رپورٹ میں جس افسر کو ہٹانے کا کہا گیا وہ تو اجلاس میں بیٹھا ہے ، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے بجلی کا حیرت کا اظہار

رپورٹ میں جس افسر کو ہٹانے کا کہا گیا وہ تو اجلاس میں بیٹھا ہے ، چیئرمین ...
رپورٹ میں جس افسر کو ہٹانے کا کہا گیا وہ تو اجلاس میں بیٹھا ہے ، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے بجلی کا حیرت کا اظہار

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )چیئرمین  سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں  انکشاف ہوا کہ گڈو تھرمل پاور پلانٹ میں گیس ٹربائن کی خرابی کے باعث 40 ارب روپے کے نقصان ہوا ، ذمہ داران کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس افسر کو ہٹانے کا کہا گیا وہ تو اجلاس میں بیٹھا ہے ۔

سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی کا اجلاس ہوا  جہاں انکشاف ہوا کہ گڈو تھرمل پلانٹ میں گیس ٹربائن خراب ہے جس کے باعث 40 ارب روپے کا نقصان ہوا ۔چیئرمین کمیٹی  نے گیس ٹربائن انکوائری رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا  جبکہ  وزارت توانائی کو نیب اور ایف آئی اے کو خط لکھ کر ریکوری کرانے کی ہدایت بھی کی ۔  چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے کو خط لکھ کر مجھے آج ہی بتایا جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ  پلانٹ میں گیس ٹربائن کی خرابی سے ملک کو 40 ارب کا نقصان اٹھانا پڑا،  وزیر توانائی اور سیکرٹری  توانائی کو فوراً کمیٹی میں پہنچ کر بریفنگ دینی چاہیے تھی،ایڈیشنل سیکرٹری  بھی بغیر تیاری کے کمیٹی میں آئے ہیں،  وزیراعظم نے3 دن میں میٹرو چلوا دی آپ کو تیاری کرنے میں کتنا وقت درکار تھا؟۔ 

سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جنکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو کوئی پروا نہیں،  انکوائری رپورٹ کے مطابق ذمہ داران  کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ ، رپورٹ کے مطابق جنکو سی ای او کو ہٹا دیا لیکن وہی سی ای او تو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بیٹھا ہے،  معطلی کے احکامات کے باوجود سی ای او کا کمیٹی میں بیٹھنا وزارت کے منہ پہ طمانچہ ہے، وزارت اتنی نااہل ہے کہ رپورٹ پر عملدرآمد نہیں کراسکتی۔

کمیٹی نے  بورڈ آف ڈائریکٹر اور سی ای او کو فوری طور پر ہٹا کر دفاتر کو تالے لگانے کی ہدایت جاری کر دی۔

مزید :

قومی -