کشمیری جوانوں کی جعلی پولیس مقابلے میں شہادت

کشمیری جوانوں کی جعلی پولیس مقابلے میں شہادت
کشمیری جوانوں کی جعلی پولیس مقابلے میں شہادت

  

بھارتی ملٹری کورٹ نے اپریل 2010ء میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے 3 کشمیری نوجوانوں شہزاد احمد خان، محمد شفیع اور ریاض احمد کو جعلی مقابلے میں شہید کرنے پر 7 بھارتی فوجیوں کوعمر قید کی سزا سنادی ہے ،جبکہ ان فوجیوں کو حاصل تمام مراعات بھی واپس لے لی گئی ہیں۔ ایک کرنل، ایک میجر اور چار بھارتی فوجی اہلکاروں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ شہید کرنے کے بعد فوجیوں نے ان کی لاشوں کو اسلحہ سمیت دکھایا اور رپورٹ میں کہا گیا کہ مارے جانے والے تینوں افراد دہشت گرد تھے جو سرحد پارکرکے پاکستان سے آئے تھے، تاہم تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ان نوجوانوں کو فوج نے غیر قانونی طور پر غائب کرکے جعلی مقابلے میں شہید کردیاتھا۔ واقعے کے بعد مقبوضہ وادی میں کشمیریوں نے شدید احتجاج کیا ،جس پر فوج اور پولیس کے تشدد سے مزید 120 افراد لقمہء اجل بن گئے تھے۔پولیس نے واقعے کے بعد 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ، جس میں یہ 7 فوجی بھی شامل تھے۔

کشمیر کی نوے فیصدآبادی مسلمان ہے۔ مسلمان وہاں آج سے نہیں ، چودھویں صدی کے اوائل سے موجود ہیں ،مسلمان ہی وہاں حکمرانی و جہان بانی کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں، یہاں تک کہ 1587ء میں یہ اکبر کی سلطنت کا ایک جز بن گیا اور احمد شاہ ابدالی تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔ 1819ء میں دیوان محکم چند کی عیاریوں اور افغانوں کی باہمی لڑائی کے طفیل کشمیر رنجیت سنگھ کے ہاتھ آ گیا۔1820ء میں رنجیت نے جموں کا علاقہ ایک ڈوگرہ سردار گلاب سنگھ کو بخش دیا ،وہ آہستہ آہستہ پر پرزے نکالنے لگا ۔اسے مکمل اقتدار اس وقت حاصل ہو سکا جب سکھوں اور انگریزوں کے درمیان کامیاب دلالی کے سلسلے میں انگریزوں نے معاہدۂ امرتسر کے ذریعے یہ خوب صورت علاقہ صرف 75لاکھ روپے میں گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کر دیا ۔ اس طرح ساڑھے چوراسی ہزار مربع میل زمین اور کئی لاکھ انسانوں کی قیمت صرف 75لاکھ روپے میں طے ہوئی جو برصغیر کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین دن تھا۔وہ دن اور آج کا دن ، کشمیری ظلم و ستم کا شکار ہیں۔

مقبوضہ جموں وکشمیر میں 1989ء سے کشمیری حریت پسند مکمل آزادی یا پھر پاکستان کے ساتھ الحاق کے لئے قابض بھارتی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کررہے ہیں ، اس دوران ہزاروں افراد مارے گئے یا غائب کردیئے گئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی حریت پسند تنظیموں کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارتی فوج کی کارروائیوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد شہید ہوچکے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چوبیس سال کے دوران مقبوضہ وادی میں کم سے کم دس ہزار افراد غائب کردیئے گئے ہیں اور وہاں چھ ہزار سے زیادہ بے نام قبریں برآمد ہوئی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کوجعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کے بعد انہیں ان قبروں میں اتار دیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں غاصب بھارتی فوج کے ظلم و ستم پرہٹلرکی روح بھی کانپ اٹھی ہے،مگرنہتے کشمیریوں پرظلم کے پہاڑتوڑتے ہوئے بھارتی حکومت اورفوج کو شرم نہیں آئی۔کشمیریوں پر بد ترین ریاستی دہشت گردی کر کے حقوق انسانی کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو محض عسکری طاقت کے بل بوتے پر نہ صرف اپنا غلام بنا رکھا ہے ،بلکہ اس نے کشمیری عوام پر ظلم و ستم اور جبر و تشدد کے ایسے پہاڑ توڑے ہیں جن کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس ظلم و ستم کے باوجود مقبوضہ وادی کے عوام حق خود ارادیت کے حصول کے لئے پُرامن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اگر بھارت اپنے تمام وسائل، عسکری قوت اور خزانہ مقبوضہ کشمیر میں بروئے کار لائے تو بھی وادی کی ہیئت تبدیل نہیں ہو گی۔ بھارتی قیادت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ دھونس اور دباؤ کی پالیسی سے جذبہء آزادی ختم نہیں ہو گا۔عالمی برادری کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی کے عالمی ادارے گزشتہ 25برسوں کے دوران لاپتہ کئے گئے 9ہزار سے زائد افراد کی بازیابی اور ان لوگوں کی گمشدگی سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔ 8ہزار سے زائد گمنام قبروں میں دفن لوگوں کے اصل حقائق سے کشمیری قوم اور ان افراد کے لواحقین کو معلومات فراہم کرنا عالمی برادری کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ہم عالمی برادری کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام پر جاری مظالم کے خاتمے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا حامی، جبکہ بھارت انکاری ہے۔ یہ مسئلہ اگر ابتدا ہی میں حل ہو جاتا یا سلامتی کونسل کی قرار دادوں کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے دیا جاتا تو آج جنوبی ایشیا ایک پُرامن خطہ ہوتا، لیکن نہ تو اقوام متحدہ نے اس طرف کوئی دلچسپی لی اور نہ ہی بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی چھوڑی اور آج تک یہ مسئلہ جوں کاتوں ہے۔ اقوام متحدہ اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

ہم اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے اور عالمی برادری سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کریں، تاکہ مظلوم کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت مل جائے اور وہ بھی آزادانہ طور پر زندگی گزار سکیں۔۔۔ جمہوریت کا دعویدار بھارت انسانی حقوق سے بے بہرہ ہے، اس کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی قدر نہیں۔ دنیا کو چاہئے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بات پر، ان کے مسئلے پر کان دھرے اور ان کا مسئلہ حل کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے حقوق کو بالائے طاق رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،اس رویے سے صاف ظاہر ہے کہ وہاں قانون کا کوئی احترام نہیں اور جبری قبضہ قائم رکھنے کے لئے پُرامن احتجاج کرنے والوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے جاتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال تشویشناک ہے۔ عالمی طاقتیں بھارت اور پاکستان کے درمیان پائے جانے والے اس سنگین مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید :

کالم -