جب تحقیقاتی گفتگو کی بلندیوں کو چھو رہے ہوتے تو میرے جیسے کم عقل لوگ منہ کھولے حیرت سے دیکھا کرتے،یہ ہمارے لیے سیکھنے کا نادر موقع ہوتا تھا

جب تحقیقاتی گفتگو کی بلندیوں کو چھو رہے ہوتے تو میرے جیسے کم عقل لوگ منہ ...
جب تحقیقاتی گفتگو کی بلندیوں کو چھو رہے ہوتے تو میرے جیسے کم عقل لوگ منہ کھولے حیرت سے دیکھا کرتے،یہ ہمارے لیے سیکھنے کا نادر موقع ہوتا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:272
ڈاکٹر محمد حنیف شاہد
محمد حنیف شاہد پاکستان کے مایہ ناز محقق اور مصنف تھے، قائداعظم، اقبال اور تحریک پاکستان پر ان کا کہا حرف آخر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان موضوعات پر ان کی تحقیق انتہا درجے کی بلندیوں تک پہنچی ہوئی تھی۔ وہ ان گنت کتابوں کے مصنف اوربے شمار مضامین کے خالق بھی تھے۔ جن میں نشان حیدر پر لکھی ہوئی ایک مشہور کتاب بھی شامل تھی، جو انہوں نے بہادری کے اس نشان کو حاصل کرنے والے شہیدوں کے بارے میں براہ راست ان کے گھرانوں سے معلومات حاصل کرکے ترتیب دی تھی۔ اس دوران وہ قریہ قریہ پھرے، تب کہیں جا کر یہ تحقیقی کام ختم ہوا۔  
وہ تقریباً میرے ساتھ ہی سعودی عرب تشریف لائے تھے کچھ دن انھوں نے میرے ایک عزیز دوست کے ساتھ قیام کیا۔ وہیں ان سے پہلی ملاقات ہوئی جو بعد میں گہری دوستی میں تبدیل ہو گئی۔یہ ان کی خوش قسمتی اور قابلیت کا اعتراف تھا کہ ان کو جامعہ ریاض کی مرکزی لائبریری میں ایک اچھے عہدے پر ملازمت کی پیش کش کی گئی،جہاں وہ نہ صرف اپنے علم کی پیاس بجھا سکتے تھے بلکہ تحقیق کی جدید ترین سہولتیں مہیا ہونے کی وجہ سے وہ پورے اعتماد اور وثوق سے اپنے مضامین اور کتابوں کے لیے مواد بھی حاصل کر سکتے تھے۔
بہت ہی شریف النفس، دیانت دار اور نفیس انسان تھے۔ بہت دھیمی مگر با اعتماد آواز سے بات کرتے تھے۔ ان کی ذات سے آج تک کسی کی دل آزاری نہیں ہوئی۔انھیں جب بھی دیکھا بے شمار کتابوں اور دستاویزات میں گُم تاریخ کو کھنگالتے اور رقم کرتے ہی پایا۔وہ ایسے ایسے نکتے تلاش کرکے اپنے شاہکار تخلیق کرتے تھے کہ پڑھنے والے دنگ رہ جاتے اور ان کی ذہانت اور محنت کی داد دئیے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔
وہ شروع دن سے ہی مجھ پر کمال مہربان تھے اور اپنی ہر نئی طبع شدہ کتاب ہمیشہ نیک خواہشات کے ساتھ مجھے عنایت کیا کرتے تھے۔ان کی یہ محبت، مشفقانہ روایت اور دریا دلی آخری وقت تک جاری رہی اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں عار نہیں کہ میری ذاتی لائبریری میں آدھی سے زیادہ کتب ان ہی کے قلم کی مرہون منت ہیں۔
سعودی عرب کے ادبی حلقوں میں وہ جانی پہچانی شخصیت تھے اور ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے۔ پاکستان، اقبال، یا قائداعظم کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں ان کو انتہائی عزت اور احترام کے ساتھ شامل محفل کیا جاتا اور اعلیٰ ترین منصب پر بٹھایا جاتاتھا۔ وہاں کے مقامی ٹیلی ویژن پر بھی متعدد بار ہا ان کے انٹرویو او رتبصرے نشر ہوئے جو بذات خود ہم پاکستانیوں کے لیے دلچسپی اور فخر کی بات تھی۔
دوسرے پاکستانیوں کی طرح وہ بھی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر زیادہ تر تنہا ہی پردیس میں مقیم رہے اور اس سلسلے میں کافی مشکلات کا سامنا بھی کیا، تاہم انھوں نے اپنی اس تنہائی کو اپنے آپ پر یاسیت طاری کرنے کا عذر نہیں بنایا بلکہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھا کر انتہائی خوبصورت کتابیں اور دیگر شاہکار تخلیق کیے۔
ہمارے اکثر دوست مشترکہ تھے، خصوصاً مرحوم مرتضیٰ صدیقی صاحب تو حنیف صاحب کے بہت شیدائی تھے، کیونکہ دونوں کے شوق سانجھے تھے۔ جب وہ دونوں اپنی ادبی اور تحقیقاتی گفتگو کی بلندیوں کو چھو رہے ہوتے تو میرے جیسے کم عقل لوگ منہ کھولے حیرت سے علم کے سوتے پھوٹتے دیکھا کرتے تھے۔یہ ہمارے لیے سیکھنے کا ایک بہت ہی نادر موقع ہوتا تھا اور ہم اس سے پورا فائدہ اٹھاتے۔
میں تو پاکستان آتے وقت اُن کو وہیں چھوڑ آیا تھا، میرے آنے کے بعد انھوں نے کچھ عرصہ سعودی عرب میں مزید قیام کیا شاید اللہ نے ان کو اپنے بہترین دوست مرتضیٰ صدیقی صاحب کو ہمیشہ کے لیے رخصت کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ وہ آخری دم تک ان کے ساتھ رہے اور عزت و احترام، محبت اور نم آنکھوں کے ساتھ ان کو ابدی سفر پر روانہ کر کے خالی ہاتھ پاکستان آ گئے۔   (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -