اپنا اپنا احتساب

اپنا اپنا احتساب
اپنا اپنا احتساب

  

یہ دوسری عیدالفطر ہے،جو کورونا کی وبا کے دوران منائی گئی، ایس او پیز کی بعض پابندیاں اگرچہ روایتی مصافحوں اور معانقوں کی راہ میں دیوار بن گئیں،لیکن ایسے بھی ہیں،جو خطرات کو انگیز کرتے ہیں اور پابندیوں کی پروا کئے بغیر گلے بھی ملتے ہیں اور مصافحے بھی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو  وبا سے محفوظ رکھے۔ عیدالفطر دراصل رمضان المبارک کے تیس(یا اُنتیس) روزوں کا انعام ہے،اصلی اجر تو ابھی محفوظ ہے جو روزِ قیامت ملے گا، جس کے بارے میں فرمانِ الٰہی ہے ”روزہ میرے لئے ہے، اور مَیں ہی اِس کا اجر دوں گا“۔ عیدالفطر تو دُنیاوی انعام کی ایک شکل ہے، روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو اپنی بے حد و حساب رحمت سے نوازے گا،جنہوں نے ایمان اور احتساب کی حالت میں روزہ رکھا۔

مسلمانوں پر روزے پہلی اُمتوں کی طرح فرض کئے گئے اور اس فرض کا مقصد حقیقی لوگوں میں پرہیز گاری کا جذبہ پیدا کرنا ہے،اِس لئے ہر مسلمان کو جب موقع ملے اِس امرکا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران تقوے کا مقصود اصلی حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے یا نہیں۔اگر ایسا نہیں تو پھر بہت سے روزہ دار ایسے ہیں،جنہیں روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، روزہ ایسی حقیقی عبادت ہے جس کا براہِ راست تعلق، رب ذوالجلال سے ہے، صرف بندہ جانتا ہے یا رب جانتا ہے کہ کس نے روزہ رکھا اور چھپ چھپا کر بھی کچھ کھایا پیا نہیں، جس نے تمام شرعی تقاضے پورے ہونے کے باوجود روزہ نہیں رکھا،  رب ذوالجلال کے سامنے اُس کی ساری حالت عیاں ہے، اِس لئے روزے میں ریا کاری اختیار کر کے اپنے جیسے انسانوں کو تو دھوکا دیا جا سکتا ہے اور ان سے داد بھی وصول کی جا سکتی ہے،لیکن خدا کی معرفت اُسی وقت حاصل ہوتی ہے جب عبادت اسی کے لئے خالص کر کے کی جائے۔

پاکستان مسلمان اکثریت کا مُلک ہے،جہاں باعمل اور بے عمل ہر طرح کے مسلمان موجود ہیں،ایسے بھی ہیں جو پیدائشی طور پر مسلمان ہیں،لیکن عملاً وہ اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں، ہمارے ہاں ایسے ایسے صاحبانِ کمال بھی موجود ہیں، جنہیں یقین سے یہ بھی معلوم نہیں کہ قرآنِ حکیم کے کتنے پارے ہیں اور اس میں سورتوں کی تعداد کتنی ہے، کئی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اتنی توفیق بھی نہیں دی کہ وہ صحت کے ساتھ قرآنِ حکیم کی سب سے چھوٹی سورت ”اخلاص“ ہی پڑھ سکیں، سورت فاتحہ کی ادائیگی بھی درست طور پر نہیں کر سکتے،جس کے بغیر کوئی نماز نہیں۔اِس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے کبھی نماز نہیں ”چکھی“،اگر ایسا ہوتا تو نماز میں پڑھی اور دہرائی جانے سورتیں اور چند دعائیں تو انہیں یاد ہوتیں، اس کے باوجود اِن حضرات کے دعوے بڑے بڑے ہیں اور ان میں سے بعض تو مسلمانوں کی قیادت کے منصب ِ جلیلہ پر بھی فائز ہیں،حالانکہ ان کی زبانوں سے وہ الفاظ ادا نہیں ہو پاتے جو ایمان کی شرطِ اوّلین ہیں۔

یہ فیصلہ تو اللہ رب العزت نے کرنا ہے کہ اسے کن لوگوں کے روزے اور عبادتیں قبول ہیں اور کون وہ ہیں جن کی ساری عبادتیں اور نیکیاں روزِ قیامت اُن کے مُنہ پر مار دی جائیں گی،لیکن ہم گنہگار انسان اپنے معاشرے میں شب و روز ایسے مناظر دیکھتے ہیں، جنہیں دیکھ کر ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق ارزانی فرمائی انہوں نے روزے رکھے،فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کیا، باجماعت نمازِ تراویح میں قرآنِ حکیم پورے اہتمام سے سُنا گیا۔قیام اللیل بھی ہوا اور تہجد گزاروں کی تعداد بھی اس ماہِ مبارک میں بڑھ گئی،لیکن اس تمام تر اہتمام کے باوجود کیمیکل مِلا دودھ بھی حسب ِ سابق فروخت ہوتا رہا، جس کی وجہ سے بچوں میں بھی کینسر جیسی بیماری عام ہوتی جا رہی ہے،جنہوں نے بہت مہربانی کی انہوں نے دودھ میں پانی ملایا یا پانی میں دودھ اور پھر صارفین کو اس یقین و اعتماد کے ساتھ فروخت کیا کہ یہ خالص ہے۔گوشت میں بھی پانی ملایا جاتا رہا اور اس کی قیمت نے بھی سارے ریکارڈ توڑ دیئے،اب کے تو عید پر چکن بھی ”پھڑائی“ نہیں دیا۔دوسری ملاوٹی اشیا بھی بدستور مہنگے داموں بیچی جاتی رہیں،جعلی دوائیاں بھی حسب ِ سابق فروخت ہوتی رہیں، گلے سڑے پھلوں کی فروخت بھی بلا روک ٹوک جاری رہی، کم گنتی اور کم تول بھی روکا نہ جا سکا،اِس بارے میں قرآنی وعید کسی کو یاد نہیں،غرض کوئی ایسی برائی نہیں تھی، جو عام دِنوں میں ہوتی ہو اور رمضان المبارک میں بند ہو گئی ہو۔ چوریاں اور ڈاکے بھی عروج پر رہے،ناخلف اولادیں اپنے ماں باپ کو پہلے کی طرح قتل کرتی رہیں، میاں بیوی بدستور لڑتے جھگڑے رہے اور ان جھگڑوں کے نتیجے میں آنے والی غصے کی لہر کے زیر اثر کبھی بیوی نے بچے کسی نہر میں پھینک دیئے اور کبھی شوہر نے، کہیں باپ نے بیوی بچوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر ڈالا،کہیں ماں نے بچے ذبح کر ڈالے،کہیں عید کے کپڑے معصومین کے لئے موت کا بہانہ بن گئے،جب قریبی رشتے دار قتل و غارت گری سے باز نہ آئے تو جرائم پیشہ لوگوں کا ہاتھ کس نے روکنا تھا۔ وہ رمضان کے پورے مہینے اُنہی جرائم میں ملوث رہے، جن کے وہ عادی ہو چکے ہیں،انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم کا سلسلہ جاری رہا، پولیس بھی جہاں ضروری ہوا ان جرائم میں حسب ِ توفیق تعاون کرتی رہی۔دھوکا دہی اور نوسر بازی کا کاروبار بھی عام دِنوں کی طرح جاری رہا، لوگوں کو پہلے اُن کے موبائل پر اس طرح کے پیغام ملتے تھے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں آپ کی اتنی رقم ”نکل“ آئی ہے،فلاں نمبر پر رابطہ کریں، آج کل ایسے پیغام احساس پروگرام کے حوالے سے آتے ہیں، ایسے پیغام بھی ملتے ہیں کہ آپ کا اے ٹی ایم کارڈ بند کر دیا گیا ہے اگر کھلوانا ہے تو فلاں نمبر پر رابطہ کریں۔

حکومت نے رمضان المبارک میں روزے داروں کے لئے اربوں روپے کی سبسڈی کے پروگرام بنائے،لیکن یہ سبسڈی حق داروں تک بہت کم پہنچی۔رمضان بازاروں کے نام پر جو بازار لگائے گئے لاہور ہائی کورٹ نے ان کی قانونی حیثیت پر ہی سوال اٹھا دیا، پورا مہینہ پوری باقاعدگی سے روزے دار  چینی کے لئے لگی لائنوں میں ذلیل و خوار ہوتے رہے۔ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود آخری دن تک جب تک رمضان بازار رہے لائنیں لگی رہیں، آخری ایک دو دِن تو بعض بازاروں میں چینی سرے سے موجود ہی نہ تھی،28رمضان کو وزیراعظم نے ایک بار پھر دبنگ اعلان کیا کہ وہ شوگر مافیا کو نہیں چھوڑیں گے،وہ انہیں چھوڑیں یا پکڑیں اتنا تو مان لیں کہ چینی سستی کرنے کے سارے دعوے اور اعلانات ہوا میں تحلیل ہو گئے،جس جس چیز کی طلب زیادہ تھی وہی کمیاب تھی،اِس لئے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ جن لوگوں کے نام پر سبسڈی دی گئی،اُن تک اس کا کتنا حصہ پہنچا،لیکن جس کے ہاتھ جتنے لمبے تھے اُس نے حسب  ِتوفیق کمائی سے گریز نہیں کیا،اِس لئے ہم یہ فیصلہ تو نہیں کر سکتے کہ ہم تقویٰ کے حصول میں کامیاب ہوئے یا نہیں،البتہ دُنیا داری کی ساری رسمیں نبھاتے رہے،اور اب تک اس میں کوئی کمی نہیں آنے دی،جو لوگ اپنی پوری زندگی میں قرآنِ حکیم کی ایک سورت تک صحیح نہیں پڑھ سکے وہ اِس جہان سے رخصت ہوں گے تو اُن کے دولت مند عزیز و اقارب اُن کے ایصال ثواب کے لئے، صدقات و خیرات کی تقسیم کے کیسے کیسے مظاہرے نہیں کریں گے، کیونکہ ہمارا معاشرہ تیزی سے نمود و نمائش کا شکار ہوتا جا رہا ہے،اِس لئے عیدالفطر بھی، جو بنیادی طور پر خدا کے حضور تشکر کا دِن تھا،بے جا تصرف اور ہلّے گلّے کا ایسا تہوار بن کر رہ گیا ہے، جو اسلام کا مطلوب و مقصود نہ تھا اور نہ اسلام کو ایسے مسلمان درکار تھے جن کے کچھ کارنامے ہم نے اوپر بیان کئے ہیں، ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے اور فواد چودھری کے الفاظ میں رمضان المبارک کا اختتام جھوٹ بول کر تو  نہ کریں، کسی حکومتی منصب دار نے اپنے ہی وزیر کے اس ٹویٹ کا کوئی جواب نہیں دیا۔

مزید :

رائے -کالم -