وزیروں کا پھیلایا ہوا ابہام

وزیروں کا پھیلایا ہوا ابہام

  

وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کا نام ابھی تک ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں نہیں ڈالا گیا،کیونکہ وفاقی کابینہ کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو سمری تاحال موصول نہیں ہوئی، پیر یا منگل کو سمری وزارتِ داخلہ کو مل سکتی ہے، سمری ملنے کے بعد فیصلہ قانون اور داخلہ کی وزارتیں کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا کیس ہے، جس میں 14ملزمان ای سی ایل پر ہیں، شہباز شریف خاندان کے پانچ افراد پہلے ہی اس کیس میں مفرور ہیں، جبکہ شہباز شریف، نواز شریف کے ضمانتی ہیں، شہباز شریف سیدھا لندن نہیں جا رہے تھے، بلکہ انہوں نے پندرہ دن قطر میں قرنطینہ کے بعد لندن جانا تھا،ہمارے پاس ان کی کوئی میڈیکل رپورٹ نہیں آئی،اِس سے ایک دن پہلے عید کی نماز ادا کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا تھا کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے، جبکہ اسی روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اعلان کیا کہ ابھی تک نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا۔

لگتا ہے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کے حوالے سے ابہام یا تو دانستہ پیدا کیا جا رہا ہے یا پھر حکومتی بزر جمہروں کو سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کہنا کیا ہے اور کرنا کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے دو دِنوں میں دو متضاد بیانات دے دیئے اُن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے تو کیا اُن کے پاس پوری اطلاعات نہیں تھیں یا انہوں نے جان بوجھ کر غلط بیانی کر دی اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی تو وزارتِ داخلہ کو سمری ہی نہیں ملی، جو پیر یا منگل کو ملے گی اور جب ملے گی تو قانون اور داخلہ کی وزارتیں فیصلہ کریں گی گویا اِس وقت تک پوزیشن یہ ہے کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل پر نہیں ہے اور اُن کے حق میں لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ موجود ہے کہ وہ اپنے طبی معائنے کے لئے معینہ مدت میں لندن جا سکتے ہیں،اسی حکم کے تحت وہ قطر جانے کے لئے لاہور ایئر پورٹ گئے تھے جہاں ایف آئی اے نے اُنہیں روک لیا اور موقف اختیار کیا کہ اُن کے سسٹم میں ابھی تک وہ بلیک لسٹ میں ہیں، جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں سرے سے ہے ہی نہیں،بلیک لسٹ میں ہے،اس کے باوجود لاہور ہائی کورٹ نے اگر جانے کی اجازت دی تو اس کا مطلب واضح تھا کہ بلیک لسٹ میں نام کی موجودگی غیر متوثر ہے، جب اس کیس کی سماعت ہو رہی تھی تو ایف آئی اے کے نمائندے عدالت میں موجود تھے، تمام کارروائی اُن کی موجودگی میں ہوئی، عدالتی حکم  اُن کے سامنے سنایا گیا، شہباز شریف یہی عدالتی حکم لے کر ائر پورٹ گئے تھے اس کے باوجود انہیں جانے نہیں دیا گیا۔

اِس دوران چونکہ عید کی تعطیلات شروع ہو چکی تھیں، اِس لئے شہباز شریف دوبارہ عدالت سے رجوع نہیں کر سکے۔اب پیر (کل) سے عدالتیں کھلیں گی تو ظاہر ہے وہ اپنا مقدمہ دوبارہ فاضل عدالت کے سامنے رکھیں گے اور سماعت کے بعد عدالت جو بھی فیصلہ مناسب سمجھے گی کر دے گی،اس پر قبل از وقت کوئی رائے نہیں دی جا سکتی،البتہ بعض وزیروں نے عدالتی فیصلے پر جس انداز میں غیر ذمہ دارانہ بلکہ بچگانہ  تبصرے کئے وہ بہرحال محل ِ نظر تھے اور اگر یہ سب بیان بھی عدالت کے روبرو پیش کر دیئے گئے تو امکان ہے ان پر بھی کوئی حکم جاری ہو جائے،بعض وزیروں نے تو اپنے منصب کا لحاظ کئے بغیر ایسے تبصرے کئے،جو کسی بھی طور سے مناسب نہ تھے، ایک وزیر نے فرمایا کہ شہبازشریف رات کی تاریکی میں فرار ہو رہے تھے، حالانکہ وہ ایک مجاز عدالت کے حکم کے تحت جا رہے تھے جو ان کے پاس موجود تھا، اس میں فرار کہاں سے آ گیا؟ ویسے بھی جس نے فرار ہونا ہوتا ہے وہ اس طرح نہیں ہوتا، فرار ہونے والوں کے پاس بہت سے دوسرے راستے بھی ہیں اور ہم دیکھتے رہے ہیں کہ کیسے کیسے لوگ کس کس طرح ملک سے فرار ہوئے ان کے تذکرے کا یہ محل نہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف، نوازشریف کے ضمانتی ہیں وہ کیسے جا سکتے ہیں۔ اس بات میں اگر وزن ہے تو یہ معاملہ اس عدالت کے سامنے کیوں نہیں رکھا گیا جو یہ سارا کیس سن رہی تھی، اب تو عدالتوں میں یہ سوال زیر بحث آئے گا کہ ایک مجاز عدالت کے حکم کے باوجود شہبازشریف کو کیوں روکا گیا اور جنہوں نے روکا انہیں جب قانونی حکم دکھایا گیا اور بعدازاں یہی حکم باضابطہ طریقے سے بھی اگلے دن متعلقہ حکام کو پہنچا دیا گیا تو انہوں نے انپا سسٹم اپ ڈیٹ کیوں نہیں کیا۔ یہ سارے سوالات عدالتوں میں اٹھیں گے اور ایک عدالتی حکم کی بے توقیری کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔

حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کے بارے میں بھی بیان بازی جاری ہے اور ”نئے شواہد“ کا معاملہ بھی سامنے لایا جا رہا ہے یہ سب قانونی امور ہیں اور جب عدالتوں کے سامنے جائیں گے تو ان کا جائزہ بھی لے لیا جائے گا اِس وقت تو قانونی پوزیشن یہ ہے کہ یہ کیس سپریم کورٹ کے حکم سے بند ہو چکا ہے بڑی شد و مد سے کہا جا رہا ہے کہ نئے شواہد کے بعد کیس دوبارہ کھل سکتا ہے، لیکن اس کا فیصلہ بھی تو حکومت یا وزیروں نے نہیں کرنا کہ نئے شواہد میں کیا کچھ نیا ہے اور کیا پرانا اور کیا ان کی بنیاد پر کیس کھل سکتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ بھی عدالتیں ہی کریں گی اِس لئے حکومت کو اس معاملے میں کنفیوژن پھیلانے سے گریز کرنا چاہئے اور عدالتوں میں اپنا کیس تیاری کے ساتھ پیش کرنا چاہئے، اِس وقت تو زمینی حقائق یہ ہیں کہ شہبازشریف پر کرپشن کا کوئی الزام بھی نہیں، ناجائز ذرائع سے جائیداد خریدنے کا بھی کوئی الزام ان پر نہیں لگا، یہ سب کچھ نیب عدالت میں کہہ چکا اور یہ ریکارڈ کا حصہ ہے، اس کے باوجود شب و روز میڈیا ٹرائل کا سلسلہ جاری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جو ”دلائل“ پریس کانفرنس میں کاغذ لہرا لہرا کر دیئے جا رہے ہیں وہ عدالتوں میں کیوں پیش نہیں کئے جا رہے ہیں اور ثبوتوں کے جن انباروں کی بات کی جاتی ہے وہ عدالتوں میں جاتے ہی ردی کاغذوں میں کیوں کر بدل جاتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -