پاکستان اور افغانستان ماضی کا ملبہ اتار پھینکیں

پاکستان اور افغانستان ماضی کا ملبہ اتار پھینکیں

  

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی انتظام اور فوجی تربیت چاہتے ہیں، دہشت گرد پاکستان اور افغانستان دونوں کے دشمن ہیں اور ان مشترکہ دشمنوں کی کارروائیوں کے خاتمے کے لئے دونوں ملکوں کا تعاون ضروری ہے۔افغانستان اس سلسلے میں تمام مطلوبہ اقدامات کرنے کے لئے تیار ہے، خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان سے مکمل تعاون کریں گے۔افغان صدر نے راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا دورہ بھی کیا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی،جس میں دہشت گردی کے خاتمے سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، پاک افغان سرحد پر امن و امان کی صورت حال، دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے تعاون پر بھی صلاح مشورہ کیا گیا، دونوں ملکوں نے پاک افغان تجارت کا حجم2017ء تک 5ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم کیا ہے، دونوں ممالک تمام تجارتی اشیا کی کلیئرنس دو دن میں دے دیں گے، افغان صدر نے صدر ممنون حسین، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ سے بھی ملاقاتیں کیں اور دونوں ملکوں کے درمیان متعدد امور پر تبادل�ۂ خیال کیا۔

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اس سے پہلے بھی پاکستان آتے جاتے رہے ہیں، تاہم انہوں نے صدر حامد کرزئی سمیت بہت سے دوسرے افغان رہنماؤں کی طرح پاکستان میں مستقل قیام کبھی نہیں کیا، نہ انہوں نے کبھی پاکستان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کام کیا، اس لئے ذاتی حوالے سے ان پر ماضی کا کوئی بوجھ نہیں، اُن کے پیشرو حامد کرزئی کا معاملہ ذرا مختلف تھا، وہ صدر بننے سے پہلے پاکستان میں رہ چکے تھے اور اپنے مزاج کے مطابق اُن کے رویئے میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں توازن نہ تھا، وہ پاکستان کے ساتھ خوش ہوتے تو اظہار محبت میں بہت آگے چلے جاتے اور اگر کبھی ان کے مزاج میں تلخی آ جاتی، تو پھر ایسی باتیں کر جاتے، جن کا نہ کرنا ہی بہتر تھا کہ یہ تلخیاں بڑھانے کا باعث ہوتیں، وہ اکثر اپنے مسائل کا باعث پاکستان کو قرار دے دیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر اشرف غنی امریکہ میں عالمی بینک کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ تباہ حال معیشتوں کی بحالی اُن کا خصوصی موضوع اور مضمون ہے اس لحاظ سے وہ نہ صرف اپنے مُلک کے لئے مفید اور دور رس اقدامات کر کے معیشت بحال کر سکتے ہیں، بلکہ اپنے مثبت اقدامات کے ذریعے پاکستان کی بھی بہت مدد کر سکتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے بعد نہ صرف افغانستان میں تباہی آئی، بلکہ پاکستان کو بھی دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بننا پڑا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے، جو ایک عشرے سے زیادہ مسلسل دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ اس جنگ میں50ہزار سے زیادہ قیمتی جانوں کا نذرانہ دے چکا ہے۔ اس کی معیشت کو 100ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصان ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی نے جی ایچ کیو کے دورے کے دوران دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کی تعریف کی۔

اب جبکہ امریکی اور یورپی افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں اور وہاں جمہوری طور پر منتخب قیادت خوش اسلوبی سے تمام متنازعہ امورنمٹا کر برسر اقتدار آ چکی ہے، افغان عوام اور خطے کے لوگ پُرامید ہیں کہ اُن کے دن بدلیں گے اور جس دہشت گردی نے اُن کی زندگیوں کو عذاب بنا رکھا تھا وہ ختم ہو گی، افغانستان اور پاکستان کی مشکلات کا آغاز تو روسی افواج کی افغانستان میں آمد کے ساتھ ہو گیا تھا، اس وقت سے اب تک افغانستان کے عوام کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں، پاکستان نے30لاکھ کے لگ بھگ افغان مہاجروں کو اپنے ملک میں پناہ دی، اب بھی لاکھوں افغان مہاجر پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ ان حالات میں دونوں ملکوں کے عوام کے دُکھ سُکھ سانجھے ہیں اور ان دُکھوں کا مداوا بھی مل جُل کر کیا جا سکتا ہے، ماضی میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں وقتاً فوقتاً جو تلخیاں در آتی رہیں اُن کے ملبے کو اُتار کر پھینکنے کی ضرورت ہے اگر ایسا ہوتا ہے، تو دونوں کے درمیان تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے، اُونچ نیچ تو آتی رہتی ہے، لیکن دونوں مُلک، جس طرح دینی، ثقافتی، لسانی اور مشترکہ باہمی مفادات کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اُن کا تقاضا ہے کہ دونوں ملکوں میں مثالی تعلقات قائم ہوں، اگر اب تک ایسا نہیں ہو سکا تو بھی ماضی کو بھول کر نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ افغان عوام کی بیشتر ضروریات پاکستان سے پوری ہوتی ہیں، اس لئے اب اگر تجارتی حجم 5ارب ڈالر تک پہنچانے کا عزم کیا گیا ہے، تو یہ کوئی مشکل ٹارگٹ نہیں، دونوں ملکوں میں قانونی تجارت کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کا دھندا بھی وسیع پیمانے پر ہوتا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بہت سی اشیاء واپس پاکستان آ جاتی ہیں اور پاکستان کی منڈیوں میں ہی فروخت ہوتی ہیں، افغان تاجر بیرونی دنیا سے ایسی اشیاء بھی درآمد کر لیتے ہیں، جن کی افغانستان میں طلب ہے نہ مارکیٹ، ان اشیاء کی درآمد کا مقصد انہیں پاکستان میں فروخت کرنا ہی رہ جاتا ہے اور عملاً ایسا ہی ہوتا ہے، اگر دونوں ملکوں میں سمگلنگ کا سلسلہ رک جائے تو قانونی تجارت کا حجم آسانی سے بڑھ سکتا ہے ۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے اور اس سمگلنگ کو روکنے میں بہت سی مشکلات بھی حائل ہیں تاہم تدریجاً اس کام کو حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

چند روز قبل پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کیا تھا تو افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت کی پیشکش کی تھی، ایسی پیشکش پاکستان پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ اب صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی آمد پر بھی اس پر غور ہوا تو امید ہے معاملہ آگے بڑھے گا۔ امریکہ اور نیٹو کی افواج کے جانے کے بعد جو دس ہزار امریکی فوج افغانستان میں رہ جائے گی اس کا مقصد بھی افغان سیکیورٹی فورسیز کی تربیت ہی بتایا گیا ہے۔ پاکستان اس ضمن میں افغانستان کے لئے جو خدمات انجام دے سکتا ہے اور اس کا بالآخر افغانستان کو جو فائدہ ہو گا اس کا کوئی حد و حساب نہیں، اس لئے اگر اس شعبے میں تعاون بڑھتا ہے تو دونوں ملکوں کے لئے مفید ہو گا۔ دہشت گردی دونوں ملکوں کا مشترکہ مسئلہ ہے، پاکستان میں ضرب عضب آپریشن کے بعد جو لوگ افغانستان فرار ہو گئے اور جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اگر دونوں ملک مل کر ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تو دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سرحد پر چیک پوسٹوں کا جو نظام قائم کرنے پر غور ہوا ہے اگر اس پر کما حقہ عمل ہو گا تو دونوں ملکوں کے لئے مفید ہو گا۔ صدر اشرف غنی کے دورے کے بعد باہمی تعلقات کے ایک نئے دور کے آغاز کا جو خواب دیکھا گیا ہے امید ہے وہ جلد شرمند�ۂ تعبیر ہو گا۔

مزید :

اداریہ -