پختون ایس ایف کی جانب سے آن لائن کلاسز مسترد

پختون ایس ایف کی جانب سے آن لائن کلاسز مسترد

  

پشاور (سٹی رپورٹر)پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پشاور یونیورسٹی نے جامعات میں ان لائن کلاسز کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقہ اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ کی بحالی تک ان لائن کلاسز کسی صورت قبول نہیں جبکہ جامعات کے سمیسٹر فیسوں میں کمی کرنے سمیت صوبہ کے جامعات کو درپیش مالی بحران کے خاتمہ کیلئے اقدامات کیے جائے اور جامعات میں ہراسگی کے واقعات کی تحقیقات کی جائے یہ بات فیڈریشن کے جی ایس ملک خسنین نے پرگریسئیو سٹوڈنٹس کلکٹیو کے زیر اہتمام ملکی سطح پر طلبہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے منعقدہ ان لائن کانفرنس سے اپنے خطاب میں کی انہوں نے کہا کہ ان لائن کلاسز تب تک کسی صورت بھی منظور نہیں ہیں جب تک خیبرپختونخوا بشمول قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ بحال نہیں کیا جائے جو جون 2016 سے منقطع کیا گیا ہے جسکی وجہ سے قبائلی طلبہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ ان لائن تعلیم سے مستفید نہیں ہو سکتے اسی طرح موجودہ معاشی ھالات کو دیکھتے ہوئے غریب طلبہ کیلئے سمیسٹر فیس کسی عذاب سے کم نہیں جبکہ صوبہ کے جامعات بھی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور جامعات میں طلبہ کو ہراسگی جیہسے مسائک کا بھی سامنا ہے جسکا سد باب ہونا چاہئے تاکہ شرح خواندگی متاثر نہ ہو اور جامعات کا ماحول بھی خراب ہونے سے بچ سکیں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن جامعہ پشاور نے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ کی بحالی ممکن بنائی جائے جبکہ جامعات میں ہراسگی کے واقعات کی تحقیقات کرانے اور سمیسٹر فیسوں میں پچاس فیصد کمی کرنے کیساتھ ساتھ صوبہ میں جامعات کو درپیش مالی بحران سے نلکالنے کیلئے مالی تعاون کیا جائے تاکہ صوبہ مکے جامعات دیوالیہ ہونے سے بچ سکیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -