پنجاب میں لوکاٹ کے پھل سے سالانہ 4414 ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے

پنجاب میں لوکاٹ کے پھل سے سالانہ 4414 ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے

  

 فیصل آباد(آن لائن) پنجاب میں لوکاٹ کے پھل کا زیر کاشت رقبہ 814 ہیکٹرز ہے جس سے سالانہ 4414 ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اگر کاشتکار اس کی کاشتکاری پر توجہ دیں تو اس میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زرعی ماہرین نے آن لائن کو بتایا کہ لوکاٹ ایک سدا بہار پھلدار پودا ہے ۔پاکستان میں اس کی کاشت بنیادی طور پر خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں ہو رہی ہے۔ مردان، پشاور، ہزارہ اور راولپنڈی ڈویژن میں لوکاٹ کی کاشت تجارتی پیمانے پر کی جاتی ہے۔لوکاٹ معتدل آب و ہوا میں اچھی طرح نشوونما پاتا ہے۔ یہ گرم خشک ہوا برداشت نہیں کر سکتا۔ پھل کی بڑھوتری کے دوران سخت دھوپ اور گرم ہوائیں اس کے پھل کی جسامت پر برا اثر ڈالتی ہیںجس کی وجہ سے پھل یا تو بہت چھوٹا رہ جاتا ہے یا پھر اچھی طرح سے نہیں پکتا ۔ لوکاٹ سایہ دار جگہ میں بھی ہو سکتا ہے اس لئے اس کو عارضی پودے کے طور پر دوسرے پھلدار پودوں میں لگایا جا سکتا ہے۔لوکاٹ کے لئے زرخیز میرا زمین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو بہتر رہتی ہے کیونکہ ایسی زمین میں یہ خوب پھلتا پھولتا ہے۔ چکنی اور ریتلی زمینوں میں اسے کاشت نہیں کرنا چاہیے۔ زمین کی نچلی سطح میں کنکر، پتھر وغیرہ نہیں ہونے چاہئیں۔لوکاٹ کی افزائش نسل کے لئے عمدہ قسم کے پودے کا پکا ہوا پھل منتخب کر کے اس میں سے بیج نکال کر اسے کیاریوں یا گملوں میں بو دیا جاتا ہے، بیج کو زیادہ گہرا نہیں بونا چاہیے۔ بیج کے اچھے اگاﺅ کے لئے ان کیاریوں اور گملوں میں نمی برقرار رکھی جاتی ہے۔

عام حالات میں بیجوں کو اگنے کے لئے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ بیج کو گملوں میں بونا زیادہ بہتر ہے کیونکہ ان کو گرم ہواﺅں اور بارش سے محفوظ کرنا آسان ہے۔ لوکاٹ کے چھوٹے پودوں کو 10 سے 15 کلوگرام گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈالنی چاہیے ۔پانی کا وقفہ ایک سے ڈیڑھ ہفتے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی باغ میں کھڑا رہے تو پودوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ سردی کے موسم میں مہینے میں ایک دفعہ پانی دینا کافی ہوتا ہے۔

مزید :

کامرس -