بے روزگار ی پر قابو پانے کیلئے نئی صنعتوں کا قیام ناگزیر،رانا محمد سکندر

بے روزگار ی پر قابو پانے کیلئے نئی صنعتوں کا قیام ناگزیر،رانا محمد سکندر

  

فیصل آباد (کامرس ڈیسک) معاشی سرگرمیوں کی بندش کی وجہ سے آئندہ وفاقی اور صوبائی بجٹ مکمل طور پر ٹیکس فری ہونے چاہیں۔یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے زیر اہتمام ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والی بارہویں آل پاکستان چیمبرز پریزیڈنٹس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی کہا کہ حکومت کو نئی صنعتوں کے قیام کے ذریعے زیادہ سے زیادہ نئی نوکریاں پیدا کرنی چاہیں۔

تاکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے برآمدی صنعتوں کیلئے دوبارہ زیرو ریٹڈ سکیم متعارف کرانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح کو کم کر کے 5فیصد کیا جائے۔ مزید برآں اسی طرح دوسرے ٹیکسوں کی شرح کو بھی کم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاور لومز انڈسٹری کرونا وائرس سے متاثر ہونے والی بڑی گھریلو صنعتوں میں سے ایک ہے اس سے لاکھوں خاندانوں کا بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر روزگاروابستہ ہے۔ یہ انڈسٹری پچھلے دو ماہ سے مکمل طور پر بند پڑی ہے جس کی وجہ سے اس سے وابستہ افراد شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت نے کرونا سے متاثرہ مختلف سیکٹرز کیلئے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے جن میں چھوٹی صنعتوں کیلئے تین ماہ کے بجلی بلوں کا کریڈٹ،سٹیٹ بینک کی طرف سے ورکرز کی تنخواہوں کیلئے قرضہ اور بے روزگار ہونے والے افراد کیلئے بارہ ہزار روپے کے پیکج شامل ہیں۔ لیکن پاور لومز انڈسٹری سے متعلقہ تمام شعبے ان سہولتوں سے محروم ہیں۔ رانا محمد سکندر اعظم خاں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے اثرات بجلی کی قیمتوں پر بھی ہونے چاہیں مگر بجلی کے ریٹس میں کوئی کمی نہیں کی گئی لہٰذا بجلی کی قیمتوں میں کم از کم 30فیصد کمی کی جائے۔

مزید :

کامرس -