شوہر کی جانب سے کافی مہیا نہ کرنے پر ترک بیویوں کو طلاق لینے کی اجازت، ترکوں کی وہ روایات جس کے بارے میں لوگوں کو معلوم نہیں

شوہر کی جانب سے کافی مہیا نہ کرنے پر ترک بیویوں کو طلاق لینے کی اجازت، ترکوں ...
شوہر کی جانب سے کافی مہیا نہ کرنے پر ترک بیویوں کو طلاق لینے کی اجازت، ترکوں کی وہ روایات جس کے بارے میں لوگوں کو معلوم نہیں

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک قوم عظیم ثقافتی ورثے کی امین ہے جس کی کئی روایات مسلم معاشروں کے لیے قابل رشک ہیں۔ تاہم ترک معاشرے کی کچھ ایسی روایات بھی رہی ہیں کہ سن کر ہمارے جیسے معاشرے کے لوگوں کے لیے یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ آج ہم آپ کو ترکوں کی ایک ایسی ہی روایت کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں۔ ویب سائٹ didyouknowdaily.com کے مطابق صدیوں تک ترک معاشرے میں ’کافی‘ ایسا اہمیت کا حامل مشروب تھا کہ 15ویں صدی عیسوی کے قانون میں ترک خواتین کو اجازت دی گئی تھی کہ اگر شوہر انہیں کافی مہیا نہ کر سکیں تو وہ ان سے طلاق لے سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 15ویں صدی عیسوی میں ہی استنبول اور دیگر ترک شہروں میں بے شمار کافی شاپس کھلیں جو لوگوں کے جمع ہونے کے سب سے بڑے مراکز بن گئیں۔ ان کافی شاپس پر سیاست و معاشرتی مذاکرے معمول کی بات تھے۔ خلافت عثمانیہ کے دوران ترکوں نے کافی بنانے کے فن میں کئی اختراعیں کیں۔ انہوں نے کافی میں لونگ، دار چینی اور دیگر ایسی چیزوں کا استعمال شروع کیا اور کافی کے مسالے دار ورژن بنائے جو آج بھی ترکی میں کئی جگہوں پر ملتے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -