جنرل راحیل شریف کا دورہ امریکہ!

جنرل راحیل شریف کا دورہ امریکہ!

  

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف امریکی جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی کی دعوت پر ایک ہفتے کے دورے پر امریکہ جا رہے ہیں، جہاں وہ بہت مصروف وقت گزاریں گے اور انتہائی اہم مذاکرات کریں گے، جن کا تعلق دہشت گردی اور پاک افغان حالات، پاک بھارت تعلقات اور مجموعی طور پر علاقائی سلامتی سے ہے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے کامیابی سے جاری ہونے کی وجہ سے ان کو بہت مضبوط اور پختہ عزم کا جنرل تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اُن کی امریکہ میں بہت پذیرائی متوقع ہے۔ امریکی میڈیا نے اُن کے دورے کا خیر مقدم کیا اور اسے بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کہ شمالی وزیرستان میں شروع کئے جانے والے آپریشن ضربِ عضب اور ملحقہ علاقوں میں دہشت گردی کے ٹھکانوں کی تباہی کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔

امریکی موقر روزنامے’’ واشنگٹن پوسٹ ‘‘نے تو اپنی ایک اشاعت میں ان کو بہادر جرنیل کا خطاب دیا اور لکھا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے پیش رو جنرل(ر)کیانی نے سوات آپریشن کر کے وہاں سے شدت پسندوں کا خاتمہ کیا اور امن بحال کر دیا، جس کی وجہ سے اُن کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، لیکن وہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے اور اُن کے دور میں ایسا نہ ہو سکا، حالانکہ امریکہ کی طرف سے زور بھی دیا جا رہا تھا، تاہم جنرل راحیل شریف نے پختہ عزم کے ساتھ یہ آپریشن شروع کیا اور بہت زیادہ کامیابی بھی حاصل کی اس کے ساتھ ہی جنرل راحیل شریف نے اس موقف کا بھی اظہار کیا ہے کہ آخری دہشت گرد کی موجودگی تک آپریشن جاری رہے گا اور پھر دوبارہ ان دہشت گردوں کو نہ تو واپس آنے اور نہ ہی جمع ہونے دیا جائے گا۔

پاک امریکہ تعلقات کی ایک اپنی تاریخ ہے، ان میں مدّو جذر آتے رہے ہیں، ماضی میں امریکہ کا مطالبہ ’’ڈو مور‘‘ بہت مشہور ہوا ،جو بوجوہ پورا نہ ہوا، سابقہ حکومت اور عسکری قیادت نے باہمی رضا مندی سے شمالی وزیرستان آپریشن سے گریز کیا تھا، جس کے باعث دہشت گردی میں اضافہ ہوا، پاکستان بھی اس کا نشانہ بنا، چنانچہ نئی حکومت کے بعد جب جنرل راحیل شریف کو چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا تو اس مسئلے پر تفصیلی بات چیت ہوتی رہی، حکومت اور عسکری قیادت نے باہمی سمجھوتے کے تحت آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا، جو کامیابی سے جاری ہے اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑا جا چکا ہے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی ہوئی ہے یہ متاثر کن ہے، اس سے آج کی دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکہ میں ان کی عسکری حکام کے علاوہ امریکی انتظامیہ کے ذمہ دار حضرات سے بھی ملاقاتیں اور مذاکرات متوقع ہیں، اس دورے کے دوران جنرل راحیل شریف اپنی فوجی ضرورتوں سے آگاہ کر کے بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے دورے کو سیاسی حمایت بھی حاصل ہے۔

مزید :

اداریہ -