رسک الاؤنس کورونا وارڈ میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں و طبی عملے کو دیا جائے گا

  رسک الاؤنس کورونا وارڈ میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں و طبی عملے کو دیا جائے ...

  

کراچی(این این آئی)سیکرٹری فنانس سندھ کی جانب سے صرف کورونا ورارڈ میں ڈیوٹی دینے والے طبی عملے کو رسک الاؤنس دینے اور دیگر کو نظر انداز کرنے پر کراچی سمیت سندھ بھر کے70ہزار سے زائد پیرا میڈیکس میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ محکمہ صحت نے ڈاکٹروں،پیرا میڈیکس اور نرسز کو رسک الانس دینے کی سمری محکمہ فنانس کو ارسال کی تھی مگر محکمہ فنانس نے سمری یہ کہہ کر واپس کر دی کہ رسک الاؤنس صرف کورونا وارڈ میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں،پیرا میڈیکس اور نرسز کو دی جائے گی حالانکہ پنجاب،کے پی کے اور بلوچستان میں محکمہ صحت کے تمام ملازمین کو رسک الانس جاری کیا جا چکا ہے مگر سندھ میں رسک الانس کو محدود کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری فنانس کے اس اقدام سے ڈاکٹرز،پیدا میڈیکس اور نرسز کے حوصلے پست ہوئے ہیں اور کراچی کے6ہزار جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع کے70ہزار سے زائد پیرا میڈیکس میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔پیرا میڈیکس تنظیموں کے نمائندو ں نے سیکریٹری فنانس کی جانب سے صرف کورونا ورارڈ میں ڈیوٹی دینے والے طبی عملے کو رسک الانس دینے اور دیگر عملہ کو نظر انداز کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس اور نرسز فرنٹ لائن پر ہیں کیونکہ جب کورونا کا کوئی مریض اسپتال آتا ہے تو کسی کو نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کورونا کے مرض میں مبتلا ہے ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس اور نرسز اپنی جان کو خطرات میں ڈال کراس مریض کا علاج کرتے ہیں اورابتدائی ٹریٹمنٹ کے بعد جب معلوم ہوتا ہے کہ یہ مریض کورونا کے مرض میں مبتلا ہے تب وارڈ میں شفٹ کیا جاتا ہے۔ابتدائی علاج کے دوران ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس اور نرسز ہی کو ان خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پھر رسک الانس صرف کورونا وارڈ کو دیناناانصافی کے مترادف ہے۔پیرا میڈیکس تنظیموں نے وزیر اعلی سندھ سیرد مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو سے اپیل کی ہے کہ رسک الانس محکمہ صحت کے تمام ملازمین کو بلا امتیاز دیا جائے کیونکہ تمام ملازمین گذشتہ3ماہ سے کسی چھٹی کے بغیر اپنی زندگیوں کو خطرات میں ڈال کر ہنگامی ڈیوٹی کر رہے ہیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -