سید مودودیؒ کے دروس اور پرانی کرسی!

سید مودودیؒ کے دروس اور پرانی کرسی!
سید مودودیؒ کے دروس اور پرانی کرسی!

  

بنی نوع آدم میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے دور میں ایک بڑی آبادی کو متاثر کرتی ہیں۔ ان میں سے کئی ایک ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں، جن کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ان کے اثرات قائم رہتے ہیں۔ ہر شخص کے کچھ آئیڈیلز، پسندیدہ شخصیات اور ہیروز ہوتے ہیں۔ گزشتہ صدی میں امت مسلمہ کے درمیان بہت سی شخصیات نے عظیم الشان خدمات سرانجام دیں۔ حالات کی ناسازگاری کے باوجود انہوں نے وہ کارنامے تاریخ میں ر قم کئے کہ جنھیں مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ ان شخصیات میں ہمارے دور کے عظیم مفکّر، مفسّر اور مُدبّر سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نامِ نامی تاریخ میں جگمگا رہا ہے۔ راقم الحروف کو مولانا ؒ کے قدموں میں بیٹھنے، ان کے ملفوظات سننے اور ان کی تالیفات پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ پہلی مرتبہ مرشد سے ملاقات اُس وقت ہوئی جب مَیں اپنے گاؤں میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اور اپنے ہیڈ ماسٹر چودھری جلال الدین مرحوم کے ہمراہ لاہور آیا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کی خواہش تھی کہ مولانا صاحب سے ملاقات کریں اور میری بھی قلبی تمنا! ہم 5۔ اے ذیلدار پارک پہنچے تو نمازِ مغرب میں تھوڑا سا وقت تھا۔ یہ نومبر 1961ء کا مہینہ تھا۔

مولانا وضو کرکے اندر سے نکلے تو ہم نے آگے بڑھ کر سلام عرض کیا۔ مولانا نے ہاتھ ملایا، حال احوال پوچھا اور یہ بھی دریافت فرمایا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ ہم نے مولانا کے ساتھ نماز پڑھی اور رخصت ہوگئے۔ مولانا کی شخصیت دل میں گھر کر گئی۔ اس سے قبل گھر میں مولانا کی کتب موجود تھیں، جن کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوتا رہتا تھا۔ 1963ء میں میٹرک کرنے کے بعد میں لاہور آیا تو ریلوے روڈ اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا۔ یہاں میں ہاسٹل میں مقیم تھا۔ اُس زمانے میں مولانا کو بھاٹی گیٹ کے کل پاکستان اجتماع عام میں دیکھا تھا۔ اس کا تذکرہ مَیں نے کئی مضامین میں کیا ہے۔ مولانا مودودیؒ قلعہ گجر سنگھ میں عبدالکریم روڈ پر ایک چھوٹی سی مسجد میں ہر اتوار کو صبح درس قرآن ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ سردیوں میں غالباً 9بجے اور گرمیوں میں 7 بجے یہ درس ہوا کرتا تھا۔ ہمارے ہاسٹل سے یہ جگہ زیادہ دور نہیں تھی اس زمانے میں نوجوان اور بوڑھے سبھی پیدل چلنے کے عادی تھے۔ ہم ہر اتوار کو صبح ناشتہ کرتے اور ایک ٹولی کی صورت میں مسجد مبارک کی راہ لیتے۔ میرے ساتھ سید اقبال انجم، محمد صدیق، محمد صوبے خان، سرفراز اور بعض دوسرے ساتھی ہوتے تھے۔

ہاسٹل میں ہمارے دیگر ہم جولی اتوارکو لمبی تان کر سوتے، جبکہ ہمارے لئے اتوار کا دن دیگر دنوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کا حامل تھا کہ کسی پروفیسر کا لیکچر سننے کے بجائے ہم مفسر قرآن کی مجلس میں زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل کرتے تھے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ مولاناؒ نے آخری درس کب دیا تھا اور نہ ہی یہ یاد پڑتا ہے کہ آخری مرتبہ کب اس مسجد میں جانے اور نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ خیال ہے کہ42 سال بعد 14 نومبر 2014ء جمعتہ المبارک کے دن اس مسجد میں ایک بار پھر حاضر ہونے کی سعادت ملی۔ مولانا کے ہفتہ وار درس میں جو بزرگ ہوا کرتے تھے، ان میں جو یاد آرہے ہیں، ان میں سے چند ایک کے نام مسجد میں داخل ہوتے ہی فوراً ذہن میں آئے۔ میاں طفیل محمد مرحوم، شیخ فقیر حسین مرحوم، راجہ احسان الحق مرحوم، پہلوان عبدالستار مرحوم، محمد یوسف خان مرحوم،چودھری غلام جیلانی مرحوم، عبدالحمید کھوکھر مرحوم، خواجہ علاؤ الدین مرحوم، حافظ نور محمد مرحوم، مظفر بیگ مرحوم اور محترم ملک محمد اسلم حفظہ اللہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کیا خوب صورت گل دستہ تھا! مولاناؒ کا درس ختم ہوتا تو سوالات کی چٹیں ایک شخص ان کی طرف بڑھاتے۔ غالباً ان کا نام ظہیر الدین تھا، مگر یقین نہیں کہ آیا وہ بقیدِ حیات ہیں یا اللہ کو پیارے ہوگئے۔

