حکومتی ترجیحات میں کوتاہی یا ناکامی؟

حکومتی ترجیحات میں کوتاہی یا ناکامی؟
حکومتی ترجیحات میں کوتاہی یا ناکامی؟

  

اس وقت پاکستان جن مشکلات کا شکار ہے، اُس میں انرجی کرائسس، مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی جیسے بڑے مسائل شامل ہیں۔ حکومت نے اپنے ڈیڑھ سالہ دورِ اقتدار میں ان میں سے کسی بھی مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش نہیں کی، جبکہ اس کے متعلق دعوے بہت سے کئے گئے۔ نواز شریف نے جب عنانِ اقتدار سنبھالی تو اُن کا پہلا بیان یہ تھا کہ وہ اپنے پہلے 90 دنوں کے دورِ اقتدار میں اپنی معاشی اور اصلاحی ترجیحات کا پروگرام پیش کریں گے، بلکہ پہلے 90دنوں میں اپنی ترجیحات کا تعین کر دیں گے، لیکن نہ اُن کی ایسی کوئی تقریر ہوئی، نہ ترجیحات کا تعین کیا گیا، نہ ہی قوم کو ان بیان کردہ ترجیحات کی کوئی سمت نظر آئی، جس سے قوم مایوس ہوئی اور اس کا بھرپور فائدہ پاکستان تحریک انصاف نے اٹھایا اور حکومتی پالیسیوں کے ستائے ہوئے، لوگ نہ صرف تحریک انصاف کے جلسوں میں نظر آئے، بلکہ اس میں شامل ہو کر حکومتی پالیسیوں سے اپنی نفرت کا اظہار کیا اور حکومت کو یہ پیغام بھی دیا کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی ترجیحات مقرر کرے اور ان پر خلوصِ نیت سے عمل درآمد بھی کیا جائے۔

تحریک انصاف ملک بھر میں دھڑا دھڑ سیاسی جلسے کر رہی ہے، جس میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے۔ عمران خان سیاسی طور پر خواہ کوئی بھی مقام رکھتے ہوں، لیکن لوگ اب اُن کی بات سُن رہے ہیں اور انہوں نے قوم کو جگا دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکومت بھی جاگ گئی ہے اور اس کے اوسان خطا ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ نواز شریف کو بھی سمجھ آ گئی ہے کہ اب ایسے ہی کام نہیں چلے گا، کچھ کر کے دکھانا پڑے گا۔ انہوں نے اب اپنی پہلی ترجیح لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور بجلی کی فراہمی مقرر کی ہے۔ حالیہ چینی دورے میں انہوں نے برملا کہا ہے کہ چین کی مدد سے ایسے انرجی پراجیکٹ عمل میں آئیں گے، جن کے ذریعے پانچ سے دس سال کے دوران ہمیشہ کے لئے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا، جس سے صنعت کو ترقی ملے گی، بیروزگاری کا خاتمہ ہو گا اور ترقی کی راہ ہموار ہو گی۔

یہ کام پہلے بھی ہو سکتا تھا جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تھا، لیکن چلو ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق کچھ تو آغاز ہوا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر ترجیحی بنیادوں پر کوئی کام کیا جائے اور اس کا آغاز کیا جائے تو اللہ بھی مدد کرتا ہے۔ ابھی چین کے ساتھ چین میں ہی انرجی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں، جو اربوں ڈالرز پر محیط ہیں۔ جب اس کا پاکستان میں عملی آغاز ہو گا اور قوم کو یہ خواب پورا ہوتا نظر آئے گا، تو شاید قوم سکھ کا سانس لے اور حکومت کو بھی کچھ سُکھ چین میسر آ جائے۔

قوم کسی جماعت کو ایسی ہی توقعات پر ووٹ دیتی ہے اور حکومت کے لئے چُنتی ہے کہ وہ ان کے مسائل کو حل کرے گی اور کسی بھی سابقہ حکومت کے برعکس وہ کام کرے گی، جس کی قوم اُن سے توقع رکھتی ہے، لیکن اگر ایسا کچھ نہ ہو تومایوسی بڑھتی ہے، جس کا فائدہ وہ اٹھاتے ہیں جو اپوزیشن میں ہوتے ہیں اور بلاشبہ پاکستان تحریک انصاف اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔

پاکستان کو آزاد ہوئے 68سال گزر چکے ہیں۔ ان 68سال میں تین دہائیوں تک فوج کی حکومت رہی، لیکن جو جمہوری حکومتیں بھی برسراقتدار آئیں، وہ بھی قوم کے لئے کچھ نہ کر سکیں۔ انہوں نے جس منشور پر الیکشن میں حصہ لیا اور جو پروگرام قوم کو دیا، برسرِاقتدار آنے کے بعد اُس پر عمل نہیں کر سکیں، جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ برسر اقتدار رہنے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے قوم سخت نالاں ہے۔ نظام میں تبدیلی کا جو نعرہ پاکستان تحریک انصاف اور طاہر القادری کی جماعت عوامی تحریک نے لگایا ہے قوم نے اُس پر لبیک کہا ہے۔اگرچہ امید نہیں کہ پاکستان عوامی تحریک کو وہ پذیرائی مل سکے گی، جس کی توقع طاہرالقادری لگائے بیٹھے ہیں، لیکن پاکستان تحریک انصاف کے متعلق ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے عوامی پذیرائی حاصل کر لی ہے۔ اس کااندازہ اُس کے ہر شہر میں ہونے والے بڑے بڑے جلسوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ بڑے جلسے اس بات کی بھی نویدہیں کہ لوگ اب تبدیلی چاہتے ہیں۔

تبدیلی کے نعرے نے عوام میں بڑی مقبولیت حاصل کی ہے اور لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ملک میں تبدیلی آئے، یعنی نظام بدلے۔ لوگوں کو ہر طرح کا انصاف ملے، مہنگائی سے نجات ہو،معاشی ترقی ایسی ہو کہ اُس کا فائدہ ہر انسان اٹھائے۔ نظام تعلیم میں دہرا معیار نہ ہو۔ ایسا نظام ہو، جہاں ہر انسان کو جینے کا حق ملے۔ قانون اور اُس پر عملدرآمد ایسا ہو کہ وزیراعظم ہو یا عام انسان، جو بھی اُس کی خلاف ورزی کرے، وہ اُس کے شکنجے میں آئے اور عدالتیں انصاف کرتے ہوئے یہ نہ دیکھیں کہ کٹہرے میں کون کھڑا ہے۔ جب ایسا ہو جائے گا تو واقعی ملک میں حقیقی تبدیلی آ جائے گی، جس کا لوگ گزشتہ 68سال سے انتظار کر رہے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ملک اشرافیہ کے لئے بنا ہے، جہاں قانون کی حکمرانی نہیں اور جہاں کسی سنگین جرم پر بھی کوئی خوف محسوس نہیں کیا جاتا۔

بے شک ایسا کوئی ملک خوش اسلوبی سے نہیں چل سکتا، جہاں فرسودہ نظام چل رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کے سلوگن نے تحریک انصاف کی گُڈی چڑھا دی ہے۔ اُسے بھی ایسی ہی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے، جیسے کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کو ’’روٹی، کپڑے اور مکان‘‘ کے سلوگن پر حاصل ہوئی تھی۔ یہ اب حکومت کے سوچنے کا مقام ہے کہ وہ کیا سوچتی ہے اور اس حوالے سے کیا کرتی ہے، کیونکہ زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کا تعین کرے اور ان پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ اپنے آپ کو عوام میں مقبول رکھنے کا کوئی اور بہانہ اور جواز نہیں ہے۔

مزید :

کالم -