کرونا کے مریض کی لاش لے جانے سے روکنے پر لواحقین آپے سے باہر

  کرونا کے مریض کی لاش لے جانے سے روکنے پر لواحقین آپے سے باہر

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)شہر قائد کے جناح اسپتال میں کرونا سے مرنے والے مریض کی لاش زبردستی ساتھ لے جانے سے روکنے پر مشتعل افراد نے شدید ہنگامہ آرائی کی اور ڈاکٹرز کو بھی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں مبینہ طور پر کورونا کامریض انتقال کرگیا، جس کے بعد لواحقین نے کورونا وارڑ نمبر 23 میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی۔کرونا سے متاثرہ مریض کے انتقال کے بعد مشتعل افراد نے لاش زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔ڈاکٹرز کے روکنے پر مرنے والے شخص کے لواحقین مشتعل ہوئے اور انہوں نے کرونا کے لیے مختص وارڈ کا کاؤنٹر اور گیٹ کے شیشے توڑ دیے جبکہ عملے کو بھی زدوکوب کیا۔لواحقین نے اسپتال میں موجود دیگر سامان کو نقصان پہنچایا۔جناح اسپتال کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹرڈاکٹرسیمی جمالی نے بتایا کہ مبینہ طور پر کورونا میں مبتلا مریض کے انتقال پر اسپتال انتظامیہ کی لاش دینے میں تاخیر پر لواحقین آپے سے باہر ہوگئے اور 20سے زائد افراد نے وارڈ نمبر 23میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور عملے پر تشدد کیا۔سیمی جمالی نے بتایا کہ مشتعل افراد نے مشینوں اورکاؤنٹرزکو نقصان پہنچایا جبکہ عملے پر بھی تشدد کیا،پولیس نے اسپتال میں ہنگامہ کرنے والے 10افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ مقدمے کا اندراج اسپتال انتظامیہ کی مشاورت کے بعد کیا جائیگا۔ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق کورونا وائرس کے مریض کے انتقال پر ڈی ایچ او کو آگاہ کیا جاتا ہے اور قانونی کارروائی کرنے میں دیر ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر سیمی جمالی نے فوری طور پر پولیس اور رینجرز کو واقعے سے متعلق آگاہ کیا جس کے بعد رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری اسپتال پہنچی۔پولیس اور رینجرز کی نفری نے جناح اسپتال پہنچ کر ہنگامہ آرائی کرنے والے متعدد افراد کو حراست میں لیا۔بعد ازاں تحریک انصاف کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے ڈاکٹر سیمی جمالی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور پیش آنے والے واقعے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔خرم شیر زمان نے توڑ پھوڑ کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام ایسی صورت حال میں صبر کا مظاہرہ کرے، اسپتالوں کاخیال رکھناحکومت ہی نہیں عوام کی بھی ذمہ داری ہے،اسپتالوں کو پہنچنے والے نقصان سے دوسرے مریض بھی متاثر ہوتے ہیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -