رسم کے نام پرافریقی قبیلے کا نوجوان لڑکیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک

رسم کے نام پرافریقی قبیلے کا نوجوان لڑکیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک
رسم کے نام پرافریقی قبیلے کا نوجوان لڑکیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک

  

  • نیروبی (نیوز ڈیسک) دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہوچکی ہے لیکن متعدد افریقی ملکوں میں زنانہ ختنے کی بھیانک رسم آج بھی جاری ہے۔ا فریقی ممالک کے قبائلی اور دیہی معاشروں میں نوعمر لڑکیوں کے بلوغت کو پہنچنے پر یہ ظالمانہ رسم ادا کی جاتی ہے جسے ان کی شادی کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

    حال ہی میں خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فوٹو گرافر سیک فرائڈ موڈولا نے پوکوٹ قبیلے کی لڑکیوں کے ساتھ اس ظلم کے مناظر فلم بند کئے ہیں۔ رسم کی تیاری کے لئے ان لڑکیوں کو برہنہ کرکے جانوروں کی کھال میں لپیٹ دیا جاتا ہے اور ان کے جسم کو سفید رنگ میں رنگ دیا جاتا ہے۔ ان قبائل میں یہ رسم بڑی عمر کی خواتین سرانجام دیتی ہیں جو بلیڈ، چھری یا ٹوٹے ہوئے شیشے کی مدد سے بچیوں کے جنسی اعضاءکے بیرونی حصوں کو کاٹ دیتی ہیں۔

    یہاں یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ لڑکیوں کو جنسی بے راہ روی سے محفوظ رکھنے اور وفادار بیویاں بنانے کے لئے یہ رسم ضروری ہے۔

    جدید طبی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ عمل ناصرف بچیوں کو نارمل جنسی صلاحیت سے محروم کردیتا ہے بلکہ ان کی زندگی کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -