رویت ہلال، فواد چودھری کو بھی یقین آ گیا؟

رویت ہلال، فواد چودھری کو بھی یقین آ گیا؟
رویت ہلال، فواد چودھری کو بھی یقین آ گیا؟

  

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اس عید کے موقع پر اپنی ناکامی کو تسلیم کر لیا کہ وہ اپنی تمام تر کوشش اور دلائل کے باوجود سائنس کے اصولوں کے مطابق ہجری چاند کی رویت کو کیلنڈر کے مطابق نہیں بنوا پائے۔ ان کا یہ اعتراف نئی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے اعلان عید کے حوالے سے ہوا، ایک ٹویٹ میں انہوں نے اصرار کیا کہ بدھ کو چاند کی رویت ممکن ہی نہیں تھی کہ سائنس کی رو سے اس روز چاند نظر آ ہی نہیں سکتا تھا، اس کے حق میں انہوں نے چاند کی پیدائش اور عمر کا بھی تذکرہ کیا، اسی ٹویٹ میں ان کا ایک اور اعتراف بھی شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں، جھوٹ بول کر عید منانا مناسب نہیں ہو سکتا، صاف کیوں نہیں کہتے کہ یہ حضرات عید سعودی عرب اور افغانستان کے ساتھ منانا چاہتے ہیں۔ فواد چودھری نے خود ایک بڑی حقیقت کو تسلیم کیا کہ یہ حضرات (شمال والے) عید سعودی عرب کے ساتھ منانا چاہتے ہیں۔ فواد چودھری سے ہمارے تعلقات ایسے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ ان کی باتوں پر لکھنے سے گریز کیا کہ ہم ان کارکن صحافیوں کی صف میں ہیں جو کسی خوف اور لالچ کی بنا پر سچ سے گریز نہیں کرتے کہ صحافی تو بنیادی طور پر عوام کے ساتھ چلتا ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ ہم کسی تعلق یا مجبوری کی بنا پر سچ لکھ نہ پائیں تو جھوٹ سے گریز کرنے کے لئے خاموش ہو جاتے ہیں۔ فواد چودھری بھی اسی زمرے میں ہیں، لیکن آج یہ تحریر اس لئے لکھنا پڑھی کہ انہوں نے وہ حقیقت خود تسلیم کر لی جو ہم کئی بار لکھ چکے کہ حضرت مولانا مفتی پوپلزئی اور ان کے رفقاء کا مسئلہ اور کچھ نہیں، وہ سب سعودی عرب کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ فواد چودھری نے مزید آگے بڑھ کر اس میں افغانستان کو بھی شامل کرلیا ہے۔

اس بار چاند کی رویت کا اعلان نئی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی ذمہ داری تھی اور ہے جو برادر فواد چودھری ہی کی کاوشوں کے نتیجے میں وجود میں آئی کہ وہ مفتی منیب الرحمن کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے ”متھا“ لگا بیٹھے تھے۔ حالانکہ مفتی منیب الرحمن نے سائنس کی افادیت سے کبھی انکار نہیں کیا، وہ تو یہ کہتے رہے کہ محکمہ فلکیات و موسمیات اور ماحولیات والے ان کے معاون ہیں،تاہم ایسا محسوس ہونے لگا کہ فواد چودھری کو ان سے چڑ ہو گئی۔ بہرحال مفتی منیب الرحمن سال ہا سال  یہ خدمت انجام دینے کے بعد رخصت ہو گئے اور ان کی جگہ بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد چیئرمین نامزد کئے گئے جو خطیب شاہی مسجد کی وجہ سے محکمہ اوقاف پنجاب کے باقاعدہ ملازم ہیں، فرق مفتی اور مولانا کا بھی ہے۔ بہرحال نئی رویت ہلال کمیٹی کا یہ پہلا امتحان تھا اور یہ کمیٹی اس میں ”کامیاب“ رہی کہ پوری دنیا میں اس سال اہل اسلام نے پورے 30روزے رکھے، لیکن اس کمیٹی کی ”مہربانی“ سے پاکستان میں 29رہ گئے، حالانکہ ماحولیات، فلکیات اور موسمیات کے محکموں نے باقاعدہ حساب لگا کر بتا دیا تھا کہ اس سال رمضان المبارک کا مہینہ 30کا ہوگا اور سعودی عرب سمیت پوری دنیا میں یہی ہوا۔ دلچسپ اور حقیقت افروز امر یہ ہے کہ اس سال پوری دنیا میں کہیں سے چاند کی رویت پر تنازعہ کی خبر موصول نہیں ہوئی، لیکن پاکستان میں ہیجان برپا ہو گیا کہ لوگ مطمئن ہو کر سو گئے۔ ہمارے سمیت سب نے سحری کی تیاری کرلی تھی، لیکن حیرت انگیز طور پر رات ساڑھے گیارہ بجے رویت کا اعلان کر دیا گیا۔ لوگ چیخ اُٹھے۔ کوئی ماننے اور تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا۔ زیادہ صدمہ خود فواد چودھری ہی کو ہوا، جو ان کے ٹویٹ سے ظاہر ہے۔

ہمیں جو اڑتی اڑتی (چڑیا والی نہیں) سی خبریں ملیں، وہ یہ کہ یہ تاخیر اس لئے ہوئی کہ قبلہ گاہان اور رویت ہلال کمیٹی حضرت مولانا مفتی پوپلزئی آف پشاورکو آمادہ کرتے رہے کہ وہ رویت کے بارے میں اپنا اعلان واپس لے لیں، وجہ واضح تھی کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے پاس مصدقہ اطلاع نہیں تھی کہ چاند نظر آ گیا ہے۔ دل سے قائل تھے کہ پاکستان میں عید جمعہ ہی کو ہے، لیکن مفتی پوپلزئی تو کہیں پہلے رویت کا اعلان کر چکے تھے کہ اس طرح یہاں بھی سعودی عرب کے ساتھ عید ہونا تھی جو ہوئی کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی والے مفتی پوپلزئی کو تو قائل نہ کر سکے، لیکن یہ کریڈٹ لینے کے لئے کہ اس سال ملک بھر میں عیدالفطر ایک ہی روز ہو، مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے مفتی پوپلزئی کے سامنے سرنڈر کر دیا اور تاخیر سے رات گئے اعلان کر دیا کہ عید جمعرات کو ہوگی اور ہوئی۔ ہم اس کے بعد سوشل میڈیا پر اٹھنے والے طوفان کا ذکر نہیں کرتے، اسی لئے چودھری فواد کی حالت کا ذکر کیا، ان کی حیرت، پریشانی اور تکلیف ان کے ٹویٹ سے ظاہر ہوتی ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ معاملہ ایک عید کے کریڈٹ کا بھی ہے۔ اس کا واضح ثبوت وزیراعظم کے معاون خصوصی مولانا طاہر اشرفی کا بیان ہے، اس میں انہوں نے ایک عید کا کریڈٹ لیتے ہو ئے کہا،20سال بعد ملک میں ایک عیدہوئی۔ یہ کہتے ہوئے محترم اشرفی صاحب یہ بھول گئے کہ شمالی وزیرستان والے تو پہلے ہی بازی لے جا چکے تھے کہ انہوں نے ان (اشرفی وغیرہ) سے ایک روز قبل ہی عید کر لی اور اب ان کے خلاف مقدمات درج ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع میں عید جمعہ ہی کو ہوئی،اب ان کے خلاف بھی مقدمات درج کرائیں،جبکہ بھارت،بنگلہ دیش اور سری لنکا میں عید جمعہ ہی کی تھی،یہ ایک پورا خطہ ہے،جہاں چاند نظر نہیں آیا۔

ہم نے جو کچھ عرض کیا، یہ احوال واقعی ہے، لیکن فواد چودھری کو اب یقین آیا ہے۔ اس سلسلے میں تاخیر کے اعلان کے باعث ہمیں کوئی پریشانی نہیں کہ ہم نے اس سے بھی زیادہ تاخیر والے اعلانات سنے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ ایک رویت کے حوالے سے تو ہم نے اوکاڑہ تک کا سفر کیا اور اس روز پوری زندگی کی تیز تر ڈرائیونگ کی  اور واپس آکر جب حاصل کردہ شہادت کی شہادت دی تو چاند کا اعلان ہوا۔ اس وقت تک اہل محفل اور لاہور سحری کھا کر روزہ رکھے ہوئے تھے، لہٰذا یہ حیرت سوشل میڈیا والوں کے لئے بجا، لیکن ہماری پریشانی دوسری طرح کی بھی ہے۔ ہم کالم نویس سلیم صافی سے متفق ہیں کہ بعض سرکاری اقدامات سے فرقہ واریت کا خدشہ بہت ہے اور اس ملک کے سواد اعظم اور بزدلی کی حد تک ”اعتدال پسند“ طبقہ فکر کو بھی ”تشدد“ کی طرف مائل کیا جا رہا ہے، جو انتہائی خطرناک ہے، اس کا اندازہ اسی سے لگا لیں کہ معاون خصوصی، وزیر مذہبی امور اور اب رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کا تعلق ایک ہی طبقہ فکر سے ہے اور مفتی پوپلزئی بھی انہی کے ہمنوا ہیں، مزید عرض یہ ہے کہ مفتی منیب الرحمن مفتی ہیں، ان کا فتویٰ ہے کہ غلط رویت کی وجہ سے ایک روزہ ساقط ہوا، اس لئے اہل پاکستان قضا روزہ رکھیں، یہ آنکھیں کھولنے کا وقت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -