دورۂ انگلینڈ میں بھی فتح کی تاریخ دہرائیں گے

دورۂ انگلینڈ میں بھی فتح کی تاریخ دہرائیں گے

  

شاہین زمبابوے سے جیت کے بعد 

کپتان بابر اعظم کا ایک اور اعزاز

پاکستان 1952 سے لے کر اب تک صرف چھ مرتبہ لگاتار چھ یا اس سے زائد سیریز جیتنے میں کامیاب رہا

چیئرمین پی سی بی احسان مانی عالمی وباء کے باوجود کرکٹ سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کے مشکور

                پاکستان نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران  9 ٹیسٹ، 6 ایک روزہ اور 19 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے

پاکستان کرکٹ ٹیم زمبابوے کے خلاف امتحان میں سرخروہوگئی مگر اب اس کا اگلا امتحان انگلینڈ سے جون میں کھیلی جانے والی سیریز ہے قومی ٹیم نے جون میں انگلش سر زمین پر سیریز کھیلنے روانہ ہونا ہے زمبابوے  سے کامیابی کے بعد شاہینوں کے حوصلہ یقینا بلند ہوں گے مگر انگلش ٹیم مضبوط حریف ہے اور اس سے کامیابی کے لئے پاکستان ٹیم کو سخت محنت کی ضرورت ہے ماضی میں جب بھی ٹیم نے انگلینڈ کا مقابلہ کیا اس کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتان بابر اعظم کی قیادت میں ٹیم کے کھلاڑی کیسی پرفارمنس دیتے ہیں پاکستان کے لئے یہ معرکہ اس لحاظ سے بھی بہت اہمیت کاحامل ہے کیونکہ اس دورہ میں ٹیم میں شریک نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کو جانچا جائے گا۔پاکستان کی اگلی اسائنمنٹ انگلینڈ کے خلاف تین ون ڈے تینوں آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ سپر لیگ کا حصہ ہیں اور تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے ہیں، انگلینڈ کی ٹیم دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے  14 اور 15  اکتوبرکو پاکستان کا دورہ کرے گی۔  دونوں میچوں کی میزبانی کراچی کے سپرد کی گئی ہے۔یہ 16 سال میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا۔ آخری مرتبہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے 2005 میں مائیکل وان کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں اس نے تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے تھے۔پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف اپنی ہوم سیریز 2012 اور 2015 میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی تھیں۔ جس کے بعد قومی ٹیم دورہ ویسٹ انڈیز پر روانہ ہوجائے گی،قومی کرکٹ ٹیم 21 جولائی سے 24 اگست تک ویسٹ انڈیز کا دورہ کا کرے گی، جہاں دونوں ٹیمیں 2 ٹیسٹ اور 5 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچزمیں مدمقابل آئیں گی۔دونوں بورڈز کی باہمی مشاورت کے بعد منظور شدہ شیڈول کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم انگلینڈکے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیریز کھیلنے کے بعد 21 جولائی کو ویسٹ انڈیز پہنچے گی۔دونوں ٹیموں کے مابین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل سیریز کے تمام 5 میچز دو مختلف وینیوز بارباڈوس اور گیانا میں کھیلے جائیں گے۔  ابتدائی 2 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز 27 اور 28 جولائی کو  بارباڈوس جبکہ باقی تینوں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز 31جولائی، یکم اور 3 اگست کو گیانا  میں کھیلے جائیں گے۔ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کی سیریز مکمل کرنے کے بعد قومی اسکواڈ 6 سے 7 اگست تک گیانا میں دو روزہ پریکٹس میچ کھیلیگا، جس کے بعداسکواڈ  جمیکا روانہ ہوجائے گا، جہاں دونوں ٹیموں کے مابین 2 ٹیسٹ میچزپر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی۔ سبینا پارک میں شیڈول سیریز کا پہلاٹیسٹ میچ 12 سے 16 اگست جبکہ دوسرا 20 سے 24 اگست تک کھیلا جائیگا۔ جبکہ برطانوی میڈیاکے مطابق انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے کرکٹرز کو پیغام دے دیا کہ کسی لیگ کی بجائے قومی ڈیوٹی کو ترجیح دینا ہو گی۔ ملتوی ہونے والی بھارتی لیگ کے انعقاد کی ستمبر اکتوبر میں منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ ٹیم نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں وائٹ بال سیریز کھیلنا ہے۔ ٹیم ڈائریکٹر ایشلے جائلز نے انگلینڈ کے کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز کو قومی ڈیوٹی کو ترجیح دینے کا پیغام دیاہے۔ انگلینڈ ٹیم نے سولہ برس بعد پاکستان کا دورہ کرنا ہے دورے میں کراچی میں ٹی ٹوئنٹی میچز شیڈول ہیں۔بابراعظم ابتدائی چاروں ٹیسٹ جیتنے والے پہلے پاکستانی کپتان بن گئے،ان چھ سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کی جنوبی افریقہ کیخلاف  ہوم ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی سیریز،پھر افریقہ سفاری کے دوران جنوبی افریقہ کے خلاف  ٹی ٹونٹی اور ایک روزہ انٹرنیشنل سیریز اور زمبابوے کے خلاف ٹی ٹونٹی اور ٹیسٹ سیریز جیتنا شامل ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی 1952 سے شروع ہونے والی کرکٹ کی تاریخ میں یہ چھٹا موقع ہے کہ جب پاکستان نے لگاتار چھ یا اس سے زائد مرتبہ سیریز جیتی  ہوں۔اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم12-2011 میں لگاتار 13، 16-2015 میں لگاتار 9،  02-2001 میں لگاتار 8 اور 94-1993 اور 18-2017 میں لگاتار چھ، چھ سیریز میں کامیابیاں سمیٹ چکی ہے۔جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے دونوں میچز جیتنے والی قومی کرکٹ ٹیم نے کپتان بابراعظم کی زیرقیادت زمبابوے کے خلاف دونوں میچز میں ایک اننگز کے مارجن سے کامیابیاں حاصل کیں۔ اس فارمیٹ میں پاکستان کی اگلی اسائنمنٹس ویسٹ انڈیز 2 ٹیسٹ اور بنگلہ دیش  2ٹیسٹ کے خلاف شیڈول ہیں۔دورہ افریقہ کے اختتام کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کی 21-2020 کی تمام بین الاقوامی کمٹمنٹس بھی مکمل ہوگئی ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم نے کورونا وائرس کے غیرمعمولی حالات کے باوجود گزشتہ 12 ماہ میں 9 ٹیسٹ، 6 ایک روزہ اور 19 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔اس دوران پاکستان نے 2017 کے بعد پہلی مرتبہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ سپر لیگ کے پوائنٹس ٹیبل پر فی الحال پاکستا ن دوسر ی پوزیشن پر براجمان ہے۔ ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں پاکستان کی ٹیم چوتھی پوزیشن پر موجود ہے۔دوسری جانبپاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کو کامیاب دورہ افریقہ پر مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی وباء کے باوجود بین الاقوامی کمٹمنٹس کو مکمل کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے فینز کی طرف سے وہ دورہ  جنوبی افریقہ اور زمبابویکو کامیابی سے مکمل کرنے پر قومی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل قومی اسکواڈ نے متعدد مواقع پر بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم اب بھی کئی شعبوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے، 2023 تک تمام طرز کی کرکٹ میں ٹاپ تھری پوزیشن کے حصول کے لیے ہمیں ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران مسلسل چھ سیریز جیتنا ایک بڑی کامیابی ہے، ہماری قابل فخر کرکٹ تاریخ میں صرف چھٹی مرتبہ قومی کرکٹ ٹیم کا مسلسل چھ یا اس سے زائد مرتبہ سیریز جیتنا اس بات  کی عکاسی کرتا ہے کہ اعلیٰ سطح پر عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنا کتنا مشکل ہیماضی کی طرح  ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا کی بہترین ٹیم بننے کے لیے اپنے کھیل کے معیار کو بڑھانے اور تمام ٹیموں خصوصاََ دنیا کی سب سے بہترین ٹیموں کے خلاف ان کی اپنی سرزمین میں کامیابیاں حاصل کرنے کی  ضرورت ہے۔احسان مانی نے کہا کہ وہ کوویڈ 19 کی پابندیوں کے باعث کٹھن حالات کا بہادری سے مقابلہ کرنے پر اسکواڈ میں شامل تمام ارکان کا شکریہ اداکرنا چاہتے ہیں، کھلاڑیوں کے لیے ایک طویل عرصہ اپنے اہلخانہ اور دوستوں سے دور رہنا اور پھر عمدہ کارکردگی کی وابستہ توقعات پر پورا اترنا  آسان نہیں تھا۔چیئرمین پی سی بی کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ہم نے چند انٹرنیشنل کرکٹرز پر بائیو سیکیور ماحول کے اثرات دیکھے ہیں تاہم اس دوران ہمارے کھلاڑیوں نے کمال مزاحمت،  ذہنی پختگی اور اعصابی مضبوطی کا ثبوت دیاجو ٹیم کے اتحاد اور گراؤنڈ میں عمدہ کارکردگی کا سبب بنا۔انہوں نے مزید کہا کہ  وہ ہمیشہ کھیل کے فروغ اور اس کی ترقی کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ ان مشکل حالات کے باوجود ہماری ٹیم نے کھیل کی ترقی میں اپنا ایک نمایاں حصہ ڈالا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ان مشکل حالات میں قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے پر بہت خوش ہیں۔ چیئرمین پی سی بی کا کہنا ہے کہ کرکٹ کا ایک سیزن تو مکمل ہوگیا تاہم دوسرے سیزن کاآغاز  بھی جلد ہونے جارہا ہیجوکہ قدرے مشکل بھی ہوگاتاہم وہ  پرامید ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم  اپنی غلطیوں پر قابو پاکرآئندہ سیزن میں مزید بہتر کھیل پیش کرے گی۔جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ ویسٹ انڈیزہمیشہ قابل قدر اور بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کیریبین کرکٹ کی تاریخ  ہے کہ وہاں کھیلوں کی بہترین سہولیات اور حوصلہ افزائی کرنے والے شائقین کرکٹ کی موجودگی تمام کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کی ترغیب دیتی ہے۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی کا کہنا ہے کہ کرکٹ ویسٹ انڈیزکی مشاورت اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ کی آمد کے پیش نظر ہم نے ابتدائی طور پر سیریز میں شامل 1 ٹیسٹ میچ کی جگہ 2 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے، اس اقدام سے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو مزید بہتر انداز سے میگا ایونٹ کی تیاری کرنے میں معاونت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ سیریز پاکستان کرکٹ کے ایکشن پیک سیزن کا حصہ ہے،آئندہ 8 ماہ کے دوران اس ایکشن پیک سیزن میں پاکستان کو نیوزی لینڈ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کی میزبانی کرنے کے علاوہ  انگلینڈ، افغانستان اور بنگلہ دیش کے خلاف اوئے سیریزبھی کھیلنی ہے،اسی دوران قومی کرکٹ ٹیم آئی سی سی  ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈ کپ میں بھی شرکت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ آنے والی ہر سیریز ہمارے لیے بہت اہم ہے کیونکہ ہم 2023 تک اپنی ٹیم کو ہر طرز کی کرکٹ  میں ٹاپ تھری پوزیشنز پر دیکھنا چاہتے ہیں۔پاکستان نے آخری مرتبہ2017 میں  ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا تھا، جہاں مہمان ٹیم نے پہلی مرتبہ 1-2 سے ٹیسٹ سیریز جیت کراس وقت ٹیم میں موجود سینئر ترین کھلاڑیوں مصباح الحق اور یونس خان کو بہترین فیئرویل دی تھی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ  دونوں کھلاڑی اب بحثیت کوچ قومی کرکٹ ٹیم کے ہمراہ ویسٹ انڈیز کا دورہ کریں گے۔مصباح الحق بطور ہیڈ کوچ اور یونس خان بطور بیٹنگ کوچ قومی اسکواڈ کا حصہ ہوں گے۔دوسری جانب عید کی چھٹیوں کے باوجود پاکستان سپر لیگ کو بچانے کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر، ڈائریکٹر انٹر نیشنل ذاکر خان سمیت چھ رکنی وفد ہنگامی طور پر لاہور سے ابوظبی پہنچ گئے ہیں۔ بورڈ دورے کو مکمل خفیہ رکھ رہا ہے اور میڈیا سے تفصیلات شیئر کرنے سے گریز کیا جارہا ہے لیکن ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ سلمان نصیر کی سربراہی میں یہ وفد چیئرمین احسان مانی کی ہدایت پر پہنچا ہے اور پاکستان سپر لیگ کی پیش رفت اور انتظامات کے بارے میں امارات کرکٹ بورڈ خاص طور پر ابوظبی کرکٹ کونسل سے بات کررہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آج سپر لیگ ابوظبی میں کرانے کا اعلان کرسکتا ہے۔ تاہم ابھی تک امارات کرکٹ بورڈ کو اپنی حکومت سے اجازت نہیں ملی۔ فرنچائز مالکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پی ایس ایل کو تمام کام محتاط انداز میں کرنا ہوں گے۔ اگر ابوظبی میں ٹورنامنٹ کے دوران کورونا کیس سامنے آگئے تو اس سے پی ایس ایل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امارات میں لیگ کرانے کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو کم وقت میں بہت سارے معاملات دیکھنا ہیں۔ پی سی بی کے سی ای او وسیم خان کئی ہفتوں سے برطانیہ میں ہیں اور آن لائن میٹنگ پر ہدایات جاری کررہے ہیں۔ ایک تجویز یہ ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی پہلے پاکستان آئیں گے جہاں سے انہیں چارٹرڈ جہاز پر ابوظبی پہنچایا جائے گا۔کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لئے سخت قوانین بنائے جارہے ہیں۔

٭٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -