90کی دہائی میں ہونے والی میچ فکسنگ پر مشتاق احمد بھی بول پڑے ،حیران کن بات کہہ دی

90کی دہائی میں ہونے والی میچ فکسنگ پر مشتاق احمد بھی بول پڑے ،حیران کن بات کہہ ...
90کی دہائی میں ہونے والی میچ فکسنگ پر مشتاق احمد بھی بول پڑے ،حیران کن بات کہہ دی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )90 کی دہائی میں میچ فکسنگ کی بحث کے حوالے سے 90 ہی کی دہائی کے کرکٹر مشتا ق احمد کا کہنا ہے کہ ماضی کی چیزوں کو بھول کر آگے بڑھنا چاہیے، ان کو کریدنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ماضی کی باتیں کرنے سے دوسروں کو پاکستان پر ہنسنے کا موقع ملتا ہے۔لیگ سپنر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے عالمی وبا بن کر پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، ہمیں اللہ سے بڑی امید ہے کہ اس وبا سے ہمیں چھٹکارا ملے گا لیکن دنیا اس وقت جس صورتحال سے گزر رہی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو پریشانی سے بچانے اور انہیں ذہنی طور پر مضبوط کرنے کے لیے کھیلوں کی سرگرمیاں فوری طور پر شروع کرنی چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے اس کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی، اس کے لیے نئے قوانین بنیں، روایات میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے تو وہ بھی کریں، گیند کو تھوک سے چمکانے اور جشن منانے کی ممانعت ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ تو ایسی چیزیں ہیں کہ جب حالات نارمل ہوں اور کورونا ختم ہو جائے تو دوبارہ پرانے قوانین اور پرانی روایات کو واپس لایا جا سکتا ہے۔مشتاق احمد نے کہا کہ بند دروازوں میں بھی کرکٹ کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بس کرکٹ ہونی چایئے، لوگ گھروں میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں، لوگوں کو تفریح کی ضرورت ہے، انہیں ریلیکس ہونا ہے، انہیں ذہنی سکون درکار ہے۔

مزید :

کھیل -