بجٹ میں ٹیکس پیچیدگیاں ختم کی جائیں:خواجہ شاہزیب اکرم

بجٹ میں ٹیکس پیچیدگیاں ختم کی جائیں:خواجہ شاہزیب اکرم

  

 لاہور(سٹی رپورٹر) وفاقی چیمبر کے سینئر نائب صدر خواجہ شاہ زیب اکرم نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ سازی میں ٹیکس پیچیدگیاں ختم کرنے کیلئے اقدامات کرے۔  ٹیکس قوانین کو آسان بنا نے پر توجہ دی جائے  تا کہ عوام ٹیکس نیٹ میں آنے میں ترغیب محسوس کریں کیونکہ موجودہ ٹیکس قوانین ٹیکس نیٹ کو فروغ دینے کی بجائے لوگوں کو ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے پر مجبور کر رہے ہیں جو ملک کی معیشت کیلئے بہتر نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بزنسمین پینل کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت سے مکمل رابطے میں ہیں اور ہر فورم پر تاجروں کی فلاح و بہوبود کیلئے کاوشیں جاری ہیں۔ انہوں نے نے کہا کہپاکستان میں کارپوریٹ سمیت تقریبا 23لاکھ ٹیکس ریٹرن جمع کرائے جاتے ہیں اور کم ریٹرن جمع کرائے جانے کی ایک اہم وجہ ٹیکس دہندگان کے بارے میں ایف بی آر کے سخت قوانین ہیں جن کی وجہ سے عام شہری یہ سمجھتا ہے کہ ایک بار ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والے زندگی بھر کیلئے مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صنعتکاروں کے ساتھ ملاقات میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل ٹیکس قوانین کو آسان بنانے کی بجائے  انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کر کے فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ٹیکس دہندگان کیلئے اپنے پروفائل جمع کرانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے حالانکہ ٹیکس دہندگان کے بارے میں ہر قسم کا ذاتی ڈیٹا ٹیکس ریٹرن میں فراہم کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروفائل جمع نہ کرانے والوں کو ایکٹو ٹیکس دہندگان کی لسٹ سے خارج کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانے اور دیگر سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے ایف بی آر حکام سے اپیل کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر ٹیکس دہندگان کے پروفائل جمع کرانے کے فیصلہ پر نظرثانی کروائیں۔ خواجہ شاہ زیب اکرم نے مزید کہا کہ پاکستان بھر میں اطلاعا بجلی کے تقریبا 80لاکھ کمرشل میٹرز ہیں جبکہ تقریبا 30لاکھ سے زائد انڈسٹریل یونٹس کام کر رہے ہیں لیکن صرف 23لاکھ ٹوٹل ٹیکس ریٹرن جمع ہوتے ہیں جو حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمرشل میٹرز کا ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے اور سب کو ریگولیرائز کیا جا سکتا ہے لیکن لگتا ہے کہ ایف بی آف کی پالیسی موجودہ ٹیکس دہندگان کو ہی نچوڑنے پر مرکوز ہے جو ملک میں مہنگائی کا سبب بن سکتی ہے۔      

مزید :

کامرس -