ڈرائیور بے دلی سے گا ڑی سے اترا اور پچھلی نشست پر رکھے سامان کو سمیٹ کر میرے بیٹھنے کی جگہ بنا دی

ڈرائیور بے دلی سے گا ڑی سے اترا اور پچھلی نشست پر رکھے سامان کو سمیٹ کر میرے ...
ڈرائیور بے دلی سے گا ڑی سے اترا اور پچھلی نشست پر رکھے سامان کو سمیٹ کر میرے بیٹھنے کی جگہ بنا دی

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :77

”کہاں جانا ہے؟“ ڈ رائی ور کے ساتھ بیٹھے آ دمی نے جو شاید مالک تھا مجھ سے پوچھا۔

”جی مجھے جانا تو کریم آباد ہے لیکن اگر آپ گنیش یا علی آباد تک چھو ڑ سکیں؟“ میں نے لجاجت سے کہا۔

اس پر دونوں کی آنکھوں میں شدید حیرانی کا تا ثر ابھراپھر ڈرائی ور نے شاید بروشسکی میں کچھ کہا جس پر دونوں میں بحث نماگفتگو ہو نے لگی جو مجھے بالکل پلے نہیں پڑ رہی تھی صرف اتنا اندازہ ہو رہاتھا کہ ڈرائی ور مجھے بٹھانے کے حق میں نہیں ہے لیکن دوسرے صا حب کے زور دینے پر وہ بے دلی سے گا ڑی سے اترا اور پچھلی نشست پر رکھے سامان کو سمیٹ کر میرے بیٹھنے کی جگہ بنا دی۔میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بیٹھتے ہی اطمینان کا سانس لے کر اس شریف آدمی کا شکریہ ادا کیا جس کا نام بشارت تھا۔جواب میں بشارت نے مڑ کر مجھ سے سوال کیا،”آپ کو یہاں کے حالات کا علم نہیں ہے؟“ 

میں نے کندھے اچکا کر اپنی لا علمی کا اظہار کیا تو بشارت نے کہا ، ”آج کل اس علاقے میں فرقہ وارانہ لڑائی چل رہا ہے۔ جس طرح آپ سڑک پر پیدل جاتا ہے اس طرح آپ کسی بھی آوارہ یا نا معلوم سمت سے آنے والی گولی کا نشانہ بن سکتا ہے۔ اِدر آپ کی لاش بھی اٹھا نے کوئی نہیں آئے گا ۔ اس وقت کسی ناواقف سے لفٹ لینا اور کسی کو لفٹ دینا، دونوں خطرناک ہیں۔ ‘ ‘ 

اس بھلے آدمی نے کافی سیاہ تصویر پیش کی تھی۔ میں کچھ خوفزدہ ہو گیا۔ شوقِ آوارگی میں ایک ایسی لڑائی میں ما را جانا جس سے میرا کوئی واسطہ نہیں تھا قطعاً خوشگوار خیال نہیں تھا۔ مجھ غریب کو تو کسی نے شہادت کا تمغہ بھی نہیں دینا تھا کہ کم از کم لواحقین کا احساس ِ زیاں ہی بہل جائے۔ پھر اس نے میرا تعا رف چاہا۔ میں ایک مسافر فطرت، محبت کرنے والا آدمی، ان جھگڑوں سے پہلے ہی بیزار تھا۔ بشارت کو پنجابی آ تی ہو تی تو اپنے تعارف میں اسے وارث شاہ کا مصرع سنا دیتا۔

  وطن دماں دے نال تے ذات جوگی، ساڈا دیس قبیلڑا خویش کیہا 

(وطن اپنے دم کے ساتھ ہے اور ذات جوگی ہے، ہمارا وطن ، قبیلہ اور رشتے دار کیسے!)

لیکن اس کی نوبت نہیں آئی کیوں کہ بشارت نے میرے جواب سے پہلے یہ انکشاف کیا کہ وہ میرا چہرہ دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ میں ”سُّنی“ ہوں۔ یہ بات میرے لیے پریشانی اور حیرت کی تھی اور اس کی تردید کی ضرورت نہیں تھی۔ پھر اس نے بتایا کہ اس علاقے میں زیا دہ شیعہ مذہب کے لوگ آباد ہیں اور یوں مونھ اٹھائے پھرنے کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس نے ایک سُّنی فرقے کے متشدد روئیے کی نہ صرف شکایت کی بلکہ ان کے متعلق سخت الفا ظ اور نا قا بلِ تحریرجذبات کا اظہار بھی کیا ۔

گاڑی تیزی سے سنگلا خ پہا ڑوں کے درمیان بھاگ رہی تھی۔ کریم آباد وہاں سے کافی دور تھا اور میں پیدل چل کر شام تک بھی وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔بشارت فرقہ پرست لوگوں کو گالیاں دے رہاتھا جنہوں نے لو گوں کی زندگی جہنم بنادی ہے۔ میں کچھ ضرورتا ً اور کچھ اصولی اور اخلاقی طور پر اس کی باتوں کی تائید کررہاتھا مجھے ڈر تھا کہ میری کسی بات پر وہ نا راض ہو کر گاڑی سے نہ اتار دے، ابھی کریم آباد دور تھا اور میں اپنی ”صورت“ کی وجہ سے فوری جام ِ شہادت نوش کرنا نہیںچاہتا تھا ۔ مجھے اندیشہ تھا کہ ان حالات میں سڑک پر پڑی لاش تو کجا کوئی سڑک پر کھڑے زندہ مسافر کو بھی نہیں اٹھائے(lift) گا۔ اس لیے میں کچھ سہما ہوا ایک کونے میں لگا اس کی باتیں سنتے ہوئے ”جی، بالکل“ کہَہ کر مختصر جواب دے رہا تھا۔

جب مجھے گنیش پل سے پہلے دریا پار قلعہ التیت نظر آیا تو میں نے اطمینا ن کا سانس لیا۔ مجھے کریم آباد والے موڑ پر اترناتھا لیکن بشارت کے جذباتی طغیان کی گڑ بڑاہٹ میں بتانا بھول گیا اور گاڑی علی آباد کی طرف بڑھ گئی۔ علی آباد جاکر اتراتو بشارت کاشکریہ پھر ادا کیا، وہ مخلص اور جذباتی آ دمی میرے لیے فرشتہ ثابت ہوا تھا۔ پیاس اور پریشانی سے میرا حلق سوکھا ہوا تھا۔ جوبلی ہو ٹل میں پانی پینے کے لیے داخل ہوا۔ کاو¿نٹرکی عقبی دیوار پر ٹنگا ٹی وی خبریں نشر کر رہا تھا جسے کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھا مینیجر ہمیشہ کی طرح نہایت توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ اس کے انہماک سے لگتا تھا کہ یا تو اس نے خبریں یاد کر کے کوئی امتحان دینا ہے یا قومی و عالمی حالات کا اس کے ہو ٹل سے بہت گہرا تعلق ہے۔ لگتا تھا کہ وہ کھانے کی قیمت کا تعین بھی عالمی منڈی میں تیل اور سونے کی قیمتوں یا سٹاک ایکس چینج اور ڈالر کے اتار چڑھاؤکے ساتھ کرتا ہے۔ لوگ بے فکری سے بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ اندر درجہ¿ حرارت بھی باہر سے بہتر تھا۔ میری پانی کی بوتل میز پر وہیں رکھی تھی جہاں صبح جاتے ہوئے بھول گیاتھا۔ کچھ سستا کر میں نے جگ میں پڑا ہنزائی پانی پیا، اپنی بوتل اٹھائی اور کریم آباد روانہ ہوگیا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -