سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری

سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری
سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری

  

سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری (COPD)کاعالمی دن نیا بھر میں اس بیماری کی آگاہی اور عوامی شعور میں اضافے کے لیے ہر سال نومبر کے دوسرے یا تیسرے بدھ کو منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ دن مورخہ 19 نومبر کو منایا جارہا ہے۔

اس سال اس دن کا پیغام ہے۔

سانس کے مریضوں کی زندگی دوبارہ فعال بنانے کے لیے ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔

مگر کیسے؟؟

سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری (COPD)کیا ہے؟

یہ ایک دائمی مگر قابل علاج مرض ہے۔ یہ اُن چند بیماریوں میں سے ہے جو انسان اپنے لیے خود پیدا کرتا ہے۔ اس لیے اس بیماری سے بچاؤ بہت حد تک ممکن ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر (تقریباً نوے فیصد) سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ سگریٹ نوشی سے سانس کی نالیوں میں سوزش ہوجاتی ہے۔ جس سے نالیاں تنگ ہوجاتی ہیں اور مریض کو تقریباً مسلسل کھانسی، بلغم، سانس میں دشواری اور سینے میں سے سیٹیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ علامتیں لگاتاررہتی ہیں اور آہستہ آہستہ بڑھتی رہتی ہیں۔

سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری (COPD)کے مریضوں میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔ پوری دنیا میں تقریباً 6فیصد لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ پاکستان میں تقریباً ستر لاکھ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ اس لیے اس بیماری میں بھی روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ مناسب آگاہی اور جدید طریقہ علاج سے انسان نے بہت سی بیماریوں کی شرحِ اموات پہ قابو پالیا ہے۔ مگر یہ اس وقت بھی پانچویں بڑی جان لیوا بیماری ہے۔اور 2020 ء تک امراض قلب اور فالج کے بعد تیسری بڑی جان لیوا بیماری بن جائے گی۔

اس بیماری میں مبتلا 90فیصد افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ سگریٹ پینے والا ہرشخص اس بیماری کا شکار نہیں ہوتا۔ اس لیے سگریٹ نوشی کا شکار افراد اکثر کہتے ہیں کہ میرا دادا ساری عمر سگریٹ نوشی کرتا رہا لیکن اس کو تو سانس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ سگریٹ نوشی افراد میں سے تقریباً 20فیصد لوگوں کویہ بیماری ہوتی ہے۔ مگر جس کو ہوجاتی ہے اس کی زندگی مشکل بنا دیتی ہے۔ سگریٹ نوشی کے علاوہ فضائی آلودگی ، سڑکوں پر ٹریفک کا دھواں، بھٹہ پر کام کرنے والے مزدور اور کمروں کے اندر چولہے کے دھویں سے بھی یہ بیماری ہوسکتی ہے۔

سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری (COPD)کی علامت: اس کی علامات الرجی والے دمہ جیسی ہوتی ہیں۔ یعنی کھانسی، بلغم، سانس کی دشواری ، سینے میں گھٹن اور سیٹیوں کی آوازیں محسوس ہوتی ہیں۔ دمہ کے مرض میں یہ علامات کبھی کبھی ہوتی ہیں لیکن COPDمیں یہ علامات مستقل اور ہر سال بڑھتی ہی جاتی ہیں۔ موسموں کے بدلنے کے دوران مریض کو وقتاً فوقتاً بخار بھی ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی علامات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ آہستہ آہستہ بیماری اتنا بڑھ جاتی ہے کہ مریض اپنی روزمرہ زندگی کیلءئے دوسروں کا ، مرحون منت ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اضافی آکسیجن کے بغیر سانس برقرار رکھنا دشوار ہوجاتا ہے۔

سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری (COPD) کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟ اس بیماری میں سب سے پہلے تیز چلنے، سیڑھیاں چڑھنے یا کوئی زور آور کام کرنے سے سانس اکھڑ جاتا ہے جس کو عام طور پر عمر کا بڑھ جانا سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ فوراً معالج سے رابطہ کریں۔

اس بیماری کی بروقت تشخیص (Spirometry)کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس ٹیسٹ میں مریض کو ایک مشین میں زور سے سانس لینا اور باہر نکالنا ہوتا ہے۔ یہ ٹیسٹ نہایت سادہ مگر مرض کی تشخیص اور بیماری کی شدت جاننے میں نہایت کارآمد ہے۔ اس کے علاوہ چند دیگر ٹیسٹ بھی اس بیماری کی تشخیص میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری (COPD) کا علاج کیا ہے؟؟

1۔بیماری کی بنیادی وجہ یعنی سگریٹ نوشی کا تدارک ۔یہ ایک مشکل فیصلہ مگر ناممکن نہیں ہے۔ اس فیصلے کو ممکن بنانے کے لیے اپنے معالج کی مدد لے سکتے ہیں۔

2۔جو لوگ مستقل فضا ئی آلودگی کا شکار ہیں اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

3۔تیسری اہم بات یہ ہے کہ اپنے معمولات زندگی میں تبدیلی لائیں جس میں مناسب خوراک اور باقاعدہ ورزش شامل ہیں۔

4۔متوازن خوراک سے مراد خوراک میں گوشت ، دودھ انڈے، مچھلی، پھل اور سبزیاں شامل ہونی چاہیے۔ خوراک لحمیات کی مقدار میں اضافہ اور چکنائی اور ٹھنڈے مشروبات سے پرہیز کریں۔

5۔ایسی خوراک جس سے معدے میں گیس اور تیزابیت زیادہ ہو اس سے اختیاط لازمی ہے۔

6۔بسیار خوری سے پرہیز کریں اور تھوڑی مقدار کا کھانا دن میں 5سے 6مرتبہ کھائیں۔ کھانے میں نمک کی مقدار کم رکھیں۔

7۔روزمرہ معمولات میں ورزش کو اپنا معمول بنائیں ۔ ورزش میں تیز قدم چہل قدمی ، چھاتی کی ورزشیں جیسے گہری سانس لینا اور ہونٹوں کو سکیڑکر آہستہ آہستہ سانس باہر نکالنا۔

8۔اگر عمر اجازت دے تو سائنگلنگ اور تیراکی کو اپنا معمول بنائیں۔

9 ۔اس بیماری میں سانس کی نالیاں مستقل اور مسلسل تنگ ہوتی ہیں ۔ اسلئے سانس کی نالیاں کھولنے والی ادویات (Bronchodilaters) مسلسل استعمال کرنی چاہئے۔ خوش قسمتی سے یہ ادویات سانس کے زریعے (Inhalers) لی جاسکتی ہے۔ انہیلر ز کے ذریعے دوائی براہ راست پھیپڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس سے باقی اعضاء دوائی کے مضر اثرات سے بچے رہتے ہیں ۔ انہیلر کو باقاعدہ اور روزانہ استعمال کریں ۔ حتی کہ جب مریض ٹھیک ہو تب بھی انہیں روزانہ استعمال کریں ۔

10۔اس بیماری میں انفیکشن سے بچاؤ کیلئے حفاظتی ٹیکے (vaccine) کا استعمال کریں ۔

اگر آپ سانس کی نالیوں کی دائمی بیماری COPD میں مبتلا ہو گئے ہیں ، تو امید ہے ان باتوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے سے صحت مند اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں ۔ ابھی بھی امید باقی ہے۔

مزید :

کالم -