خان کے نام پر ہر عالمی ادارہ پاکستان میں آکر بیٹھ گیا ہے اور حکومت بس نام کی ہے جبکہ اس کی باگیں اوروں کے ہاتھ میں ہیں۔ وزیر اعظم سے جن کو توقعات تھیں، اب وہ بھی چپ ہیں اور خاموش تماشائی بنے وزیر اعظم کے مشیروں اور خصوصی معاونوں کے چالے دیکھ رہے ہیں۔

ادھر اپوزیشن ’اکوزیشن‘ بن چکی ہے، عوام ان سے خاص طور پر تنگ آچکے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر جو کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے، ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی اشارے کے منتظر ہیں، ہماری ساری سیاست قیادت اشاروں پر لگی ہوئی ہے، اشاروں کی زبان میں باتیں کرتی ہے، بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کا لوہا کیسے منوایا گیا تھا، ان کا منہ نہ کھلوایا جائے، بھئی اگر معلوم ہے تو وہ کیوں نہیں بتاتے، کب بتائیں گے جب انہیں اشارہ ہوگا، اگر ایسا ہی ہے تو پھر کاہے کی سیاست اور کاہے کی سیاسی قیادت جو عوام کے بجائے کسی اور جانب دیکھتی ہو اور عوام کے موڈ کی بجائے اشرافیہ کا موڈ دیکھتی ہو!

افسوس تو یہ ہے کہ نیب ختم ہوجانے کے باوجود بھی دھڑلے سے اپنی کاروائیوں میں مصروف ہے، اپوزیشن نیب نیازی گٹھ جوڑ کہنے سے آگے نہیں بڑھتی اور نیب پکڑ دھکڑ سے آگے نہیں بڑھ رہی، کرپشن ہوئی ہے یا نہیں ہوئی، نیب کی کاروائی ہو کر رہے گی، مقصد کرپشن کا خاتمہ نہیں بلکہ حکومت کے مخالفین کا خاتمہ ہے بلکہ اب تو بات حکومت سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔ ریاست نے خود سے جن کو اپنا مخالف مان لیاہوا ہے، ان کا قلع قمع کیا جا رہا ہے، انہیں عبرت کا نشان بنایاجارہا ہے، ایسے میں شاہد خاقان عباسی کی آواز جاندار دکھائی دیتی ہے لیکن وہ بھی تکرار پر اتر آئے ہیں، ان کے پاس بھی کوئی نئی بات نہیں رہی ہے، وہ بھی مکھی پر مکھی مار رہے ہیں، یعنی مسائل کا تذکرہ تو کر رہے ہیں مگر اس کے حل کے لئے ایسی باتیں نہیں بتا رہے جس سے معاشرہ آگے بڑھ سکے۔ اگر ہماری سیاسی قیادت ایسے ہی بودے پن کا مظاہرہ کرتی رہی تو یہ سوسائٹی بانجھ ہو جائے گی!

18ویں ترمیم پر بات ہو رہی ہے لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ اصل بات کیا ہورہی ہے، بھئی اگر وفاق کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے تو صوبوں کو تو ازخود ان وسائل کو پورا کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے لیکن یہاں تو لگتا ہے کہ صوبے کسی اور ملک کے ہیں اور وفاق کسی اور ملک کا ہے، ان دونوں فریقین کے درمیان ویسی ہی ٹھنی ہوئی ہے جیسی پاکستان اور بھارت کے مابین ٹھنی رہتی ہے کہ ایک دوسرے کو مانتے بھی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنا بھی نہیں چاہتے۔

ہمیں اس بے وقعت پن سے نکلنا ہوگا، معاشرے کے مختلف شعبوں کو آزادی سے کام کرنے دینا ہوگا کیونکہ جب لوگوں کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو ان کا بہت سا وقت اس آزادی کے حصول کی جدوجہد میں ضائع ہو جاتا ہے اور وقت تو ویسے بھی واپس نہیں آتا کجا کہ ضائع شدہ وقت کا نوحہ لکھا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ایک ادارہ بناتے بناتے باقی ہر ادارے کا بھرکس نکال بیٹھیں اور پھر وہ ادارہ اکیلا چاند پر بیٹھا چرخا کاتنے والی مائی کو اٹیاں بنابناکردے رہاہو!

مزید :

رائے -کالم -