پیف سکولز معاملہ مزید سنگین‘ اساتذہ‘ بچوں کا مستقبل تاریک ہونیکا امکان

  پیف سکولز معاملہ مزید سنگین‘ اساتذہ‘ بچوں کا مستقبل تاریک ہونیکا امکان

  

ملتان (سٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے وزیر اعلی ٰ کی ہدایت اورسپیکر پنجاب اسمبلی کی تشکیل کردہ پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کو بھی اہمیت نہ دی‘پیف سکولز کو واجبات کی ادائیگیوں کا مسئلہ حل نہ ہو سکا‘ لاکھوں غریب بچوں اور ہزاروں اساتذہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا‘اساتذہ کے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی‘پیف سکولز اتحاد ایکشن کمیٹی نے (بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

19مئی کو دوبارہ پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا‘وزیر اعلی ٰ ہاؤس تونسہ کے باہر بھی دوبارہ دھرنے اور عیدالفطر پر بنی گالہ اسلام آباد کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کی تیاریاں بھی کرلی گئیں‘بتایا گیا ہے کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے کئی ماہ سے واجبات کی عدم ادائیگیوں کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی پیف سکولز اتحاد پنجاب نے وزیر اعلی ٰ ہاؤس تونسہ کے باہر دھرنے کے بعد پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنادیدیا جس پر تونسہ میں 100سکولز مالکان اور لاہور میں 200سکولز مالکان کیخلاف مقدمہ درج کیا گیاجس کا وزیر اعلی ٰ سردار عثمان بزدار نے سخت نوٹس لیا اور چیف سیکرٹری پنجاب‘ سیکرٹری تعلیم سکولز پنجاب اور ایم ڈی پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن پر برہم ہوئے اور مسئلہ فوری حل کرنے اور واجبات کی عید الفطر سے قبل ادائیگیوں کا حکم دے دیا مگر اپنے وزیر تعلیم مراد راس کو نہ سمجھا سکے جنہو ں نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے اور ابھی تک اپنی ضد پر اس حد تک اڑے ہوئے ہیں کہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے اس مسئلے پر تشکیل کردہ پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کو بھی اہمیت نہیں دی اور اس کمیٹی کے روبرو پیش ہونے سے صاف انکار کر دیا جس کے باعث معاملات مزید بگڑگئے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی پیف سکولز اتحاد نے 19مئی کو دوبارہ پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان کردیا جبکہ وزیر اعلی ٰ ہاؤس تونسہ کے باہر انڈس ہائی وے پر بھی دوبارہ دھرنا دینے اور عیدالفطر پر بنی گالہ اسلام آباد کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔اس بارے میں رابطہ کرنے پر فیڈریشن آف رجسٹرڈ سکولز پنجاب کے چیئرمین و ممبر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پیف سکولز اتحاد پنجاب فرید خان بنگش نے بتایا کہ یہ معاملہ وزیر اعلی ٰ سردار عثمان بزدار کا امتحان اور ان کی گڈ گورننس‘ اختیارات اور کنٹرول پر ایک سوالیہ نشان ہے‘ دراصل صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کو یہ بات پسند نہیں کہ پیف سکولز پروگرام سے 73فیصد استفادہ جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کے غریب بچے کر رہے ہیں جن کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے‘اس لئے وہ پیف پروگرام کے خلا ف ہوگئے ہیں اورتعصب اور ضد میں آکر حیلے بہانوں سے مسائل کھڑے کر رہے ہیں‘ انہیں خداخوفی کرنی چاہئیے‘ کسی کا جائز حق مارنے والے کبھی خود سکون نہیں پاسکتے‘پیف سکولز کے کئی ماہ کے واجبات روک کر سکولز مالکان‘ سٹاف اور غریب بچوں کوتنگ‘ پریشان اور مشکلات کا شکار کرکے انہیں کچھ نہیں ملے گا‘ صوبائی وزیر تعلیم ماضی پر نظر ڈالیں کہ حکمرانی اور اختیارات کا غرور کرنے والے جب اللہ کی پکڑ میں آئے تو ان کا انجام کیا ہوا‘ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ اپنے حق کیلئے ہم آخری حد تک جائیں گے اور عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا آپشن بھی استعمال کریں گے‘ پنجاب اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی کو تو اہمیت نہیں دی مگر جب عدلیہ میں معاملہ آئے گا تو دیکھیں گے کہ طاقتور وزیر کا رویہ تب کیسا ہوگا۔

امکان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -