کراچی، محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ میگا کرپشن اسکینڈل نیب کو منتقل

  کراچی، محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ میگا کرپشن اسکینڈل نیب کو منتقل

  

کراچی(این این آئی)اینٹی کرپشن ایسٹ زون نے محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ میگا کرپشن اسکینڈل کو نیب منتقل کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن ایسٹ زون نے محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ میگا کرپشن اسکینڈل میں قناصرو سسٹم کی جانب سے بار بار انکوائری میں رکاوٹیں ڈالنے پر ان کے خلاف کی جانے والی تحقیقات نیب کو منتقل کردی ہیں۔اینٹی کرپشن ایسٹ زون کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ضمیر عباسی نے پوری فائل نیب کو بھیج دی ہے،اس فائل میں ڈی جی منظور قناصرو،ان کے بھائی روشن قناصرو،اکاؤنٹ افسر حاکم راھوجو اور دیگر کے خلاف کرپشن،غیرقانونی اثاثے بنانے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ نواز ابڑو،مدثر کچھی،اختیار منگی، ظہیر شیخ، گلشن کلیری اور دیگر کے بھی نام شامل کئے گئے ہیں، ساتھ ہی ولی اللہ بھٹو اور دیگر من پسند ٹھیکیداروں کے نام بھی شامل ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ اس فائل میں حاکم راھوجو کے اہل خانہ، سالوں اور فرنٹ مین لقمان کا نام بھی شامل ہے جبکہ اینٹی کرپشن نے قناصرو برادرز کے اہل خانہ، عزیز و اقارب کو بھی شامل تفتیش کرنے کی سفارش کی ہے۔اینٹی کرپشن کے خط میں کہا گیا ہے کہ قناصرو سسٹم نے محکمہ ثقافت میں ایک منظم طریقے سے کرپشن کر کے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا،سمبارا ہوٹل پر 1500 روپے کی تنخواہ پر مزدوری کرنے والے بدر قناصرو کی دبئی میں پراپرٹی کے متعلق بھی مزید تفتیش کی جائے۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن نے فائل ارسال کرنے کے ساتھ ساتھ نیب حکام سے رابطہ بھی کیا،اس کے علاوہ اینٹی کرپشن نے روشن قناصرو کے بیٹے عارف کے بینک اکانٹس کی تفصیلات بھی حاصل کی تھیں۔اینٹی کرپشن حکام حیران تھے کہ عارف قناصرو کی عمر 24 سال ہے،17 برس کی عمر میں کروڑوں روپے کیسے بنائے؟ جب کہ والد کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتا تھا؟

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -