سیاسی درجہ حرارت اور معجزے کا انتظار

سیاسی درجہ حرارت اور معجزے کا انتظار
سیاسی درجہ حرارت اور معجزے کا انتظار

  

صاحبو! پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت پھر بڑھ رہا ہے۔ اس بار بھی حکومت ہی جلتی پر تیل ڈالنے والے اقدامات کررہی ہے ،اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان بھی اسے ہی ہو گا۔ ایک ایسے موقع پر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے ہیں ، جب انہیں سیاسی طور پر گرفتار کرنا ممکن ہی نہیں۔ پولیس نے یہ بے مقصد پریکٹس کیوں کی اور کیوں اس حوالے سے عدالت میں مضمرات بیان نہیں کئے، تاکہ پی ٹی وی حملہ کیس کو موخر کیا جا سکتا۔مجھ جیسے ایک عام آدمی کو بھی اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اپوزیشن کو حکومت کے انتقامی اقدامات سے نئی زندگی اور تحریک ملتی ہے۔سو یہی ہوا اور اس ایک اقدام نے سیاسی درجہ حرارت کو پھر اوپر کی طرف گامزن کر دیا ہے۔ آپ اگر بیانات کی اُڑان دیکھیں تو صاف لگے گا کہ کوئی فریق بھی دوسرے کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ معاف کرنا تو دور کی بات ہے ، درگزر سے کام بھی نہیں لیا جا رہا،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی فضا پھر پراگندہ ہوتی جا رہی ہے۔دونوں کی طرف سے پھر وہی بیانات آنا شروع ہو گئے ہیں کہ نمٹ لیں گے، مار دیں گے، گریبان سے پکڑیں گے اور عمران خان کنٹینر نہیں چھوڑیں گے، پہیہ جام کر دیں گے، حکومت کرنا مشکل بنا دیں گے وغیرہ وغیرہ۔

اب ایسے میں کوئی کیسے یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ حالات جلد یا بدیر نارمل ہو جائیں گے۔اس کا تو دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اعتماد کا جس قدر بحران آج ہے ، پہلے کبھی نہیں تھا۔شکوک و شبہات اور بے یقینی نے پوری فضا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ایسے میں کوئی قدم اٹھانا اور آگے بڑھانا کسی بھی طرح ممکن نہیں رہتا، مثلاً ایک تازہ مثال دیکھئے کہ حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی تو پاکستان عوامی تحریک نے اسے مسترد کردیا۔ اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ اس کے سربراہ شریف خاندان کے بہت قریبی آدمی ہیں۔اب کوئی بتائے کہ اس قسم کے اعتراضات اور الزامات کی صحت کا فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کچھ اسی قسم کا حال پاکستان کے نئے چیف الیکشن کمشنر کے چناؤ کا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے پر اعتراضات کئے جا رہے ہیں۔ اس پریکٹس سے تو یہی لگتا ہے کہ ساری عمر لگے رہیں، کوئی متفقہ فیصلہ نہیں ہو سکے گا۔کسی شخص کی وابستگی کو بنیاد بنا کر اس کی غیر جانبداری کو کسی ثبوت کے بغیر سوالیہ نشان بنا دینا ایک بہت بڑی زیادتی ہے،جس کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔البتہ سوال یہ بھی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن آخر کسی نام پر کیوں متفق نہیں ہو رہیں۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنی پسند کا چیف الیکشن کمشنر چاہتا ہے، دیانتداری اور ایمانداری کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اعتماد کے فقدان اور عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ مریم نواز کو بالآخر عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کے حوالے سے ابھی تک کوئی اعتراض بھی سامنے نہیں آیا۔یہ سب باتیں اس امرکی نشاندہی کررہی ہیں کہ ہماری سیاست عدم برداشت کی سنگین صورت حال سے دوچار ہے۔

پی ٹی آئی کے ننکانہ میں ہونے والے جلسہ ء عام سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے جو اشتعال انگیز خطاب کیا، اس پر بھی بڑی لے دے ہو رہی ہے۔ مَیں ان کی حمایت نہیں کررہا، کیونکہ متشددانہ تصورات کی حمایت نہیں کی جا سکتی، تاہم میرا سوال یہ ہے کہ کیاایسی زبان پہلے کبھی استعمال نہیں کی گئی؟ ہم نے تو اپنے ہوش و حواس میں جتنی بھی سیاسی تحریکیں دیکھی ہیں، ان میں مخالفین کے لئے لیڈروں کا لب و لہجہ ہمیشہ اسیقسم کا دیکھا ہے۔ جہاں تک حکومت کی بات ہے تو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی بات کب اور کہاں نہیں کی گئی۔ خود موجودہ حکومت کے مخالفین ماضی قریب کی مثال دیتے ہیں، جب وفاقی حکومت کے ذمہ داروں کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹنے اور چوراہوں کے بیچ لٹکانے کی باتیں کی جاتی تھیں۔سو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک تسلسل کے ساتھ ان باتوں کو دہرا رہے ہیں، جو کل بھی معیوب سمجھی جاتی تھیں ،آج بھی معیوب سمجھی جاتی ہیں، مگر نہ کل ان سے کنارہ کشی اختیار کی جا سکی اور نہ اب کی جا رہی ہے، تاہم جب اقتدار اور اپوزیشن کی پوزیشن بدل جاتی ہے تو اس حوالے سے نظریات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔

اب کوئی مجھے یہ سمجھائے کہ شیخ رشید احمد نے تو بڑھک ماری اور مارنی ہی تھی کہ وہ اپوزیشن کی سیاست کررہے ہیں، مگر وزیراطلاعات سینیٹر پرویز رشید کو کیا پڑی ہے کہ وہ گریبانوں سے پکڑنے جیسے بیانات دے رہے ہیں۔کیا وہ جلتی پر تیل نہیں ڈال رہے اور اس ایجنڈے کو پورا نہیں کررہے جو حکومت کانہیں ،اپوزیشن کا ہے کہ ملک میں انتشار اور بے یقینی پھیلے۔ شیخ رشید احمد جیسے پرانے اور منجھے ہوئے سیاستدان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ کوئی بے مقصد چال چلیں۔اپوزیشن میں لہو گرم رکھنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے، تاکہ جذبوں کو زندہ و توانا رکھا جا سکے۔یہ فن شیخ رشید کو خوب آتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے قربانی سے پہلے قربانی کا شوشہ چھوڑ کر فضا کو بے یقینی کا شکار کیا ،اب انہوں نے عوام کو پُرتشدد احتجاج کی کال دے کر نئی ہلچل پیدا کی ہے۔یہ سب کچھ صرف بیانات اور نعروں کی حد تک ہوگا،عملی صورت میں کبھی نہیں ڈھل سکے گا، البتہ اگر حکومتی وزراء ایسے بیانات کے جواب میں ترکی بہ ترکی دھمکیوں پر اتر آتے ہیں تو سمجھو اپوزیشن کا مقصد حل ہوگیا۔یہ سب کچھ تسلسل کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔اب جبکہ سیاسی درجہ حرارت کچھ کم ہونے کی امید ہوئی تھی، پھر نئے سرے سے ماحول کو گرم کرنے کے پورے پورے جتن کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف لندن میں جس دن بیان دیتے ہیں کہ دھرنے والے ناکام ہو گئے ہیں اور ملک اب ترقی و خوشحالی کی راہ پر چل نکلا ہے، اسی دن ان کے وزراء یہ بیان دے رہے تھے کہ 30نومبر کو بھی دھرنے والوں سے نمٹ لیں گے۔اگر معاملہ ابھی تک نمٹنے اور پکڑنے میں اٹکا ہوا ہے تو کیونکر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دھرنے والے ناکام ہو گئے ہیں اور سب کچھ سازگار حالات کی نوید سنا رہا ہے۔

ہر پاکستانی کی طرح میری بھی یہ خواہش ہے کہ سیاسی بحران حل ہو جائے اور سب مل کر پاکستان کے بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔ایک مضبوط جمہوری پاکستان کی تشکیل کے لئے مشترکہ کوشش کی جائیں، مگر یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔پورے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈال لیجئے، آپ کو جمہوری سوچ کا فقدان دکھائی دے گا۔ جمہوریت جس قسم کے رویے کا تقاضا کرتی ہے، وہ کہیں بھی موجود نہیں، نہ حکومت اور نہ ہی اپوزیشن۔ جمہوریت مکالمے پر زور دیتی ہے، گفت و شنید کے ذریعے مسائل حل کرنے کا راستہ دکھاتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ دوسرے کے نقطہ ء نظر کو ہمدردانہ طور پر سننے اور مثبت باتوں کو تسلیم کر لینے کا تقاضا کرتی ہے، لیکن یہاں تو ان سب باتوں کا فقدان ہے۔اس فقدان کی وجہ سے اپوزیشن اور حکومت میں خلیج اتنی گہری ہو جاتی ہے کہ اسے پائنا ممکن نہیں رہتا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چل رہی تھی تو اسی قسم کی دوریاں حائل تھیں۔ بڑی مشکل سے جن مذاکرات کا آغاز ہوا تھا،وہ بھی اس لئے ناکام ہو گئے کہ فریقین میں سے کوئی بھی جمہوری سوچ اختیار کرکے کچھ دینے کو تیار نہیں تھا۔ جب دونوں فریق دو انتہاؤں پر کھڑے ہوں تو نقصان کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔بھٹو کے ساتھ جو ہوا سب کے سامنے ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے مخالفین بھی خسارے میں رہے تھے، حتیٰ کہ ملک بھی مارشل لاء کی چھتری تلے ایک طویل عرصے تک جمہوریت سے دور چلا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف اور حکومت دونوں ہی انتہا پسندی کا شکار ہیں۔دونوں اپنی اپنی پوزیشن پر ڈٹی ہوئی ہیں اور اس سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں دھاندلی پر انصاف چاہتی ہے، مگر اس کے لئے کڑی شرائط عائد کرکے اس نے خود کو بے لچک بنا رکھا ہے، اسی طرح حکومت بھی غالباً یہ طے کئے ہوئے ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے ایشو کو اہمیت نہیں دینی۔یہی وجہ ہے کہ اس نے نہ تو چار حلقے کھولنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے اور نہ ہی اب دھاندلی کے لئے عمران خان کے فارمولے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے تیار ہے۔ یوں یہ بیل کسی بھی طریقے سے منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔ اب ایسی صورت حال میں کھینچا تانی، دھمکی آمیز بیانات، گھیراؤ جلاؤ کی وارننگ اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات کی بھرمار زمینی حقیقت بن جاتی ہے ،سیاسی منظرنامے پر اچٹتی سی نگاہ ڈالنے سے بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہم سیاسی طور پر ایک بحران اور ہیجان کا شکار ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ جنہیں اس صورتِ حال سے نکلنے کے لئے کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے،وہ عملی اقدامات کی بجائے کسی معجزے کے انتظار میں بیٹھے ہیں کہ جب سب کچھ نارمل ہو کر ان کی مرضی و منشاء کے مطابق ڈھل جائے گا۔۔۔لیکن کیا کبھی ایسے معجزے بھی ہوئے ہیں؟

مزید :

کالم -