فلسطین،ہر طرف تباہی،اسرائیلی بمباری جاری،غزہ میں عالمی میڈیا ہاؤسز کی عمارت برج الجلا تباہ،بجلی بند کرنے کی دھمکی،بچوں اور خواتین سمیت شہداء کی تعد اد 170ہو گئی،سیکڑوں زخمی

فلسطین،ہر طرف تباہی،اسرائیلی بمباری جاری،غزہ میں عالمی میڈیا ہاؤسز کی ...

  

غزہ، نیویارک،پیرس،بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی کے بجلی کے نظام کوبند کرنیکی دھمکی دیدی ہے،غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں دوسری بلند ترین عمارت کو میزائل سے نشانہ بناکرتباہ کردیا،، 40 بچوں سمیت شہدا کی تعداد 170ہوگئی۔ 1200سے زائد فلسطینی زخمی ہیں، مہاجر کیمپ پر ہونیوالے حملے میں 8 بچے اور دو خواتین جبکہ مغربی کنار ے میں ہونیوالی جھڑپوں میں 13 فلسطینی شہید ہو گئے، جبکہ غزہ سے ہونیوالے راکٹ حملوں میں اب تک 9 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔فلسطین کی صورتحال پر غور کیلئے سعودی عرب کی درخواست پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے،امریکی ایوان نمائندگان کے 2درجن سے زائد اراکین نے فلسطینیوں کو جبری بے دخل سے روکنے کیلئے اسرائیل پر دبا ؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے،اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تشدد کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر امریکا کے اعتراض کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اب آج اتوار کو ہوگا۔  فرانس نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی اور اس ضمن میں پولیس کو خصوصی احکامات بھی جاری کردیے گئے ہیں، ساتھ ہی فرانسیسی وزیراعظم نے کہا  کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے،جبکہ چین سمیت دیگر کئی ممالک کی جانب سے فلسطین میں جاری تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی مسلسل بمباری کے باعث غزہ کی پٹی کا بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، ایندھن کی بندش کے باعث مقامی بجلی گھروں میں کام متاثر ہے۔غزہ کی پٹی میں مقامی بجلی گھر 180 میگاواٹ بجلی بناتی ہے،اسرائیل کی بجلی کمپنی غزہ پٹی کو 220میگاواٹ بجلی فراہم کرتی ہے۔اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر جاری بمباری سے اسرائیل سے بجلی کے ترسیل کے 8 مرکزی کیبل تباہ ہوگئے ہیں جس کے بعد بجلی کی ترسیل 400 میگاواٹ سیکم ہوکر 130میگاوٹ رہ گئی ہے۔عرب ٹی وی کا کہنا ہے برج الجلا غزہ کی پٹی کی دوسری بلند ترین عمارت ہے، اسرائیلی فضائیہ نے برج الجلا کو چار میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے برج الجلا کو نشانہ بنانے کی پیشگی دھمکی دی تھی، رہائشیوں اور دفاتر میں موجود افراد کو عمارت خالی کرنے کیلئے 10 منٹ کی مہلت دی گئی تھی۔برج الجلامیں رہائشی فلیٹس سمیت متعدد میڈیا ہاؤسزکے دفاتر تھے جن میں الجزیرہ اور امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر بھی شامل ہیں۔د و سر ی طرف غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی حملوں سے ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں، ہر گھر سے جنازے اٹھ رہے ہیں، چیخ وپکار کی آواز دور دور تک سنائی دے رہی ہے تاہم عالمی ضمیر خاموش ہے صیہونی فورسز رہائشی علاقوں پر تباہ کن بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، توپوں سے بمباری بھی کی گئی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے میں 160 جہاز، ٹینک اور آرٹلری حصہ لے رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا، غزہ کا شمالی علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ جنوبی شہر خان یونس پر بھی حملہ کیا گیااسرائیلی فوج مہاجر کیمپوں پر بھی گولے برسا رہی ہے، مہاجر کیمپ پرکیا گیا حالیہ حملہ 2014 ء کے بعد اسرائیلی کی طرف سے کئے گئے شدید ترین حملے میں شمار کیا جا رہا ہے۔ جہاں اسرائیلی فوج نے نہتے فلسطینیوں پر آنسو گیس کے شیل پھینکے، ربڑ کی گولیاں اور براہ راست فائرنگ کی۔غزہ کے محکمہ صحت کے ترجمان نے کہا ہے شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، عالمی برادری فوری طور پر اسرائیلی حملے رکوائے۔ اقوام متحدہ کے مطابق خطرناک صورتحال کے باعث دس ہزار سے زائد فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ادھر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے دہشت گرد ریاست اسرائیل نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ عالمی برادری کی بے حسی پرافسوس کااظہار کیا۔اردن میں مغربی کنارے کی سرحد کے قریب فلسطینیوں کے حق میں ہونیو الے مظاہرے میں پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے امریکا سنگین صو رتحال میں کمی کی کوششیں کر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بڑی ڈھٹائی سے اسرائیل کی کارروائی کو سیلف ڈیفنس قرار دیا۔دنیا کے کئی مسلم اکثریت والے ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں بنگلا دیش، اردن، کوسوو اور ترکی شامل ہیں۔جرمنی میں مظاہرین کی جانب سے اسرائیلی پرچم نذرِ آتش کر دیا گیا۔ امریکا میں بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا اور جنگ رکوانے کا مطالبہ کیا۔ فلسطین کی صورتحال پر غور کیلئے سعودی عرب کی درخواست پر او آئی سی کا ہنگامی وزا ر تی سطح کا اجلاس آئندہ اتوار کو ہوگا جس میں فلسطین کے معاملے پر غور ہوگا۔ادھرامریکی ایوان نمائندگان کے 25ڈیموکریٹک اراکین نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے شیخ جرا ح سے فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کے معاملے پر امریکی وزیر خارجہ کو خط لکھا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس مغربی کنارے کا حصہ ہے، وہاں سے ہزاروں فلسطینیوں کی جبری بیدخلی پر گہری تشویش ہے، عالمی قوانین کے مطابق اسرائیل نے مغربی علاقے پر فوجی قبضہ کیا ہوا ہے، امریکی محکمہ خارجہ فلسطینیوں کی بے دخلی روکنے کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔سفارتکاروں کا کہنا تھا امریکا جو اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے اس نے پہلے ورچوئل اجلاس منگل کو منعقد کرنے کی تجویز دی تھی۔امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے امید ظاہر کی تھی کہ کچھ روز کے انتظار سے سفارتکاری کا کچھ اثر پڑے گا اور یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہمیں واقعتاً تنازع میں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ رواں ہفتے 15 رکنی کونسل کا خطے میں جاری بدترین لڑائی پر 2 مرتبہ نجی اجلاس ہوچکا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے عوامی بیان پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ چین کی جانب سے فلسطین میں جاری تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔چین کے سفیر برائے اقوام متحدہ ژینگ ژون نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے چین کو مقبوضہ فلسطین میں جاری تشدد پر شدید تشویش ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے سخت پیغام دینا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج ہونیوالا سلامتی کونسل کا اجلاس ایک رکن نے رکوادیا۔ادھر فرانس نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی اور اس ضمن میں پولیس کو خصوصی احکامات بھی جاری کردیے گئے ہیں، ساتھ ہی فرانسیسی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق اس ضمن میں فرانسیسی وزیرِ داخلہ جیرالڈ ڈرمینِن نے جمعرات کو پولیس کو احکامات جاری کیے ہیں کہ ہفتے اور اتوار کو فلسطین کی حمایت میں کئی جلوس اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی جنہیں روکنا ہوگا۔ حیرت انگیز طور پر اس فیصلے سے قبل ہی بدھ کو پیرس میں مقبوضہ فلسطین اور غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ ظلم و جبر کیخلاف ایک ریلی پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔فرانسیسی وزیر نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مظاہرے مبینہ طور پر عین اسی طرح کے باہمی تصادم کی وجہ بن سکتے ہیں جو 2014ء میں رونما ہوئے تھے۔

فلسطین صورتحال

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے عید الفطر کے دن فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلی فونک رابطہ کیا،وزیراعظم عمران خان اور فلسطینی صدر نے فلسطین کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی۔ اس دوران وزیراعظم نے مسجد اقصی میں عبادت کے دوران اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی،دونوں رہنماؤں نے انسا نی حقوق، عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں روکنے کیلئے اقدامات پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر فلسطینیوں کی ہر ممکن کوشش اور مدد کی یقین دہانی کرائی جبکہ بحرانی صورتحال میں پاکستانی قیادت نے فلسطین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا،وزیراعظم عمران خان نے فلسطینی صدر کو عالمی رہنماؤں سے ہونیوالے رابطوں اور گفتگو سے بھی آ گا ہ کیا۔ محمود عباس نے پاکستانی کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کے بروقت ردعمل کی تعریف اور مسجدِ اقصی میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کو بھی سراہا،صدر محمود عباس نے وزیر اعظم کو حالیہ پیشرفت سے آگاہ کیا۔ دونوں ممالک کے سربراہان نے آئندہ کی حکمت عملی اور ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال اور موجودہ صورتحال پر مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ دریں اثناء صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے ہم فلسطینیوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے،تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فلسطین کے صدر محمود عباس کے نام خط لکھا ہے، صدر مملکت نے ماہ رمضان میں قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصی پر متشدد حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے،صدر مملکت نے حملوں میں شہید ہونیوالوں کیلئے اظہارِ افسوس اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی،عارف علوی نے خط میں لکھا معصوم بچوں اور فلسطینیوں کے قتل پر آپکے پاکستانی بہن بھائی آپکے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ پاکستان فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی تشدد اور غیر قانونی اقدمات کی پرزور مذمت کرتا ہے، اسرائیلی اقدامات انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور اِنسانی اقدار کیخلاف ہیں،انہوں نے خط میں لکھا ہم فلسطینیوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے، فلسطین کے حقوق کیلئے بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا،صدر کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا پاکستان سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اور ایک آزاد، پائیدار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا حامی ہے، پاکستان 1967سے قبل کی سرحد اور القدس شریف بطور فلسطینی دارالحکومت کا حامی ہے، صدر مملکت نے خط میں فلسطینی صدر اور عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم،صدر

مزید :

صفحہ اول -