پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کو دوطرفہ تجارتی خسارے کا سامناہے

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کو دوطرفہ تجارتی خسارے کا سامناہے

  

 کراچی (آن لائن ) پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کو دوطرفہ تجارتی خسارے کا سامناہے تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات عمل میں لائے جارہے ہیںتوقع ہے کہ بہت جلد دوطرفہ تجارتی خسارے پر قابو پالیاجائے گا۔پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کو دوطرفہ تجارتی خسارے میں کمی کے سلسلے میںسوئٹزر لینڈ کے قونصل جنرل ایمل وائس نے پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن(پی سی ڈی ایم اے)کے وائس چیئرمین ندیم آفتاب اور دیگر ممبران سے ملاقات میں کہا ہے کہ کوئی بھی بحران مواقع تخلیق کرتا ہے ماضی میں پاکستان اور سوئٹزر لینڈبہتر تجارتی حجم سے مستفید ہو چکے ہیں تاہم اب بھی دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجار ت کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں اور مشترکہ کوششوں سے تجارت میں اضافے کوممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر سابق چیئرمین شوکت ریاض، ڈپلومیٹک افیئرزکے کنونیر محمد سلمان پرویز،ایڈوائزر ڈپلومیٹک افیئرزعارف بالا گام والا،نجم الدین چغتائی، ناصرالدین فتح ککڈا،سیکرٹری جنرل سید شکیل احمد بھی موجود تھے۔سوئٹزر لینڈکے قونصل جنرل نے دونوں ممالک کے تاجروں پرزور دیا کہ وہ باہمی تبادلہ خیال اور کاروبار کی نئی راہیں تلاش کر کے باہمی تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مو¿ثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوںنے ایس ایم ایز سیکٹر کو سوئس معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سے تعبیر کرتے ہوئے بتایاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی اورتجارتی سرگرمیوں کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے سوئس حکومت فنڈز فراہم کرتی ہے اور ایس ایم ایز سیکٹر پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔سوئس قونصل جنرل نے پاک سوئس باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ دونوں مما لک کے درمیان دیرینہ تعلقات قائم ہیں کئی سوئس کمپنیاں آزادانہ اور مشترکہ شراکت داری کے ذریعے پاکستان میں کاروبار کر رہی ہیں اور1949سے سوئس سفارتی مشن پاکستانی ہم منصب اور تاجر برادری کے ساتھ دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔انہوںنے خوشی کااظہار کرتے ہوئے اجلاس کے شرکاءکو بتایاکہ پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے سوئٹزر لینڈ کے لیے ترجیحی ممالک میں شامل ہے اور پاکستان میں صف اول کے10سرمایہ کاروں میں سوئس کمپنیوں کاشمار ہو تاہے جن میں اے بی بی ،نیسلے،کلیریئنٹ،سولزر و دیگرقابل ذکر ہیں۔

سوئس قونصل جنرل نے پاکستانی تاجروںکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ وہ سوئٹزر لینڈ کے لیے ٹیکسٹائل و زرعی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھائیں ۔انہوںنے انسانی وسائل کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے حوالے سے بیشہ وارانہ خدمات کے لیے پاک سوئس کونسل کے کردار کوبھی سراہا۔انہوںنے اس موقع پر یہ بھی بتایاکہ سوئٹزرلینڈ نے حال ہی میں شیجنگ معاہدہ بھی طے کیا ہے لہٰذا اب شیجنگ ویزہ رکھنے والے پاکستانی سوئٹزرلینڈ کا دورہ کرسکتے ہیں سوئس سفارتخانہ اور قونصلیٹ ضروری کارروائی کے بعد ایک ماہ میں ویزہ جاری کرسکتا ہے۔قبل ازیں پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے)کے وائس چیئرمین ندیم آفتاب اور ای سی ممبران نے سوئس قونصلر جنرل کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کی حکومتوں اورعوام کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات پرمسرت کااظہار کیا۔ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین ندیم آفتا ب نے کہاکہ پاک سوئس دوطرفہ تجارتی تعلقات ماضی میں کبھی کمزور نہیں پڑے اورگزشتہ 6دہائیوں سے دونوں ممالک شاندار معاشی تعلقات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں روایتی دوستانہ و سیاسی تعلقات نے ایک بامقصد اقتصادی تعاون کی بنیاد رکھی۔ندیم آفتاب نے سوئس قونصل جنرل کی توجہ ٹیکسٹائل،کیمیکل مصنوعات،پھل و تازہ جوسز ،زرعی مصنوعات،سرجیکل و اسپورٹس آئٹمزکی برآمدات کے حوالے سے وسیع مواقعوں کی جانب مبذول کرائی۔انہوںنے سوئس قونصل جنرل سے تعاون طلب کرتے ہوئے کہاکہ وہ سوئس کمپنیوں کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کریں تاکہ باہمی کاروبار و تجارتی سرگرمیوں کو تیز کیاجاسکے۔انہوںنے سوئٹزرلینڈ کے عالمی تجارتی میلے میں پاکستانی تاجروں کی شرکت اوروفود کے تبادلے کی تجویز بھی دی۔

مزید :

کامرس -