دکانداروں پر 10لاکھ جرمانے کا فیصلہ قابل مذمت ہے: حافظ نعیم الرحمن

دکانداروں پر 10لاکھ جرمانے کا فیصلہ قابل مذمت ہے: حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت کی جانب سے ایس اوپیز پر عمل نہ کرنے کی صورت میں دکانداروں پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ دوکاندار اپنی دوکان میں توایس اوپیز پر عمل کرنے کا پابند ہے لیکن گاہکوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرانا حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے،دوکان کے باہر موجود گاہکوں کی ذمہ داری بھی اگر دوکانداروں پر عائد کردی جائے گی تو حکومت کا کیاکام رہ جائے گا؟۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دکانداروں پر جرمانے عائد کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں پولیس کے لیے رشوت خوری کا ایک نیا راستہ بن جائے گا۔انہوں نے کہاکہ گورنر سندھ کے دستخط سے جاری ہونے والے آرڈیننس کے مطابق ایس اوپیز پر عمل نہ کرنے،کرونا وائرس پھیلانے کے الزام میں دکانداروں پر 10لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے تو انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تفتان کی سرحد سے لوگوں کو پاکستان میں داخل کروانے والے وفاقی وزراء کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے ان پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے ہی گزشتہ 2ماہ سے لاک ڈاؤن کے باعث کاروبارمکمل بند ہے جس کے باعث کاروباری طبقہ شدید ذہنی ومالی اذیت کاشکار ہے ایسی صورتحال میں سندھ حکومت نے صبح 6بجے سے شام 4تک کاروبار کرنے کی اجازت دی ہے، ایک طویل عرصے کے بعد اور عید کے تہوار کے نزدیک چار دن اورمحض چند گھنٹوں کے لیے کاروبار کی اجازت دینا صریحا نا انصافی ہے،آج مارکیٹوں اور بازاروں میں رش ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ صرف چند گھنٹوں کے لیے دوکانیں کھولی جارہی ہیں اسی لیے مارکیٹوں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آرہا ہے۔طویل عرصے سے مارکیٹیں بند تھیں، عید الفطر قریب ہے،عوام کی اکثریت وقت محدود اور دن کم رہ جانے کی وجہ سے بازاروں اور مارکیٹوں میں متعین وقت میں ہی خریداری کرنے پر مجبور ہیں اس لیے ضروری ہے کہ سندھ حکومت مارکیٹ کھولنے کے دنوں اور اوقات میں اضافہ کرے تاکہ شہری رش سے بچتے ہوئے آسانی سے خریداری کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت مارکیٹوں میں رش اور ایس اوپیز کوجواز بناکر دوکانداروں پر جرمانے عائد کرنے کے لیے مستعد ہے لیکن دوسری جانب مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ مصروف شاہراہوں پر بھی رش بڑھتا جارہا ہے،یہاں تک کہ جگہ جگہ ٹریفک جام ہورہا ہے لیکن حکومت اور ٹریفک پولیس کی جانب سے صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے کوئی انتظامات دیکھنے میں نہیں آرہے ہیں۔ سڑکوں اور بازاروں میں ہجوم کا نظم وضبط برقرار رکھنا حکومت اور ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹریفک پولیس غیر مقامی ہونے کی وجہ سے شہر سے باہر چلی گئی ہے۔ انتظامیہ کو چاہیئے کہ فوری اس صورتحال کا نوٹس لے اور مناسب اقدام کرے۔حافظ نعیم الرحمن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری بازاروں کا رُخ نہ کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -