ڈاکٹر محمد سلیم کی آگاہی، پروفیسر جاوید اکرم کا ویژن اورڈاکٹر زاہد پرویز کے اقدامات

 ڈاکٹر محمد سلیم کی آگاہی، پروفیسر جاوید اکرم کا ویژن اورڈاکٹر زاہد پرویز کے ...
 ڈاکٹر محمد سلیم کی آگاہی، پروفیسر جاوید اکرم کا ویژن اورڈاکٹر زاہد پرویز کے اقدامات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان میں ہر گھنٹے کم از کم پچاس افراد دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ ہر پانچ اموات میں سے دو اموات کی وجہ دِل کی بیماریاں ہیں،اہم بات یہ ہے کہ اس مرض کے شکار ہونے والوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔دل کے امراض کی کئی وجوہات ہیں،اس حوالے سے گزشتہ روز پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر آف کارڈک سرجری ڈاکٹر محمد سلیم سے گفتگو ہوئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی مریض دل کے دورے کی وجہ سے ہسپتال کی ایمرجنسی میں رپورٹ ہوتا ہے تو اس کی ای سی جی میں چینجز ہوتی ہیں پھر ٹروپین نامی پروٹین بڑھا ہوا ہوتا ہے جو دل کے پٹھوں کو متاثر کرتا ہے اگر تو دل کے دورے کی وجہ ای سی جی میں تبدیلی ہو تو اس حالت کو سٹیمی کہا جاتا ہے اور ایسے مریض کی فوری اینجو گرافی کرکے متعلقہ شریان،جو دل کے دورے کا سبب بنی،اس میں سٹنٹ ڈال کر اس کی جان بچائی جانی چاہیے جبکہ دوسری طرز نان سٹیمی کہلاتی ہے جو خون میں ٹروپین نامی پروٹین کے بڑھنے کی وجہ سے ہوتی ہے اس کا علاج میڈیسن سے کرکے مریض کی حالت کو پہلے سٹیبل کیا جاتا ہے جس کے بعد اینجو گرافی اور بائی پاس کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر محمد سلیم کا مزید کہنا تھا کہ ریمیٹک بخار جو کہ سوزش کی بیماری جو بافتوں کو متاثر کرتی ہے اور اس کی وجہ سے دل کے والوز مستقل طور پر خراب ہو جاتے ہیں جبکہ جن بچوں کو بار بار اسٹریپ تھروٹ انفیکشن ہوتا ہے وہ ریمیٹک فیور اور ریمیٹک دل کی بیماری کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتے ہیں۔ریمیٹک بخار کی علامات مختلف ہوتی ہیں اور عام طور پر اسٹریپ تھروٹ کے  1 سے 6 ہفتے بعد شروع ہوتی ہیں۔


آگاہی گفتگو کے دوران ڈاکٹر محمد سلیم کا کہنا تھا کولیسٹرول ایک چربی والا مالیکیول ہے، جس کی وجہ سے شریانیں بند ہوجاتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ سخت بھی اور تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ کولیسٹرول لیول کا ہائی ہونا دل کے دورے کے امکان کو زیادہ کرتا ہے۔ڈاکٹر محمد سلیم نے بتایا کہ مریض کے خاندان کی ہسٹری میں دل کی تکلیف کے حوالے سے مثبت ہو تو اسے حفاظتی تدابیر اختیار کرلینی چاہئیں اور اگر دل کا عارضہ شدید نوعیت کا لاحق ہو تو وقت پر بائی پاس آپریشن کروانے سے عمر کا دورانیہ 12سال تک بڑھ سکتا ہے،انہوں نے بتایا کہ دل کے امراض سے متعلق حفاظتی تدابیر کی طرف توجہ دیں، کھانے میں زیادہ چکنائی والی چیزوں سے پرہیز، شوگر اور بلڈ پریشرکا کنٹرول،8گھنٹے کی نیند کے ساتھ 20منٹ کی واک کواپنی زندگی کا حصہ بناکر دل کے مرض سے بچا جاسکتا ہے۔اس آگاہی گفتگو کے بعد میں نے اس حوالے سے حکومت کی جانب سے دل کے مریضوں کے علاج میں جاری حکومتی سہولتوں کا جائزہ لیا تو اس ضمن میں مجھے فقدان ہی نظر آیا جو گزشتہ تین دہائیوں سے جاری ہے۔اس کی واضح مثال کے لیے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا چکر لگانا ضروری ہے جہاں پر ٹروپین آئی ٹیسٹ کے لیے مریض فرش پر بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرتے نظر آئیں گے۔


پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے جب سے نگران وزیر صحت کا قلمدان سنبھالا ہے انہوں نے دل کی بیماریوں کے تدارک اور علاج کے لیے بہترین سہولتیں مریضوں کو فراہم کیے جانے پر اپنے ویژن پر عملی کام کا آغاز کیااور ٹیچنگ ہسپتالوں میں اس حوالے سے جاری سہولتوں کا ناصرف جائزہ لیا بلکہ میو ہسپتال میں مریضوں کے لیے پرائمری اینجو گرافی کرنے کے احکامات جاری کیے تاکہ اس ہسپتال میں دل کی بیماری کے ساتھ رپورٹ ہونے والے مریض کو پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ریفر نہ کیا جائے بلکہ اس کا علاج میو ہسپتال ہی میں ہو، اس کے بعد انہوں نے سروسز ہسپتال میں بھی ہارٹ کلینک کا آغاز کیا اور علامہ اقبال میڈیکل کالج میں دل کے وارڈ کو فعال کیا مگر ابھی تک وہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے تحت چلنے والے سر گنگا رام ہسپتال اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے لاہور جنرل ہسپتال میں دل کی بیماریوں کے وارڈز اور پرائمری اینجو گرافی کے لیے اقدامات نہیں کرسکے،اس حوالے سے میں صرف یہی کہوں گا کہ اگر ان ہسپتالوں میں دل کی بیماریوں کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں تو مریضوں کو پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ریفر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور آخر میں میں بات کروں گا لاہور یونیورسٹی کے تحت چلنے والے ٹیچنگ ہسپتال کی جس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ذاہد پرویز ہیں انھوں نے مریضوں کی سہولتوں کے لیے صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی  آسانی فراہم کر رکھی ہے،جہاں پر مریضوں کو علاج کے بعد ایک ہفتے کی ادویات دے کر رخصت کیا جاتا ہے،یہاں پر بھی کارڈیالوجی کا یونٹ فعال ہے جس کو اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ذیشان ملک کی سربراہی میں چلایاجارہا ہے اور اینجو گرافی، اینجو پلاسٹی کی سہولت مریضوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -