عیدتعطیلات کےبعد پنجاب بھرمیں گندم خریداری مراکزپرکام شروع لیکن وزیراعظم کے حلقے کی کیا صورتحال ہے؟ زمیندار برہم

عیدتعطیلات کےبعد پنجاب بھرمیں گندم خریداری مراکزپرکام شروع لیکن وزیراعظم ...
عیدتعطیلات کےبعد پنجاب بھرمیں گندم خریداری مراکزپرکام شروع لیکن وزیراعظم کے حلقے کی کیا صورتحال ہے؟ زمیندار برہم

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )عیدتعطیلات کے بعدپنجاب بھرمیں گندم خریداری مراکزپرکام کا آغاز کردیا گیا اس ضمن میں وزیرخوراک پنجاب عبدالعلیم خان نے گندم خریداری کی تفصیلات طلب بھی کرلی ہیں لیکن وزیراعظم کے حلقہ انتخاب میں حکومتی مشینری کی طرف سے بے جا رکاوٹیں لگائے جانےاور تنگ کیے جانے پر زمیندار برہم ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر خوراک عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ صوبے میں گندم خریداری مراکزپر کام کا آغاز کردیا گیا ہے،کسان خوش ہیں کہ انہیں108فیصدسے زائدباردانہ مل چکاہے۔علیم خان نے کہا کہ سوموارکوبینکوں کے کھلنے پرگندم کی خریدمیں مزیدتیزی آئے گی،پنجاب نے گندم کی خریدکا96فیصدہدف عبورکرلیا ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم کے حلقہ انتخاب وادی نمل میں زمینداروں نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ اپنے ہی کھیت کی گندم گھروں میں لانا  انتظامیہ نے ناممکن بنا دیا، ڈھک پہاڑی سے تھوڑا پہلے انتظامیہ نے ناکہ لگالیا ہےا ور پہاڑی علاقے کی وجہ سے گندم اٹھا کر براستہ سڑک تھانہ موسیٰ خیل کی حدود سے ہوکر تھانہ چکڑا لہ آنے کی بھی اجازت نہیں ۔علاقے سے پوچھنے پر  عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ تہجد کے وقت گندم کی بوریوں سے بھری ہینو گاڑیاں روزانہ یہی ناکہ عبور کرکے چکوال یا موٹر وے کی طرف جاتی ہیں لیکن انہیں یا تو روکنے والا ہی کوئی نہیں ہوتا یا پھر رشوت کے پیسے کا کمال ہے لیکن مقامی لوگ اپنے کھیتوں سے گھر تک گندم پہنچانے ساری رات جاگ کر چوروں کی طرح ریکی نہیں کرسکتے اور نہ ہی غریب لوگ انتظامیہ کی جیبیں بھر سکتے ہیں۔ 

سیاسی طورپر بااثر افراد نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمران خان کے علاوہ کوئی سننے والا ہی نہیں ہے ، پنجاب کی انتظامیہ اپنی مرضی کرتی ہے اور تین چار محکموں کا ایکا ہے ، کس کس کوئی منائیں، حالانکہ بڑا آسان حل ہے کہ گندم لے جانیوالے شخص کا شناختی کارڈ دیکھا جائے اور جن لوگوں کا پتہ مقامی درج ہے ، انہیں اجازت دی جانی چاہیے ۔ 

مزید :

قومی -