جنونی اسرائیل کے فلسطینیوں پرپھر حملے

جنونی اسرائیل کے فلسطینیوں پرپھر حملے
جنونی اسرائیل کے فلسطینیوں پرپھر حملے

  

‎ ڈاکٹر پیر  علی رضا بخاری

‎ کشمیر ہو یا فلسطین، ظالم اسرائیل اور ظالم ہندوستان کا ظلم ساری دنیا کے سامنے جاری ہے۔ نشانہ اسلام اور مظلوم مسلمان ہیں جن کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔کوئی گھر، کوئی مسجد محفوظ نہیں، یہاں تک کہ ظالم مسجدِ اقصیٰ، مسلمانوں کے قبلۂ اول پر  چڑھ دوڑے اور نماز پڑھتے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے جس کے لئے ستائیسویں رمضان المبارک کی رات کو چنا گیا۔ایک طرف ظلم کرنے والا بھارت اور دوسری طرف اسرائیل۔ کشمیری ہوں یا فلسطینی، وہ بےحسی کی شکار دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ مسلم اُمہ سے مدد مانگ رہے ہیں

‎فلسطین پر صہیونی بربریت اور مظالم کا سلسلہ ایک بار پھر انسانیت کو شرمسار کررہاہے اور پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی۔غزہ پٹی علاقہ میں صہیونی اشتعال انگیزی میں اب تک کئی درجن فلسطینی شہید ہوگئے ہیں اور سیکڑوں افراد زخموں سے چور اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔ غزہ پٹی کے علاقہ شیخ جراح میں آباد فلسطینیوں کو ان کے گھر سے بھگانے اور وہاں یہودی بستی بسانے کے اپنے ناپاک منصوبہ کی تکمیل کیلئے اسرائیل معصوم فلسطینیوں پر  راکٹ حملے اور بمباری کررہاہے جس میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھی جاں بحق ہورہے ہیں ۔ اسرائیلی جنگی طیاروں کی جانب سے غزہ میں حملوں کا سلسلہ  جاری ہے کئی دنوں سے مسلسل ہورہےحملوں میں اب تک کم ازکم 150 افراد سے زائد شہید ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں میں سیکٹروں مرد وخواتین اور بچے شامل ہیں

‎مشرقی یروشلم میں واقع شیخ جراح کے رہائش پذیر افراد کو اس علاقہ سے بے دخل کرنے اور ان کے گھروں کو تباہ و مسمار کرنے کا یہ منصوبہ عالمی امن اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بالکل خلاف ہے لیکن اقوام متحدہ یا عالمی برادری اس کا نوٹس لینے اور ا سرائیل کی اس جارحانہ اور انسانیت مخالف کارروائی کی مذمت کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں  ۔مشرقی یروشلم کے جس علاقہ میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کیلئے فلسطینیوں کو قتل کیا جا رہا ہے، وہ 1949 سے ہی مسلمانوں کے پاس تھااور اردن اس پورے خطہ کا نگراں تھا، آج بھی یہاں3لاکھ سے زیادہ فلسطینی مسلمان آباد ہیں ۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم کا یہ علاقہ ان کی آئندہ ریاست کا دارالحکومت ہوگا لیکن اسرائیل یہاں سے فلسطینیوں کا انخلاچاہتا ہے۔ 1967کی جنگ کے بعد اس علاقہ پر صہیونی حکومت نے قبضہ کرلیا تھا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برخلاف اس علاقہ کو خالی کرنے سے انکار کردیاتھا اورآج تک انتہائی بے شرمی اورڈھٹائی کے ساتھ تمام اخلاقی اور انسانی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے وہاں سے فلسطینیوں کے انخلا کا ارادہ کیے ہوئے ہے۔ دھیرے دھیرے وہاں اب تک2لاکھ کے قریب یہودیوں کو غیرقانونی طور پر آباد کر دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادیں اور بیشتر ممالک یہاں آباد ہونے والی اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی گردانتے ہیں لیکن اسرائیل پوری دنیا کی رائے اور فیصلو ں کواپنے مسترد کرتے ہوئے  صہیونی ریاست کی وسعت کیلئے مسلسل سرگرداں ہے ۔

‎اس میں کوئی شبہ نہیں اور پوری دنیا اس سے اتفاق کرتی ہے کہ اسرائیل اپنی ریاست کو وسیع کرنے کے مذموم منصوبہ کی تکمیل کیلئے مسلسل جارحیت اور اشتعال انگیزی کا سہارا لیتا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف انسانیت سوز اقدام سے بھی اسے کوئی گریز نہیں ہوتا ہے۔ لیکن اس اتفاق کے باوجود فلسطینی آج بھی دنیا کی عملی حمایت سے محروم ہیں ۔ دنیا کی اس خاموشی کو اسرائیل اپنی حمایت سمجھتے ہوئے ہر مذموم اور غیر انسانی قدم اٹھالیتا ہے جس کا مہذب دنیا تصور بھی نہیں کرسکتی ہے ۔جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں نمازاداکررہے معصوم فلسطینیوں پر حملہ جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے،عالمی برادری کی اسی خاموشی کا نتیجہ ہے  ۔فلسطین-اسرائیل یا یوں کہیں کہ عرب- اسرائیل تنازع کی اب تک کی تاریخ میں کئی ایسے مقامات آئے ہیں جب اسے حل کرنے کیلئے فریقین کے مابین افہام و تفہیم پر زور دیاگیا، مختلف ممالک، مختلف تنظیموں اور افراد کی طرف سے نزاع دور کرنے کیلئے مختلف امن منصوبے پیش کیے گئے لیکن اپنی طاقت کے زعم کاشکار اسرائیل نے مفاہمت کی ایسی کسی بھی کوشش کاکوئی مثبت جواب نہیں دیا ۔ہاں گاہے گاہے صہیونی حکمرانوں کی جانب سے دکھاوے کے طور پر ایسے بیانات ضرور آتے رہے ہیں جن میں وہ امن کی بات کرتا ہوا نظرآتاہے لیکن عملی طور پر جس طرح وہ تنازعات سے نمٹتا ہے، اسے آج بھی دنیا دیکھ رہی ہے۔اپنی فوجی برتری اور خطہ کی وسیع ترعرب زمینوں پر قبضہ کی وجہ سے وہ خودکو ہمیشہ بااثرمقام پردیکھتا رہاہے اورعربوں اورفلسطینیوں کو غیر فعال بنانے میں اس نے کوئی کسر نہیں اٹھارکھی ہے۔ دیکھاجائے تو اسرائیل کی جانب سے امن کی بات صرف ایک سطحی اور پروپیگنڈا کی حیثیت رکھتی ہے۔ 2014 میں بھی وہ ایک طرف امن کی بات کررہاتھا تو دوسری طرف معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی کیلئے اس نے اپنی پوری طاقت جھونک رکھی تھی۔ تازہ حملہ بھی فلسطینی باشندوں پر اسرائیل کا بڑا اور منظم حملہ ہے جس سے پورے خطے میں حالات تیزی سے بے قابو ہورہے ہیں۔ اپنے اس غیر انسانی حملہ پرشرمندہ ہونے کے بجائے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو ان حملوں کو طول دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، اپنے فوجی سربراہوں کے ساتھ میٹنگ میں انہوں نے اس کا برملا اعلان بھی کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر ایسے حملے کیے جائیں گے جس کی انہیں توقع بھی نہیں ہو گی۔

‎ایک ایسے وقت میں جو کوروناوائرس نامی ایک معمولی سا جرثومہ پوری دنیا کو تہس نہس کررہا ہے، اسرائیل کا یہ جنگی جنو ن پوری عالم انسانیت کیلئے ایک دوسرا بڑا خطرہ بن گیا ہے ۔  

مزید :

بلاگ -