اس مسجد میں مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم سالہا سال تک خطبۂ جمعہ ارشاد فرماتے رہے ۔ ان کا قیام بھی مسجد کے بالائی حصے میں ا یک کمرے میں ہوا کرتا تھا۔ یہ مسجد علماء کا مرکز تھا، جہاں علماء کے بہت سے اجلاس منعقد ہوئے۔ جمعیت اتحاد العلماء کی بنیاد بھی یہیں پر رکھی گئی تھی۔ اس کے پہلے صدر استاد الاساتذہ حضرت مولانا محمد چراغ ؒ تھے اور پہلے سیکرٹری جنرل حضرت مولانا گلزار احمد مظاہریؒ تھے۔ مجھے اس مسجد میں پہلی بار جمعہ پڑھانے کا اعزاز گزشتہ جمعے کو حاصل ہوا۔ پہلوان عبدالستار مرحوم کے بیٹے میاں محمد خالد اور مسجد کے بعض اساتذہ اورآئمہ بار بار اصرار کرتے رہے کہ اس مسجد میں جمعہ کے روز حاضری دوں۔ ان کی فرمائش پوری کرنا ممکن نہیں ہوپاتا تھا۔ اس مرتبہ اللہ نے موقع دیا تو پرانی یادیں تازہ کرنے کے لئے حاضر ہوگیا۔ ہمارے دوست شبیر احمد شائق اس مسجد میں گزشتہ تین سال سے باقاعدگی سے نمازِ جمعہ پڑھا رہے ہیں۔ حافظ محمد حنیف صاحب کے فرزندِ ارجمند مولانا محمد چراغ مرحوم بھی سال ہا سال یہاں جمعہ پڑھاتے رہے۔

نماز جمعہ کے بعد دوستوں کے اصرار پر مسجد کی بالائی منزل پر لائبریری میں ایک نشست ہوئی اور ایک پرانے بزرگ حافظ محمود صاحب نے بہت سے واقعات سنا کر حاضرینِ مجلس کو محظوظ بھی کیا اور آبدیدہ بھی! مسجد بنانے والے اور اس کا انتظام چلانے والے سبھی بزرگان امرتسری تھے۔ حافظ محمود صاحب کا تعلق بھی امرتسر ہی سے تھا۔ سالہا سال اس مسجد میں تراویح پڑھاتے رہے، اب بہت بوڑھے ہوچکے ہیں۔ ان کے بقول آخری تراویح 1985ء میں پڑھائی تھی۔

سید مودودیؒ جب درس کے لئے آتے تھے تو کبھی لیٹ نہیں ہوتے تھے۔ البتہ کبھی کبھار وقت سے چند منٹ پہلے پہنچ جایا کرتے تھے۔ ان کے درس میں حاضر ہونے والے ایسے لوگ نہیں تھے جو آخری لمحات میں حاضری لگوانے کے لئے آجایا کریں، بلکہ سب کے سب وقت سے پہلے موجود ہوتے تھے۔ ایک دن کا خاص واقعہ مجھے یاد ہے کہ مولانا وقت سے پانچ ، سات منٹ پہلے پہنچ گئے۔ سامعین سب موجود تھے، لاؤڈ سپیکر لگا ہوا تھا، مگر مولاناؒ اپنی کرسی پر خاموش بیٹھ گئے۔ کسی ساتھی نے کچھ کہا تو اپنی گھڑی کی طرف دیکھنے لگے اور فرمایا کہ جو لوگ ٹھیک وقت پر آئیں گے، انہیں کیسے ہم نظر انداز کرسکتے ہیں۔ جونہی مقررہ وقت ہوا مولاناؒ نے درس شروع کر دیا۔ لائبریری میں مولاناؒ کی اس پرانی کرسی کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس پر بیٹھ کر وہ درس دیا کرتے تھے۔ اب یہ کرسی بہت بوسیدہ ہوچکی ہے۔ مَیں نے میاں خالد اور میاں طارق صاحب سے کہا کہ اس کی مرمت کراؤ اور اسے اسی حالت میں محفوظ کرلو۔ دوستوں سے رخصت ہونے کے بعد کافی دیر تک اُسی ماحول میں کھویا رہا، جو سالہا سال قبل بیت گیا تھا، تاآنکہ ہم منصورہ آپہنچے۔ مَیں اپنی یادوں کے دیپ جلائے گاڑی سے اتر کر نمازِ عصر کی تیاری میں لگ گیا۔ اب ان عظیم ہستیوں کی یادیں تو دل میں جگمگاتی رہیں گی، مگر ان سے ملاقات تو دارالبقا ہی میں ہوگی۔ اللہ کرے ہم سب وہاں نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جگہ پا سکیں۔

مزید :

کالم -