صارفین کے موبائل فونز سے معلومات چرانے کا نیا امریکی طریقہ

صارفین کے موبائل فونز سے معلومات چرانے کا نیا امریکی طریقہ
صارفین کے موبائل فونز سے معلومات چرانے کا نیا امریکی طریقہ

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی خفیہ ایجنسیاں دنیا بھر کے ممالک کی جاسوسی کرنے کی وجہ سے بدنام زمانہ جانی جاتی ہیں لیکن اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ امریکی ایجنسیاں طیاروں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ہی شہریوں کے موبائل فونز کی بھی جاسوسی کررہی ہیں۔

مشہور اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی مارشل سروس چھوٹے جہازوں کو ملک کے مختلف مقامات سے اڑاتی ہے اور پھر ان میں نصب ڈرٹ باکس نامی جاسوسی آلات ایسے سگنل نشر کرتے ہیں جو کہ موبائل فونز کے بوسٹر سے نشر کئے جانے والے سگنلز جیسے ہوتے ہیں۔ جب کسی صارف کا موبائل فون ان سگنلز کی زد میں آتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ سگنلز کسی موبائل کمپنی کی طرف سے آرہے ہیں لہٰذا فون اپنی شناخت بھیج دیتا ہے۔

موبائل فونز میں یہ فنکشن موجود ہوتا ہے کہ وہ قریب ترین موجود بوسٹر کو اپنی معلومات بھیجتے ہیں اور اسی فنکشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جاسوسی جہاز ان سے معلومات لے لیتے ہیں جسے سرکاری اداروں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد صرف جرائم پیشہ افراد کے موبائل فونز اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کے اداروں نے اسے امریکی حکومت کی طرف سے عوام کے حقوق کی ایک اور کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

تشیوشناک بات یہ ہے کہ دوسرے ممالک میں موجود امریکی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار بھی اسی طرح کے آلات استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے عام صارفین کے موبائل فون بھی ان کی جاسوسی سے محفوظ قرار نہیں دئیے جاسکتے۔

مزید :

بین الاقوامی -