آپ کے سائنسدان نہیں ہمارا جادو گرایبولا وائرس کا علاج کر ے گا،افریقی حکومت نے مغرب کو بتا دیا

آپ کے سائنسدان نہیں ہمارا جادو گرایبولا وائرس کا علاج کر ے گا،افریقی حکومت ...
آپ کے سائنسدان نہیں ہمارا جادو گرایبولا وائرس کا علاج کر ے گا،افریقی حکومت نے مغرب کو بتا دیا

  

مونروویا (نیوز ڈیسک) خوفناک ایبولا وائرس افریقہ میں ہزاروں افراد کو ہلاک کرچکا ہے اور اب اس کی دہشت یورپی اور ایشیائی ممالک تک بھی پہنچ چکی ہے اور دنیا بھر کے سائنسدان اور طبی ماہرین اس وائرس کا علاج دریافت کرنے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں لیکن افریقی ملک لائبیریا کے ایک پادری نے اعلان کردیا ہے کہ وہ اس کا علاج کرسکتا ہے کیونکہ اس کا براہ راست ٹیلیفون رابطہ اس مافوق الفطرت قوت کے ساتھ ہے جس نے یہ وائرس بطور عذاب افریقی ممالک پر مسلط کیا ہے۔

جوکوموسز نامی اس 58 سالہ پادری کو لائبیریا کی حکومت نے ایبولا وائرس کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ پادری کا کہنا ہے کہ افریقی لوگوں کی گناہوں میں ڈوبی زندگی کی وجہ سے قدرت نے ان پر ایبولا وائرس کی صورت میں ایک طاعون مسلط کردیا ہے۔ دولت کی ہوس اور نیک کاموں سے دوری کی وجہ سے قدرت اور آباﺅ اجداد کی ناراض ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے عذاب مسلط کردیا گیا ہے اور اب اس کا علاج یہی ہے کہ توبہ کی جائے اور اس کی بتائی ہوئی جڑی بوٹیوں کا استعمال کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آباﺅ اجداد کی روحوں کا موبائل فون نمبر ہے جس کے ذریعے وہ ان سے رابطہ کرتے ہیں اور انہیں میسج بھیجتے ہیں اور صدیوں پہلے مرنے والے ان کے آباﺅ اجداد یہ میسج ایبولا وائرس کا عذاب مسلط کرنے والی مافوق الفطرت قوت تک پہنچاتے ہیں۔

پادری کواپنے عملیات کے علاوہ تمباکو کے پتوں کو بھی ایبولا وائرس کے علاج کے لئے ضروری قرار دیتے ہیں او ران کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے ایبولا وائرس کو دنیا سے رخصت ہونے کے لئے تین ہفتوں کی مہلت دیدی ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس عرصے کے دوران یہ خوفناک وائرس دنیا سے رخصت ہوجائے گا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -