پہاڑوں پر پڑی برف گرمی اور پیاس کا مداوا کرنے میں ناکام ہو چکی تھی

 پہاڑوں پر پڑی برف گرمی اور پیاس کا مداوا کرنے میں ناکام ہو چکی تھی
 پہاڑوں پر پڑی برف گرمی اور پیاس کا مداوا کرنے میں ناکام ہو چکی تھی

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :76

کجا دانند حا ل ِ ما سبکساران ِ ”ہو ٹل“ ہا!

حسینی سے نکل کر دوبارہ شاہ راہ ِ ریشم پر کھڑے مجھے کچھ دیر ہو چکی تھی۔اور میں سوست سے آنے والی کسی گاڑی کا منتظر تھا جو مجھے علی آباد لے جائے۔لیکن کسی گاڑی کا کو ئی نشان دوردور تک نہیں تھا۔ دھوپ سر پر پڑ رہی تھی اور ناگوار لگ رہی تھی۔ میں پسو کی سمت سے آنے والی خالی سڑک پر نظر جمائے ہوئے تھا۔پندرہ بیس منٹ بعد ایک کار آتی نظر آ ئی تو میں نے لفٹ کے لیے انگو ٹھے کا اشارہ کیا۔ کار رک گئی اور مجھے اندر بٹھا لیا گیا۔ ڈرائی ونگ سیٹ پر ایک جوان اور خوش شکل چینی بیٹھا تھا۔اس کا نام چُو تھا، وہ ایک انجین¿یرتھا۔چُو اس علاقے میں فیض کے اسباب میں سے ایک یعنی پُل بنا رہا تھا۔نام اور کام کے تعارف کے بعد گفت گو ختم ہو گئی اور ساتھ ہی میرا سفر بھی کیوں کہ اسے گُلمِت تک ہی آناتھاجو حسینی سے شاید چند گز کے فاصلے پر تھا۔ چُو مجھے سڑک پر اتار کر اپنی کار گاہ چل دیا ا ور میں ایک بار پھر سڑک کنارے کھڑا ہوکر گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔

سورج نصف النہار پر ہونے کے علاوہ تھوڑا سا قریب بھی ہوگیاتھا۔اب اس کی دھوپ جلانے لگی تھی۔سڑک پار چند دکانیں اور ایک ہو ٹل تھا جس کی چھت سے نکلی ٹین کی چمنی سے دھواں نکل رہاتھا۔ برامدے میںجالی والے داخلی دروازے کے قریب ایک بلب ٹنگا تھا جو دن میں بھی جل رہا تھا۔میرے پیچھے ایک نالی تھی جس میں ریت ملا سرمئی پانی بہتا تھا۔ اس کے پیچھے ذرا نیچائی میں ایک ڈاک خانہ تھا۔ میں نے گزرتی ہوئی ایک دو پِک اَپس کو ہاتھ دیا لیکن وہ رکے بنا آ گے نکل گئیں۔ مجھے پیٍاس تنگ کر رہی تھی۔پیاس زیادہ لگنے پر میں نے نالے سے چُلو بھر پانی لیا لیکن اس میں اتنی ریت تھی کہ پینا ممکن نہ تھا۔ میں کچھ دیر سڑک کے ساتھ ساتھ ٹہلتا رہا پھر پہلی جگہ پر آکھڑا ہوا۔ مجھے رفتہ رفتہ احساس ہو نے لگا تھا کہ میں نے واپسی کے لیے غلط وقت چنا ہے۔ سوست جانے والی گاڑیاں شاید شام ہی کو واپس آتی ہیںکیوں کہ کاروباری لوگ اور مسافر صبح جاکر شام کو لوٹتے ہوں گے۔یہ خیال پریشان کن تھا۔شام تک انتظار ایک مشکل کام تھا۔ دکانوں اور ہوٹل کے باہر نظر آتے مقامی لوگ مجھے دور سے سڑک کنارے دھوپ میں تنہا کھڑا دیکھتے پھر اپنے کام یا با توں میں لگ جاتے۔سامنے پہاڑوں پر پڑی برف گرمی اور پیاس کا مداوا کرنے میں ناکام ہو چکی تھی۔ایک دو گاڑیاں آئیں لیکن وہ کسی آس پاس کے گاؤں تک ہی جارہی تھیں اس لیے انھوں نے بھی مجھے لفٹ نہیں کروائی۔ان کے جانے کے بعد سڑک پھر سنسان ہو گئی۔آدھ پون گھنٹا اسی طرح سڑک پر نظریں جمائے گزر گیا تو میں نے علی آباد کی طرف ”پیدل مارچ“ کا فیصلہ کیا اور ویران سڑک کے کنارے کنار ے چلنے لگا۔ میں بار بار پلٹ کر دیکھتا بھی رہتا کہ کوئی گاڑی آرہی ہے یا نہیں۔ لیکن اس وقت گاڑی آ نے کا امکان شاذ ہی تھا۔ دھوپ زیادہ تنگ کرتی تو میں سڑک کے دائیں جانب پیڑوں کے سائے میں چلنے لگتا۔پھر ایسا کر تا کہ الٹے قدموں چلنے لگتا تا کہ آتی ہوئی گاڑی دور ہی سے نظر آجائے اور اسے بر وقت رکنے کا اشارہ کیا جا سکے۔ میں کافی دور آگیا تھا اور اب بھوک، پیاس اور گرمی مجھے تھکانے لگی تھیں۔ایک جگہ ایک چھوٹا لڑکا نظر آیا تو میں نے اس سے پینے کا پانی مانگا۔ وہ گھر جا کر ٹھنڈے صاف پانی کی بوتل لے آیا۔ ایک طرف سائے میں بیٹھ کر تسلی سے پانی پیا تو حواس ذرا ٹھکانے آئے اور میں حسب ِ عادت اپنا پسندیدہ گیت ”وادیاں میرا دامن، راستے میری بانہیں“ گا تا آگے چل پڑا۔ سڑک کے ساتھ کھیت اور پھلوں کے باغ تھے جن میں سیب لگے ہوئے تھے اور ان سے پرے دریائے ہنزہ تھا جو یہاں سے ساکن لگتا تھا۔ کافی چلنے کے بعد میں نے دل بہلا نے کے لیے ”سہانا سفر اور یہ موسم حسیں۔“ گا نا شروع کر دیا لیکن گا نا بھی جبھی اچھا لگتا ہے جب اس کے دوسرے سرے پر وجنتی مالا جیسی کوئی خوش امیدی ہو۔چوں کہ موجودہ حا لات میں میری امید کی سطح تیزی سے نیچے گر رہی تھی اس لیے گانے کا لطف بھی اسی تناسب سے کم ہو رہا تھا۔ کافی دور اور ایک آدھ گھنٹا یوں ہی چلنے کے بعدمیں ڈرنے لگا کہ کہیں میں اس علاقے میں پھنس ہی نا جاؤںاس لیے حالات کے مطابق ایک گیت گانے لگا؛

 ”ایسا نہ ہو کہ ان وادیوں میں، میں کھو جاؤں۔۔۔“ 

 دریا، پیڑ، برف پوش چوٹیاں،نیلا آسمان مجھے فکر مند اورخوف زدہ کرنے لگے۔ اسی طرح چلتے ہوئے میں ششکٹ پہنچ گیا۔یہاں بھی میں نے چند نجی گا ڑیوں سے لفٹ لینے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ یہ ایک غیر از معمول بات تھی ورنہ یہاں کے لوگ سیا حوں کے لیے کافی محبت اور خوش اخلاقی کا رویہ رکھتے ہیںاور مجھے تو اپنے چینی جاپانی نین نقش کی وجہ سے بہت آسانی سے لفٹ ملتی رہی ہے۔ 

شِشکٹ سے دوبارہ آگے چلا تو میر ی آنکھیں سا منے سڑک پر اور کان پیچھے سے آ نے والی کسی بھی گاڑی کی آواز پر لگے ہوئے تھے لیکن ایک سنّا ٹا تھا جو کانوں میں گو نجتا تھا۔میں دوستوں کے متعلق سوچتا کہ وہ اس وقت کہاں ہوں گے اور کیا کر رہے ہوں گے؟ میں ایک بار پھر الٹے قدموں چل رہاتھا کہ ایک کار پسّو کی طرف سے آ تی نظر آئی۔ میں نے چہرے پر مسکراہٹ لیپ کر لفٹ کا اشارہ کیا تو کارکچھ آ گے جاکر رک گئی۔میں دوڑ کر قریب گیا۔کار کی اگلی نشستوں پر تیس پینتیس برس کے دو ہم عمر آدمی بیٹھے تھے اور پچھلی نشستوں پر کمبل اور دوسرا گھریلو سامان پڑا تھا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -